01/02/2026
استاد: ایک باوقار شخصیت یا محض نظام کا غلام؟
ہمارے سماج میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت میں اضافے کے لیے مشورے دیے جارے ہیں، جو یقیناً قابل ستائش عمل ہے ۔
لیکن کبھی کبھار ایسے مشورے بھی سامنے آتے ہیں جن کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ استاد لمحہ بہ لمحہ صرف کام میں مگن رہے ، اپنی ذاتی زندگی اور آرام کو پسِ پشت ڈال دے اور دن رات کسی مشین کی طرح صرف تعلیمی سرگرمیوں کا ایندھن بنا رہے ۔
لیکن
استاد پر حد سے زیادہ دباؤ ڈالنے سے آخر فائدہ کس کا ہو رہا ہے؟ کیا واقعی اس سے تعلیم کا معیار بلند ہو رہا ہے؟ کیا طالب علم کی ہمہ جہت ترقی ہو رہی ہے؟ یا پھر یہ سارا بوجھ صرف سکول انتظامیہ/مالکان کے منافع میں اضافے کے لیے ہے؟
کبھی کبھار یوں محسوس ہوتا ہے کہ "ناصحین" استاد کو ایک باوقار انسان کے بجائے ایک 'تابع فرمان مشین' سمجھنے لگے ہیں۔ وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ استاد، سکول مالک یا پرنسپل کا زرِ خرید غلام نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید قوم کا معمار ہے۔
اصلاحات کے نام پر استاد کو جس ذہنی تناؤ اور دباؤ کا شکار کیا جا رہا ہے، وہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حد سے زیادہ کام کا بوجھ تعلیمی معیار کو تو شاید متاثر نہ کرے، لیکن ادارے کے کاروبار کو چار چاند ضرور لگا دیتا ہے۔
استاد کو مفید مشورے ضرور دیں ، مگر اس کے وقار اور انسانی حقوق کی قیمت پر نہیں ۔ جب استاد کی اپنی عزتِ نفس محفوظ نہیں ہوگی اور وہ ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہوگا، تو وہ نسلوں کی تربیت کا حق کیسے ادا کر سکے گا؟
وقت آگیا ہے کہ صرف 'کارکردگی' کی بات نہ کی جائے ، بلکہ اساتذہ کے حقوق اور ان کے پیشہ ورانہ وقار کے لیے بھی بھرپور آواز اٹھائی جائے ۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا جدید تعلیمی ڈھانچہ استاد کی شخصیت کو نگل نہیں رہا ہے؟
۔