29/05/2026
پاکستان آرمی کے صفِ اول کے پروفیشنل اور آپریشنل کمانڈرز میں شمار ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری اس وقت پشاور میں پاکستان آرمی کے اہم ترین فارمیشنز میں سے ایک 11 کور XI Corps کے کور کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے 17 مئی 2024 کو اس اہم ذمہ داری کا چارج سنبھالا۔ 11 کور کا دائرۂ کار خیبرپختونخوا، قبائلی اضلاع، وزیرستان اور افغانستان سے ملحق سرحدی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف مسلسل آپریشنز جاری رہتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کا تعلق ایک معزز فوجی گھرانے سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی، جبکہ بعد ازاں پاکستان ملٹری اکیڈمی PMA کاکول سے گریجویشن مکمل کی۔
1991 میں انہوں نے 22 بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کے باعث 84ویں PMA لانگ کورس میں Sword of Honour حاصل کیا، جو پاکستان ملٹری اکیڈمی کا سب سے بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے اور بہترین کیڈٹ کو دیا جاتا ہے۔
اپنے طویل فوجی کیریئر کے دوران انہوں نے متعدد اہم کمانڈ اور اسٹاف تقرریوں پر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے 333 انفنٹری بریگیڈ کی کمان لائن آف کنٹرول پر کی، جہاں بھارتی افواج کے مقابل محاذی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں جی ایچ کیو میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMO) کے طور پر ملک بھر میں فوجی آپریشنز کی پلاننگ اور کوآرڈینیشن کے فرائض انجام دیے۔
لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری نے ڈی جی سندھ رینجرز کی حیثیت سے کراچی اور سندھ میں امن و امان کی بحالی، انسدادِ دہشت گردی اور رینجرز آپریشنز کی قیادت بھی کی۔ اس کے علاوہ وہ کمانڈنٹ PMA کاکول بھی رہے، جہاں انہوں نے پاکستان آرمی کے مستقبل کے افسران کی تربیت اور کردار سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
مئی 2024 سے بطور کور کمانڈر 11 کور، انہوں نے خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کی نگرانی کی۔ ان کی قیادت میں شمالی وزیرستان، خیبر اور سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر اور فتنہ خوارج کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رہیں، جن میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کو پاکستان آرمی میں ایک نہایت پروفیشنل، دلیر اور تجربہ کار انفنٹری افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کیریئر فیلڈ کمانڈ، آپریشنل ذمہ داریوں اور قومی سلامتی سے متعلق حساس تعیناتیوں پر مشتمل رہا ہے، جس نے انہیں پاکستان آرمی کے ممتاز ترین کمانڈرز میں شامل کر دیا ہے۔