بنگہ حیات ضلع پاکپتن

بنگہ حیات ضلع پاکپتن امر بالمعروف و نہی عن المنکر

04/06/2026
02/06/2026

Samsung s22 ultra koi dost use kr rha hai to please apna experience share kr den.Heat ya Hang to nhi hota?
31/05/2026

Samsung s22 ultra koi dost use kr rha hai to please apna experience share kr den.
Heat ya Hang to nhi hota?

پاکستان بھر میں موبائل سروسز کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ مسلسل لوڈ شیڈنگ کے باعث موبائل ٹاورز (بی ٹی ایس) بند ہونے سے...
31/05/2026

پاکستان بھر میں موبائل سروسز کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ مسلسل لوڈ شیڈنگ کے باعث موبائل ٹاورز (بی ٹی ایس) بند ہونے سے سگنلز غائب ہو چکے ہیں اور انٹرنیٹ کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اور ٹیلی کام کمپنیاں اس سنگین مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے میں تاحال ناکام نظر آتی ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام صارفین کا ہو رہا ہے، جن کے مہنگے انٹرنیٹ اور کال پیکیجز استعمال کیے بغیر ہی ضائع ہو رہے ہیں۔
کیا آپ کے علاقے میں بھی سگنلز کا یہی مسئلہ ہے؟ اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔

کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی دکان پہ گئے ہوں وہاں آپ نے پیسے دیئے ہوں اور ان پیسوں کے بدلے کوئی چیز لیے بغیر واپس آ گئے ہو...
30/05/2026

کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی دکان پہ گئے ہوں وہاں آپ نے پیسے دیئے ہوں اور ان پیسوں کے بدلے کوئی چیز لیے بغیر واپس آ گئے ہوں کہ چلیں چھوڑیں دکاندار کی مرضی نہیں دی تو نہیں دی ہم کیا کر سکتے ہیں کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس گئے ہوں ہزار دو ہزار فیس جمع کروائی ہو اور بات ڈاکٹر کی مرضی پہ چھوڑ دی ہو کہ چیک کر لیا تو کر لیا نہیں تو کوئی بات نہیں یا پھر کسی مزدور کو پوری دیہاڑی دے کر کام اس کی مرضی پہ چھوڑ دیا جائے کہ چلیں جتنا آپ کا دل کرتا ہے کر دیں یقیناً ایسا نہیں ہو سکتا ہم پیسوں کے بدلے میں سروسز لیتے ہیں اور ان پیسوں کے بدلے ہی اشیاء خریدتے ہیں لیکن پاکستان میں ایک شعبہ ایسا بھی ہے جہاں آپ سے پیسے تو لے لیے جاتے ہیں لیکن خدمات نہیں دی جاتیں جانتے ہیں وہ کون سا شعبہ ہے جی یہ پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر ہے یہاں پاکستان کی مجبور و بے بس عوام سے مہنگے پیکیجیز کے نام پہ ہزاروں روپے بٹور لیے جاتے ہیں لیکن جب سروسز دینے کی باری آتی ہے تو کسٹمرز بیچارے ذلیل و خوار ہوتے ہیں کچھ نہیں ملتا ان کی ہٹ دھرمی ملاحظہ فرمائیں کہ جب کبھی کسٹمرز کو انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ عید تہوار وغیرہ یہ ٹیلی کام کمپنیاں سروسز دینے سے قاصر ہوتی ہیں اور Congestion کا بہانہ بنا کر کسٹمرز کو ذلیل کرتی رہتی ہیں ان کے اوپر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی صارفین کے حقوق کی بات کرنے والا نہیں ایسا لگتا ہے ان کمپنیوں کی لوٹ مار میں سب سہولت کار بنے ہوئے ہیں عام دنوں میں بھی نہ انٹرنیٹ کی سپیڈ ٹھیک ہے ، نہ کال کوالٹی ٹھیک ہے ، نہ سروس کوالٹی ٹھیک ہے نہ سگنلز پورے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ بجلی جاتے ہی بہت سے علاقوں میں ٹاورز بند ہونے اور سگنلز ڈراپ ہونے کی شکایات عام ہیں یہاں تک کہ کسی غریب کے بیلنس میں دس روپے بھی کھڑے ہوں تو ان کی رال ٹپکنے لگتی ہے حیلے بہانوں سے ایسی ایسی سروسز لگا کر بیلنس کاٹ لیں گے جن کا نام بھی آپ کے خواب و خیال میں نہ ہوگا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کمپنیاں اور ان کے اوپر حکومتی اتھارٹیز صارفین کو خدمات دینے سے ہی قاصر ہیں تو پیکیجیز کی مد میں اتنے پیسے کیوں وصول کیے جا رہے ہیں عوام کو چاہیے یا تو اپنے اس حق کے لیے آواز بلند کریں یا ان کا بائیکاٹ کریں تاکہ اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالا جا سکے اور صارفین کی حق تلفی نہ ہو
سعید فاروقی

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد مالک کا کہنا تھا کہ بجلی کے بحران کا معاملہ دہائیوں تک پھیل چکا ہے۔ ...
29/05/2026

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد مالک کا کہنا تھا کہ بجلی کے بحران کا معاملہ دہائیوں تک پھیل چکا ہے۔
1994 سے اب تک بے نظیر ، نواز شریف اور پرویز مشرف نےاس حوالے سے کام کیا۔
پروجیکشن کے نام پر اضافی بجلی بنائی گئی، جو بک نہیں رہی، رپورٹس کے مطابق مانگ میں بھی کمی آئی ہے۔ ہمارے پاس بجلی کی انسٹالڈ کیپسٹی 40 ہزار میگاواٹ جبکہ 35 ہزار ہر وقت دستیاب ہوتی ہے گرمیوں میں جب بجلی کی کھپت پیک پہ ہوتی ہے تب بھی ہمارے پاس 7 ہزار میگاواٹ جبکہ سردیوں میں 8 ہزار بچ جاتی ہے اس کے باوجود حکومت 57 ارب ڈالر خرچ کر کے مزید 26 ہزار میگاواٹ ایڈ کرنا چاہتی ہے

Address

Bunga Hayat
Pakpattan
57400

Telephone

+923451234567

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بنگہ حیات ضلع پاکپتن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to بنگہ حیات ضلع پاکپتن:

Share