01/04/2026
دنیا کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ لوگ دشمنوں سے ہارتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنوں کی بے رحمی سے مٹ گئے ہیں۔ ہم اکثر باہر کی دیواریں تو مضبوط کر لیتے ہیں، مگر ان خنجروں کا کیا کریں جو ان ہاتھوں نے گھونپے ہوتے ہیں جنہیں ہم نے چومنا سیکھا تھا۔ یہ دنیا ایسے زخموں سے بھری پڑی ہے جن کا جسم تو سلامت ہے، مگر ان کی روح اپنوں کی دی ہوئی وحشتوں اور بے اعتنائیوں سے چھلنی ہو چکی ہے۔
وہ زخم جو غیر دیں، وہ تو وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں، لیکن جو کرب اپنوں کی زبان اور رویوں سے ملتا ہے، وہ انسان کو اندر سے بنجر کر دیتا ہے۔ درحقیقت، انسان کو جتنا دکھ اپنوں کی ایک تلخ بات دیتی ہے، اتنا صدمہ دشمن کی پوری تلوار بھی نہیں پہنچا سکتی۔ ہم جن رشتوں کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے ہیں، جب وہی وحشت کا بازار گرم کر دیں تو انسان کا اعتبار بھی رشتوں سے اٹھ جاتا ہے۔
یہ چبھتی ہوئی دل اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہم نے جن پر سب سے زیادہ اعتبار کیا، انہوں نے ہی ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ آج ہر دوسرا شخص اپنے سینے میں وہ چیخیں دبائے بیٹھا ہے جو اس کے اپنوں نے اسے تحفے میں دی ہیں۔ یاد رکھئے، دنیا کی کوئی دشمنی اتنی مہلک نہیں ہوتی جتنا وہ وار ہوتا ہے جو محبت کے لبادے میں کیا جائے
#2026