28/08/2025
*یہ ویڈیو اہلیان پیل کے استفادہ اور مفاد عامہ کی معلومات کے لیے اپلوڈ کی جارہی ہے* ۔
اس ویڈیو کے مطابق بھال گاوں تحصیل کلر کہار میں ایم پی اے ملک تنویر اسلم کی جانب سے گاوں کی واٹر سپلائی کے لیے سولر پینل لگایا گیا ہے۔ جس کے مطابق 48 سولر پینل کے زریعے واٹر سپلائی کو واپڈا سے کنورٹ کر کے سولر انرجی ہر منتقل کیا گیا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ ہم اس سسٹم کے زریعے پوری طرح دھوپ سے فائدہ اٹھائیں گے تاکہ ہمارے بجلی کے اخراجات کم سے کم ہوں اور عوام پر بل کا بوجھ کم ہو سکے۔
نیز سب سے اہم اور قابل غور نکتہ یہ تھا کہ
انکا بل واپڈا پر 400 روپے ہے اور اب سولر پر منتقل ہونے کے بعد وہ اس بل کو مزید کم کر کے اپنی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں۔
مزید یہ کہ ہمارے پڑوسی گاوں پدھراڑ میں واٹرسپلائی پروجیکٹ سولر انرجی پر پوری کامیابی سے چل رہے ہیں اور عوام کو پانی کی بہترین سہولت کے ساتھ ساتھ مالی ریلیف بھی دے رہے ہیں۔
جبکہ میرے پیارے، راج دلارے، آنکھوں کے تارے ، دل کے سہارے ،
*گاوں پیل*
کے حسین نظارے ، ہر کام میں سُکے ( خشک ) لارے ،
سڑکیں اور روڈ بنجارے ، دکھوں اور تکلیفوں کے وڈے وڈے کھلارے ۔
*اب آتے ہیں اصل مدعے پر* ۔
جہاں ساری دنیا سورج کی روشنی سے بھرپور استفادہ کر رہی وہاں ہم اس سے محروم کیوں ہیں۔ آئیں اسکی تفصیل میں چلتے ہیں۔
پیل واٹر سپلائی کو عام انتخابات میں عوام کے مشترکہ مطالبے کے بعد سولر پینل دئیے گئے ۔ جس کے تحت 42 پینل نصب کیے گئے۔ اور مکمل سسٹم لگایا گیا۔
اسکے بعد میرے انتہائی قابل احترام بھائی *نمبردار پیر جہانگیر شاہ صاحب* کے برادرمکرم *بھائی پیر سید امیر شاہ صاحب* نے گاوں کی عوام کے لیے مزید سولر پینل عطیہ کیے۔ وہ آج اپنے خالق حقیقی کے پاس ہیں ۔ اللہ کریم انکی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور انکے لیے توشئہ آخرت بنائے۔ آمین۔
58 سولر پینل نصب ہونے کے بعد بھی پیل واٹر سپلائی عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔
نہ تو بل کم ہوا ۔ نہ ہی پانی فراہم کرنے کی روٹین میں قابل زکر تبدیل ہوئی۔ پہلے تین دن چھوڑ کر چوتھے دن پانی آتا تھا ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے یہ تبدیلی آئی کہ پانی دوسرے دن فراہم کیا جا رہا۔ مگر اصل مقصد 58 سولر پلیٹ نصب ہونے کے بعد بھی عوام کسی بھی ریلیف سے محروم ہے۔
میری واٹر سپلائی کمیٹی کے ارباب اختیار اور اپنے بڑے بھائی کمیٹی چئیرمین پیر گلبہار شاہ صاحب سے عاجزانہ گزارش ہے کہ
ان وجوہات پر غور فرمائیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پیل واٹر سپلائی ایک بڑا سولر سسٹم رکھنے کے باوجود سورج کی روشنی سے استفادہ کیوں نہیں کر پا رہی۔
بجلی استعمال کے ٹائمنگز کو ایڈجسٹ کیا جائے۔
پیک ہاور ٹائمنگز میں موٹریں نہ چلائی جائیں۔
زیادہ سے زیادہ سولر کے زریعے اور سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھایا جائے۔
نادہندگان کے پریشر میں آئے بغیر ایک بل نہ جمع ہونے پر ٹھیک ٹھاک وارننگ دی جائے جنکہ دوسرے بل کی عدم آدائیگی پر کنکشن کاٹ دیا جائے۔
مستقل نادہندگان کی لسٹیں پبلک کریں۔ جو اسوقت کئی ہزاروں روپے کے واٹر سپلائی کے مقروض ہیں انکو سامنے لایا جائے۔ تاکہ نام نہاد شرفاء اور پارسائی کا بھرم ٹوٹے۔
واٹر سپلائی کو خالصتا" عوام کی امانت سمجھ کر کسی بڑے چھوٹے ، ملک ، اعوان ، پیر ، سید ، شاہ ، چودھری وڈیرے کے پریشر میں آئے بغیر دلیری کے ساتھ چلائیں۔
جب ہر طرف سولر سسٹم کامیاب بھی ہے اور عوام کو فائدہ بھی دے رہا تو آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم کیوں کامیاب نہیں ہے۔
ماہانہ 800روپے بل اس ایریا میں تمام واٹرسپلائیوں کے بل سے سب سے زیادہ ہے۔ ( جبکہ اوپر ویڈیو میں بھال گاوں کا واپڈا پر چلتے ہوئے واٹر سپلائی بل 400 روپے ہے۔ اور پیل کا 58 سولر پینل کے باوجود 800 ہے اور پانی بھی ریگولر ڈیلی نہیں آتا ) یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ اس پر خلوص نیت سے توجہ دی جائے۔
اگر پوری طرح کسی منظم طریقہ کار کے تحت پرفیشنل لوگوں سے ڈسکس کر کے اس سسٹم کو چلایا جائے تو یقینا" یہ سولر سسٹم بھی کامیاب ہو سکتا اور عوام کو ریلیف دے سکتا۔
میری اس تحریر کو تنقید برائے تنقید کے زمرے میں نہ لیا جائے۔
بلکہ میں نے انتہائی احترام کے ساتھ واٹرسپلائی سکیم کے منتظمین کے سامنے چند گزارشات رکھی ہیں۔
امید ہے مثبت زہن اور مثبت سوچ کے ساتھ مجھے برا بھلا کہنے کے بجائے ان پر عمل درآمد کیا جائے تو انشااللہ عوام کو ریلیف بھی ملے گا۔ سسٹم بھی بہتر ہو گا اور عوام آپکو بھرپور دعائیں بھی دے گی۔
نیز جن لوگوں نے جس جذبے اور بھلائی کے ارادے کے تحت یہ سسٹم دیا ہے وہ بھی اس کام سے مطمئن یوں گے۔ اور ہمارے پیارے بھائی پیر سید امیر شاہ صاحب کی روح یقینا" مطمئن ہو گی۔
( تحریر ۔ ملک احمد نواز اعوان )