Safe City Okara

Safe City Okara Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Safe City Okara, Government Organization, Safe City, Okara (DPO Office), Okara.

Safe City Okara Project is an initiative led by the Punjab Safe Cities Authority (PSCA) to enhance public safety and security through technology and data-driven approaches.

05/06/2026

یہ بچی علیزہ ہے، جو سال 2017 میں تقریباً 5 سال کی عمر میں اوکاڑہ سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔

علیزہ اپنے والد کا نام سجو بتاتی ہے، جبکہ سوتیلے والد کا نام عمران ہے، جو اوکاڑہ کے کسی چک میں دودھ دہی کا کام کرتے ہیں۔ بچی اپنی والدہ کا نام پروین بتاتی ہے۔

علیزہ کے مطابق وہ 7 بہن بھائی ہیں۔ اس کی بہنوں کے نام منیزہ، مینا اور اقصیٰ ہیں، جبکہ بھائیوں کے نام علی حسن، حسنین اور حمزہ ہیں۔

اگر آپ علیزہ یا اس کے خاندان کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں، یا اوکاڑہ کے کسی ایسے چک کو جانتے ہیں جہاں عمران نامی شخص دودھ دہی کا کام کرتا ہو، تو براہِ کرم میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کریں۔ آپ کا تعاون ایک بچی کو اس کے خاندان سے ملوا سکتا ہے۔
Case ID: 136989931
Contact: 03090000015
Safe City Okara

واللہ المستعانیہ کہانی ہے زینب طالب کی، ایک معصوم بچی کی جو سال 2022 میں تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے سے لاوارث حالت...
03/06/2026

واللہ المستعان
یہ کہانی ہے زینب طالب کی، ایک معصوم بچی کی جو سال 2022 میں تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔
ابتدائی طور پر بچی اپنی مکمل شناخت، گھر یا اہلِ خانہ کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھی۔ بچی کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی سینٹر لاہور منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ محفوظ ماحول میں رہی، مگر اپنے گھر اور پیاروں سے دوری کا درد اس کے ساتھ رہا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس کو لیا۔ ٹیم نے ابتدائی طور پر مختلف ذرائع سے ورثاء کی تلاش شروع کی،
وقت گزرتا گیا، مگر ٹیم کی کوششیں جاری رہیں۔ بچی سے تفصیلی بات چیت کی گئی اور اس کی فراہم کردہ معمولی معلومات کو بھی انتہائی باریکی سے جانچا گیا۔ انہی کوششوں کے دوران بچی کی بتائی گئی معلومات کی بنیاد پر ٹیم اسے تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے میں لے کر گئی، جہاں مزید تحقیقات اور فیلڈ ورک کیا گیا۔ میرا پیارا ٹیم نے بچی کی دی گئی معلومات سے اس کے ورثاء کی تلاش جاری رکھی۔
اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص کرم فرمایا… دن رات کی محنت، مختلف ذرائع اور مسلسل رابطوں کے بعد آخرکار بچی کے اہلِ خانہ تک رسائی حاصل کر لی گئی۔ تصدیق کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ بچی زینب طالب ہی ہے، جو 2022 سے اپنے خاندان سے بچھڑی ہوئی تھی۔ یہ خبر اس کے خاندان کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھی۔ برسوں کی بے چینی، انتظار اور دعاوں کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت میں بدل گئی۔ آخرکار وہ دن آیا جب زینب کو اس کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ ملاقات کا لمحہ انتہائی جذباتی تھا.
یہ صرف ایک بچی کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی مکمل ہونے والی کہانی تھی، ایک خاندان کی بکھری ہوئی دنیا کے دوبارہ جڑنے کا لمحہ تھا۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل، “میرا پیارا” ٹیم کی مسلسل محنت اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کا نتیجہ ہے۔
الحمدللہ!

ڈی ایس پی آئی سی تھری کا سیف سٹی اوکاڑہ کا اہم دورہ! ✨اوکاڑہ میں امن و امان کی صورتحال اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مضبو...
03/06/2026

ڈی ایس پی آئی سی تھری کا سیف سٹی اوکاڑہ کا اہم دورہ! ✨
اوکاڑہ میں امن و امان کی صورتحال اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ڈی ایس پی آئی سی تھری نے پی پی آئی سی تھری (PPIC3) اوکاڑہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مینیجر سیف سٹی اور دیگر افسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔
میٹنگ کے دوران شہر کی سیکیورٹی، لائیو سرویلنس اور فیلڈ آپریشنز کے تمام معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈی ایس پی صاحب نے جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دن رات کام کرنے والے تمام افسران کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور ان کے جذبے کی تعریف کی۔ انہوں نے ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے لیے کارکردگی کو ہمیشہ اسی طرح بہترین اور تیز تر رکھا جائے۔ ہماری ٹیم آپ کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ الرٹ ہے!

02/06/2026

ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ

02/06/2026

#ماں تم کہاں تھی؟ یہ الفاظ اس معصوم اسپیشل بچے چانڈیو کے تھے جب میرا پیرا ٹیم نے اس کی ماں سے واپس ملوایا ۔۔۔۔
یہ وہ معصوم سوال تھا جو دو سال بعد اپنی ماں سے ملنے والے سپیشل بچے چانڈیو نے بھرائی ہوئی آواز میں کیا۔ چند لفظوں پر مشتمل یہ سوال اپنے اندر جدائی کے دو طویل سال، ایک بچے کی بےبسی اور ایک ماں کے کرب کی پوری داستان سموئے ہوئے تھا۔
چانڈیو دو سال قبل اپنے گھر سے بچھڑ گیا تھا۔ وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں بدل گئیں، مگر ایک ماں کے دل میں اپنے بچے کی واپسی کی امید کبھی مدھم نہ پڑی۔ ہر گزرتا دن اس کے لیے ایک نئی آزمائش تھا اور ہر رات اپنے لختِ جگر کی سلامتی کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی تھی۔
جب چانڈیو "میرا پیارا" ٹیم کی تحویل میں آیا تو اس کی شناخت معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ تاہم اپنی ذہنی کیفیت اور معصومیت کے باعث وہ اپنے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہ کر سکا۔ گفتگو کے دوران وہ بار بار صرف ایک لفظ دہراتا رہا:
"چانڈیو"
یہی لفظ اس کی شناخت تک پہنچنے کا پہلا سراغ ثابت ہوا۔
محدود معلومات کے باوجود "میرا پیارا" ٹیم نے تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔ بچے کی ویڈیو اور دستیاب معلومات کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا گیا تاکہ شاید کوئی اس معصوم چہرے کو پہچان سکے۔ بظاہر امکانات کم تھے، لیکن کوشش جاری رہی۔
اسی دوران یہ ویڈیو ایک ایسی ماں تک پہنچی جو گزشتہ دو برس سے اپنے بیٹے کی جدائی کا دکھ سہہ رہی تھی۔ ویڈیو دیکھتے ہی اس نے اپنے بچے کو پہچان لیا۔ اس ایک لمحے نے امید، انتظار اور بے یقینی کے درمیان کھڑی طویل مسافت کو سمیٹ دیا۔
ضروری تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ماں اور بیٹے کی ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ جب وہ ایک دوسرے کے سامنے آئے تو جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہ رہا۔ ایک طرف ماں تھی جس کی دعائیں رنگ لا چکی تھیں اور دوسری طرف ایک معصوم بچہ تھا جسے برسوں بعد اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ واپس مل گئی تھی۔
ماں نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا تو آنکھوں سے بہنے والے آنسو دو سالہ جدائی کی خاموش داستان سنانے لگے۔ اسی لمحے چانڈیو نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور معصومیت سے پوچھا:
"تم کہاں تھی؟"
یہ سوال سن کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ نم ہو گئی، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ ماں کہیں نہیں گئی تھی؛ وہ تو دو سال سے اپنے بچے کی واپسی کے انتظار میں ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔
یہ محض ایک گمشدہ بچے کی بازیابی کی کہانی نہیں، بلکہ امید، مسلسل کوشش، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کی ایک ایسی مثال ہے جو اس یقین کو مضبوط کرتی ہے کہ مخلصانہ کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
الحمدللہ، ایک اور بچھڑا ہوا بچہ اپنے خاندان تک پہنچ گیا۔
“میرا پیارا ٹیم” کا مشن ہے کہ کوئی بھی گمشدہ بچہ تنہا نہ رہے۔
ہر ماں کو اُس کا بیٹا، ہر بہن کو اُس کا بھائی،
اور ہر گھر کو اُن کا پیارا دوبارہ مل سکے

ان شاء اللہ، واللہ المستعان
Case ID: 185061206

واللہ المستعانیہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو...
02/06/2026

واللہ المستعان
یہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔
فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو گیا اور حالات نے اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دیا۔ وہ ضلع قصور کے علاقے تھانہ صدر پتوکی سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ چونکہ وہ اپنی مکمل شناخت واضح طور پر بتانے سے قاصر تھا، اس لیے اس کے ورثاء تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔
اس کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی ہوم لاہور منتقل کیا گیا تھا.دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ دو سال سے اس کی جدائی میں بے حد پریشان تھے۔ وہ ہر ممکن جگہ اس کی تلاش کر رہے تھے، مگر کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا تھا۔ یہ ایک آسان سفر نہیں تھا، کیونکہ بچے کی شناخت واضح نہیں تھی، مگر ٹیم نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔
مختلف ذرائع استعمال کرنے کے بعد ٹیم بالآخر اس کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ یہ معلوم ہوا کہ بچہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی تھا۔خاندان سے رابطہ کیا گیا تھا، تمام معلومات کی تصدیق کی گئی تھی، اور ہر پہلو کو باریک بینی سے چیک کیا گیا تھا۔ تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ بچہ فیصل ہے، غلام جعفر کا بیٹا، جو گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھا۔
یہ لمحہ خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا تھا، کیونکہ دو سال کی جدائی کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت بن گئی تھی۔
آخرکار وہ دن آیا جب فیصل کو اس کے خاندان کے حوالے کیا گیا تھا۔
یہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی خوشیوں، ایک ماں باپ کے سکون اور ایک بکھرے ہوئے خاندان کے دوبارہ جڑنے کی کہانی تھی۔
الحمدللہ!

واللہ المستعان
یہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔

فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو گیا اور حالات نے اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دیا۔ وہ ضلع قصور کے علاقے تھانہ صدر پتوکی سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ چونکہ وہ اپنی مکمل شناخت واضح طور پر بتانے سے قاصر تھا، اس لیے اس کے ورثاء تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔
اس کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی ہوم لاہور منتقل کیا گیا تھا.دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ دو سال سے اس کی جدائی میں بے حد پریشان تھے۔ وہ ہر ممکن جگہ اس کی تلاش کر رہے تھے، مگر کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا تھا۔ یہ ایک آسان سفر نہیں تھا، کیونکہ بچے کی شناخت واضح نہیں تھی، مگر ٹیم نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔
مختلف ذرائع استعمال کرنے کے بعد ٹیم بالآخر اس کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ یہ معلوم ہوا کہ بچہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی تھا۔خاندان سے رابطہ کیا گیا تھا، تمام معلومات کی تصدیق کی گئی تھی، اور ہر پہلو کو باریک بینی سے چیک کیا گیا تھا۔ تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ بچہ فیصل ہے، غلام جعفر کا بیٹا، جو گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھا۔
یہ لمحہ خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا تھا، کیونکہ دو سال کی جدائی کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت بن گئی تھی۔
آخرکار وہ دن آیا جب فیصل کو اس کے خاندان کے حوالے کیا گیا تھا۔
یہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی خوشیوں، ایک ماں باپ کے سکون اور ایک بکھرے ہوئے خاندان کے دوبارہ جڑنے کی کہانی تھی۔
الحمدللہ!

31/05/2026

واللہ المستعان
یہ کہانی ہے ننھے علی حسن کی… چار سال پہلے، علی حسن اپنے گھر لاہور کے علاقے رائیونڈ سے باہر نکلا اور راستہ بھول گیا۔
بچہ بھٹکتے بھٹکتے ساہیوال پہنچ گیا، جہاں ایک ہمدرد شہری نے اسے لاوارث حالت میں دیکھا اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو ساہیوال کے حوالے کر دیا تاکہ اس کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
ادھر اس کے گھر میں قیامت سی کیفیت تھی۔ ایک ماں کے لیے بچے کی جدائی کسی قیامت سے کم نہیں ہوتی…
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی “میرا پیارا” ٹیم نے اس بچے علی حسن کا تفصیلی انٹرویو کیا گیا تاکہ کوئی پہچان ممکن ہو سکے۔ اس کے بعد اس کی ویڈیو “میرا پیارا” کے آفیشل فیس بک پیج پر شیئر کی گئی، اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی اسے دیکھ لے… شاید کوئی دل دھڑک اٹھے… شاید کوئی اسے پہچان لے۔
اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ ویڈیو علی حسن کے والد محمد پرویز تک پہنچی۔ جیسے ہی انہوں نے بچے کو دیکھا، فوراً پہچان لیا کہ یہ ان کا بچھڑا ہوا بیٹا ہے۔ چار سال کی جدائی ایک لمحے میں یقین میں بدل گئی۔ فوراً میرا پیارا ہیلپ لائن سے رابطہ کیا گیا۔
میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر تصدیقی عمل شروع کیا۔ بچے کی تمام معلومات، والد کی تفصیلات اور دستیاب ریکارڈ کو باریک بینی سے چیک کیا گیا۔ ہر پہلو سے اطمینان کے بعد یہ تصدیق ہو گئی کہ یہ بچہ واقعی علی حسن ہی ہے۔
اور پھر وہ لمحہ آیا…
چار سال بعد علی حسن اپنے خاندان سے دوبارہ مل گیا۔
جب ماں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو تھم نہ سکے… یہ آنسو درد کے نہیں تھے، بلکہ صبر کے بدلے ملی ہوئی خوشی کے تھے۔ ماں نے بیٹے کو سینے سے لگایا.یہ منظر صرف ایک ملاقات نہیں تھا… ایک دعا کا قبول ہونا تھا، اور ایک بچھڑے ہوئے رشتے کا دوبارہ جڑ جانا تھا۔
ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ
یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل، “میرا پیارا” ٹیم کی مسلسل محنت اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کا نتیجہ ہے۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا یہ مشن جاری ہے کہ کوئی بھی گمشدہ بچہ، اسپیشل فرد یا بزرگ اپنے پیاروں سے دور نہ رہے۔
ہر ماں کو اس کا بیٹا، ہر بہن کو اس کا بھائی اور ہر گھر کو اس کا سکون واپس ملے… ان شاءاللہ۔

31/05/2026

یہ دو بچیاں جو 2010 میں پتوکی، قصور سے لاوارث ملی تھیں۔
بڑی بچی کا نام نازیہ ہے اور والد کا نام کرامت بتایا جاتا ہے۔ 2010 میں نازیہ کی عمر تقریباً 12 سے 15 سال تھی، اور نازیہ ذہنی طور پر کچھ معذور بھی تھی۔ اس وقت نازیہ کی گود میں تقریباً 3 سال کی بچی تھی، جس کا نام وہ شمیلہ بتاتی تھی۔
نازیہ بتاتی ہے کہ اس کی والدہ لاہور میں مٹی کے مٹکے بنانے کا کام کرتی تھیں۔
اگر آپ نازیہ اور شمیلہ کے خاندان کو جانتے ہیں تو براہِ کرم میری پیاری ٹیم سے رابطہ کریں، یا اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ بچیاں اپنے خاندان تک پہنچ سکیں۔
واللہ المستعان۔
31-05-2026
217058726 Nazia
137522791 Shumaila

30/05/2026

بولنے اور سننے سے قاصر ننھے #ارشد کی ایک سال کی جدائی کے بعد اپنے والد سے ملاقات!
کبھی کبھی زندگی ایسے امتحان لیتی ہے جن کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے۔ ایک معصوم بچہ جو نہ بول سکتا ہو، نہ سن سکتا ہو، اور نہ ہی اپنے گھر کا مکمل پتہ بتا سکتا ہو، اگر اپنے خاندان سے بچھڑ جائے تو اس کے والدین پر کیا گزرتی ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں۔ یہ کہانی ایسے ہی ایک ننھے بچے ارشد کی ہے۔
ارشد ایک سات سالہ اسپیشل بچہ تھا جو بولنے اور سننے سے قاصر تھا۔ وہ صرف اشاروں کی زبان کے ذریعے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا تھا۔ اگست 2025 کی ایک صبح، یہ معصوم بچہ تھانہ صدر واہ کینٹ کے علاقے سے لاوارث حالت میں ملا۔ بچے کی حالت دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ اپنے گھر والوں سے بچھڑ چکا ہے، مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ نہ اپنا مکمل نام بتا سکتا تھا، نہ گھر کا پتہ اور نہ ہی اپنے خاندان کے بارے میں واضح معلومات فراہم کر سکتا تھا۔
بچے کی حفاظت اور بہتر نگہداشت کو یقینی بنانے کے لیے یکم اگست 2025 کو اسے چائلڈ پروٹیکشن بیورو راولپنڈی منتقل کر دیا گیا۔ وہاں پہنچتے ہی میرا پیارا راولپنڈی ٹیم نے اس کے اہلِ خانہ کی تلاش کا آغاز کر دیا۔ ٹیم جانتی تھی کہ ہر گزرتا دن بچے اور اس کے والدین کے لیے تکلیف میں اضافہ کر رہا تھا، اس لیے تلاش کا عمل فوری طور پر شروع کیا گیا۔

ابتدائی دنوں میں ٹیم نے اس مقام کے اردگرد متعدد فیلڈ وزٹس کیے جہاں سے ارشد ملا تھا۔ مقامی لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی، مختلف علاقوں میں معلومات اکٹھی کی گئیں اور ممکنہ سراغ تلاش کیے گئے، لیکن کوئی ایسی معلومات نہ مل سکیں جو بچے کو اس کے خاندان تک پہنچا سکتیں۔
اس کے بعد میرا پیارا ٹیم نے ارشد کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ چونکہ وہ بول اور سن نہیں سکتا تھا، اس لیے اشاروں اور حرکات کے ذریعے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ اس انٹرویو کی ویڈیو میرا پیارا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی تاکہ اگر کوئی شخص بچے کو پہچانتا ہو تو آگے آ کر معلومات فراہم کر سکے۔ ہزاروں افراد نے ویڈیو دیکھی، اسے شیئر کیا اور دعائیں کیں، مگر خاندان تک رسائی کا کوئی راستہ نہ مل سکا۔
بعد ازاں میرا پیارا ٹیم نے ارشد کا دوبارہ انٹرویو ایک سائن لینگویج ایکسپرٹ کی مدد سے کروایا تاکہ اس کے اشاروں کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ اس عمل کے نتیجے میں ارشد کی بات سمجھنے میں نمایاں بہتری آئی اور امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی۔
چند ماہ بعد ارشد کا دوبارہ تفصیلی انٹرویو کیا گیا۔ اس مرتبہ اس کے اشاروں کی مدد سے معلوم ہوا کہ اس کے والد کا نام حمزہ خان ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے پینٹر ہیں۔
یہ معلومات اگرچہ مختصر تھیں، مگر انتہائی اہم ثابت ہوئیں۔ میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر ان معلومات کو بنیاد بنا کر دوبارہ ایک ویڈیو تیار کی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا۔
ویڈیو شیئر ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد ایک شخص کی نظر اس پر پڑی۔ ویڈیو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے فوراً اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔ وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ ارشد کا والد حمزہ خان تھا، جو اپنے بیٹے کی جدائی میں بے شمار راتیں جاگ کر گزار چکا تھا۔ ایک لمحے میں اس کی بے یقینی یقین میں بدل گئی۔ اس نے فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ویڈیو میں موجود بچہ اس کا گمشدہ بیٹا ارشد ہے۔
اس اطلاع کے بعد میرا پیارا ٹیم نے فوری طور پر تصدیقی عمل شروع کیا۔ بچے سے حاصل ہونے والی معلومات، والد کے بیان، دستیاب ریکارڈ اور دیگر شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ہر پہلو سے مکمل اطمینان کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ یہ بچہ واقعی ارشد ولد حمزہ خان ہے۔
اور پھر وہ لمحہ آ پہنچا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا۔
جب ارشد کی اپنے والد سے ملاقات کروائی گئی تو جذبات کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ننھا ارشد اپنے والد کو دیکھتے ہی ان کی طرف لپکا اور ان کے گلے سے جا لگا۔ اگرچہ وہ بول نہیں سکتا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں خوشی، سکون اور اپنائیت کے جذبات صاف دکھائی دے رہے تھے۔ دوسری طرف والد کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
ایک باپ جس نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو کھو دیا تھا، اسے دوبارہ اپنے سینے سے لگا رہا تھا۔ ایک بچہ جو ایک سال تک اپنے پیاروں سے دور رہا، بالآخر اپنے خاندان کی آغوش میں واپس پہنچ گیا۔ وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں اور ہر دل شکرگزاری کے جذبات سے بھر گیا تھا۔
یہ صرف ایک بچے کی بازیابی کی کہانی نہیں بلکہ امید، صبر، محبت اور مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت بھی ہے کہ اگر نیت نیک ہو، کوشش مسلسل ہو اور جدید ذرائع کا مثبت استعمال کیا جائے تو بچھڑے ہوئے لوگ دوبارہ اپنے پیاروں سے مل سکتے ہیں۔
الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم، میرا پیارا ٹیم کی انتھک محنت، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے تعاون اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے نتیجے میں ارشد اپنے والد سے دوبارہ مل سکا۔
یہ کامیابی میرا پیارا ٹیم کی اُن بے شمار کوششوں میں سے ایک تھی جن کے ذریعے گمشدہ بچوں اور افراد کو ان کے خاندانوں سے ملوانے میں مدد ملی۔
واللہ المستعان۔

الحمدللہ! پاکستان کے لیے ایک اور بڑا اعزاز… حکومت پنجاب کا عوامی خدمت کا منصوبہ “میرا پیارا- ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی...
30/05/2026

الحمدللہ! پاکستان کے لیے ایک اور بڑا اعزاز… حکومت پنجاب کا عوامی خدمت کا منصوبہ “میرا پیارا- ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی” اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کے زیرِ اہتمام WSIS Prizes 2026 میں دنیا کے Top 5 Champion Projects میں شامل کر لیا گیا ہے۔

یہ کامیابی صرف پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ “میرا پیارا” ایک جدید ڈیجیٹل پبلک سروس ہے جو گمشدہ بچوں، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کو اُن کے پیاروں سے ملانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

اس عالمی پذیرائی پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور عوام کے اعتماد کے ممنون ہیں۔ یہ کامیابی عوامی خدمت کے ہمارے عزم کو مزید تقویت دے گی، اور ہم ان شاء اللہ بچھڑے ہوئے بچوں، خصوصی افراد اور بزرگ شہریوں کو اُن کے خاندانوں سے ملانے کا کام پہلے سے بہتر انداز میں سرانجام دیتے رہیں گے۔

واللہ المستعان

Address

Safe City, Okara (DPO Office)
Okara
56300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safe City Okara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share