03/09/2026
چترال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش قابلِ تشویش
حالیہ دنوں ایک نکاح کے معاملے کو سوشل میڈیا پر اس انداز میں پیش کیا گیا کہ گویا اہلِ سنت برادری سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اسمائیلی لڑکے سے نکاح کیا ہے، حالانکہ معاملے کی مذہبی و خاندانی صورتحال اس قدر سادہ نہیں۔ مذکورہ لڑکی کے والد بعد میں اہلِ سنت سے وابستہ ہوئے، جبکہ والدہ کا تعلق اسمائیلی برادری سے تھا، اور لڑکی کی اپنی مذہبی وابستگی بھی اسمائیلی حلقے سے بتائی جاتی ہے۔ لہٰذا واقعے کو یک طرفہ مذہبی رنگ دینا حقائق کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا۔
چترال میں ماضی میں بھی متعدد اسمائیلی لڑکیوں کے اہلِ سنت لڑکوں سے نکاح ہوتے رہے ہیں، لیکن ان نجی معاملات کو اس انداز میں سوشل میڈیا پر اچھال کر کسی مذہبی طبقے کے خلاف اشتعال یا نفرت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ موجودہ معاملے میں بعض سوشل میڈیا پوسٹس اور تبصروں کے ذریعے جو یک طرفہ اور مبینہ طور پر گمراہ کن تاثر پیدا کیا جا رہا ہے، وہ انتہائی قابلِ تشویش ہے اور اس کے نتیجے میں غیر ضروری طور پر ایک حساس مذہبی معاملے کو فرقہ وارانہ بحث میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ہم کسی فرد کے نجی نکاح یا خاندانی معاملات میں مداخلت کے قائل نہیں، تاہم کسی نجی معاملے کو بنیاد بنا کر ایسا مواد نشر کرنا جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوں، کسی برادری کے خلاف نفرت پیدا ہو یا فرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو، قابلِ تشویش امر ہے۔
ہم ضلعی انتظامیہ اپر چترال، ضلعی انتظامیہ لوئر چترال اور متعلقہ قانونی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے قابلِ اعتراض مواد کا غیر جانب دارانہ اور حقائق پر مبنی جائزہ لیا جائے۔ اگر کسی مواد میں قانوناً قابلِ گرفت عناصر، مذہبی منافرت یا اشتعال انگیزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مقصد کسی مسلک یا مذہبی برادری کو ہدف بنانا نہیں بلکہ چترال کے پُرامن ماحول، مذہبی رواداری، باہمی احترام اور قانون کی بالادستی کا تحفظ ہے۔