سید ساحر کاظمی

سید ساحر کاظمی This page is actually a platform where u can see all the poetry of Syed Sahir Kazmi I hope u will enjoy it

دنیا کا ستایا جب رب سے شکایت اور سکون کی طلب میں مسجد میں داخل ہوا تو پہلی صفوں میں انہی کو پایا جن کے ہاتھوں وہ ستایا ہ...
12/11/2022

دنیا کا ستایا جب رب سے شکایت اور سکون کی طلب میں مسجد میں داخل ہوا تو پہلی صفوں میں انہی کو پایا جن کے ہاتھوں وہ ستایا ہوا تھا.
وہ مسکرایا، اوراپنی راہ چل دیا....!
وہ راہ جہاں رب اور اسکے درمیان کوئی نا ہو.

05/03/2022

ہم اپنے اندر کے رب سے تو مل نہیں پاتے، مسجدوں میں رب تلاش کرتے پھرتے ہیں.
دل کی مسجد خالی ہو تو اینٹوں کی چار دیواری میں رب نہیں ملا کرتا.

19/02/2021

جن چیزوں اور لوگوں کی پائیداری پر ہم یقین رکھتے ہیں وہ عارضی واقعات کے سواکچھ بھی نہیں۔ ہماری خواہشات اور ضرورتیں ہی ان کی پائیداری کاسراب پیدا کرتی ہیں.

12/11/2020

جسموں کی قید سے پہلے ایک میدان سجا کے جب رب نے فرمایا کہ "میں ہی تو تمہارا رب ہوں".
تب روحوں کی سماعتوں سے ٹکراۓ یہ لفظ ان کی فریکوئنسی متعین کر گۓ. یا پھر یوں کہہ لیں کے ان کی قوت برداشت.
اب جب ہم اپنے اردگرد انسان کی حالتوں میں تفریق دیکھتے ہیں تو دراصل وہ وہی تفریق ہے.
یہ پیمانہ ایک سرور پر مبنی ہے.. وہ سرور کے جس سے اس روح نے ان الفاظ کو محسوس کیا تھا.
روحانیت اسی پر مبنی ہے.

ساحر کاظمی

06/10/2020

نفس سے لڑائی خودی کی طرف سفر ہے،نفس سے دوستی زندگی کی بقا ، نفس سے جیت انسانیت کی موت ہے اور نفس سے ہار غلاظت کی شروعات.
(انوارِ عارفی)
سید ساحر کاظمی
٦ اکتوبر ٢٠٢٠

04/10/2020

بابا جی سے نسب کے عنوان پر گفتگو ہونے لگی تو فرمانے لگے... پُتر تیرا کوئی نسب نہیں ہے ماسوائے انسان اور اسکی صفت انسانیت کے.
ہر انسان جب ایک مٹی سے بنایا گیا تو اس مٹی کو جان سے نوازنے والی قوت بھی ایک تھی.... ہاں اس نے روح کے معاملے میں تھوڑی انفرادیت رکھی ہے...!
ہر روح ایک جیسی نہیں ہے مگر اس مادی جہان کی محدودیت میں لامحدود انسان روح کی انفرادیت سے کبھی آشنا نا ہو پاۓ گا.
زمین کے جس ٹکڑے پہ تیرا رہنا ہے یہ ایک بند راستہ ہے کے جس کا ہر سفر تجھے بس سفر ہی دے گا منزل نہیں. روح کی انفرادیت سامنے آۓ تو مطلب ہے کہ اب زمین کی محدودیت ٹوٹ گئ ہے.
مگر یہ انفرادیت زندگی کی موت ہے اور موت کی زندگی ہے. دراصل یہ حقیقتوں پہ مبنی وہ راز ہے جس سے ہر حقیقت کا وجود بنایا اور چلایا گیا ہے.
نسب اگر روح اور بدن میں رکاوٹ ہے تو وہ ایک خود ساختہ مفروضے کی گہری کال کوٹھری ہے.
تیرا نسب بس انسانیت ہے اور یہ سب سے اعلیٰ نسب ہے.
شکر کر لے اب... تُو سب سے اعلیٰ نسب ہے.
(انوارِعارفی)
سید ساحر کاظمی
٥ اکتوبر ٢٠٢٠

03/05/2020

عشق الہی ہر انسان میں موجود ہے، چاہے وہ اسے جانے یا نا جانےاور وہ ہمیشہ باقی رہے گا.
انسانی عقل سے بالاتر شاید... مگر ایک کیفیت موجود ہے اس کائنات میں جو بندے کو اس کے مرکز سے جوڑے رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے.
اسے انرجی کہہ لو، یا پھر نورانی دائرہ مگر یہ انسان کے جسم کو گھیرے ہوئے ہے اور گھیرنے کے بعد یہ اس جسم کو اپنے مرکز کی جانب دھکیلتا ہے... یہی وجہ ہے کہ انسان خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھے.. رب کے وجود کا انکاری بہت کم نظر آتا ہے.

سید ساحر کاظمی
"کہانی سے حقیقت تک"
٣-٥-٢٠٢٠

شبِ وجد ساحر تُجکو بتلاؤں میںاک راز کی باتعیاں کر کے........اُس ذات کی بات میں گُم ہو کرجب رات اندھیرا کھو دیوےتب دیپ دل...
08/04/2020

شبِ وجد

ساحر تُجکو بتلاؤں میں
اک راز کی بات
عیاں کر کے........
اُس ذات کی بات میں گُم ہو کر
جب رات اندھیرا کھو دیوے
تب دیپ دلوں میں جل جاویں
اور روشن اندر کر دیوے
اس روشنی میں اک وجد ملے
جو تھوڑا سا گمنام بھی ہے
اسے چھُونے کی کوشش کر کے
جب اک اک پل میں عمر کٹے
تب ع ع کی مالا پر
بس ش ق کا ورد چلے
اس ورد کہ چاروں اور ملے
اک بینائی
اک رعنائی
جو روح جسم سے دور کہیں
افلاک کی اور اچھالے ہے
ناجانے کیا کیا ہو جاوے
اُس ذات کی بات میں گُم ہو کے....

ساحر کاظمی

اور جب زبان پر چُپ کے تالے لگ جائیںتو دل میں اٹھنے والے طُوفاناندر ہی اندر توڑ پھوڑ کرتے رہتے ہیںذہن میں اٹھنے والی سوچی...
01/04/2020

اور جب زبان پر چُپ کے تالے لگ جائیں
تو دل میں اٹھنے والے طُوفان
اندر ہی اندر توڑ پھوڑ کرتے رہتے ہیں
ذہن میں اٹھنے والی سوچیں
وجُود کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں
آنکھوں میں بننے والے عکس
دھندلے ہو کر....
پلکوں کے پیچھے کہیں گُم ہو جاتے ہیں
تو پھر!
تو پھر!
میری جان...!
الفاظ یونہی کاغذ پر اُترنے لگتے ہیں
جسے تم شعر کہتے ہو
اُسے ہم عذابِ شعُور کہتے ہیں

سید ساحر کاظمی

زخم کا درد وہ کیا جانے جس نے اسے اپنے جسم پر سہا نہ ہو، جس نے اسے اپنی آنکھوں سے سیکا نہ ہو، جس نے اپنی رگوں سے ٹیسوں کو...
06/03/2020

زخم کا درد وہ کیا جانے جس نے اسے اپنے جسم پر سہا نہ ہو، جس نے اسے اپنی آنکھوں سے سیکا نہ ہو، جس نے اپنی رگوں سے ٹیسوں کو اٹھتا بیٹھتا پایا نہ ہو......
یہ تو بس وہی جانے گا... جسے وہ زخم ملا، جس نے اسے جیا، اس میں مرا، جس نے اسے آہستہ آہستہ بھرتے ہوئے دیکھا، اور جس نے ہر دفعہ اس زخم کو دیکھ کر اپنے درد کی یاد میں آہیں بھریں.
یہ حرف اوقات اور ظرف کے محتاج نہیں، درد اور تکلیف کے محتاج ہوتے ہیں، پڑھنے والا صرف اتنا پڑھ پاتا ہے جتنا اس نے ان دو کو جیا ہو.......!

ساحر

06/03/2020

دل بڑی انمول چیز ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے ناپائیدار چیز بھی ہے، اسے چُور چُور ہونے میں ایک پل سے بھی کم وقت لگتا ہے، اور اصل اذیت تو یہ ہے کہ پھر بندہ اس ایک پل میں ہی پھنسا رہ جاتا ہے، اور وہ پل ہی زندگی کا کل اثاثہ بن کہ رہ جاتا ہے، وہ اثاثہ جسے نہ رکھ کے چین ملے نا گنوانے کی ہی ہمت ہو پائے.......!

ساحر

مجھے عشق ہوا، مجھے پیار ہواہنستا بستا برباد ہواکبھی پایا تو کبھی کھو بیٹھاجینا بھی اک فریاد ہوامجھے چاہ تیری تُو جانے ہے...
20/02/2020

مجھے عشق ہوا، مجھے پیار ہوا
ہنستا بستا برباد ہوا
کبھی پایا تو کبھی کھو بیٹھا
جینا بھی اک فریاد ہوا
مجھے چاہ تیری تُو جانے ہے
تُو ہی میرا صیاد ہوا
کوئی اور لفظ نہ آوے اب
مجھے ع کا ہندسہ یاد ہوا
میرا جینا جینے جیسا ہے
روح سے کب کا آزاد ہوا
چل چھوڑ مجھے تو اپنی بتا
دل میں کوئی آباد ہوا؟

سید ساحر کاظمی

Address

Narowal

Telephone

+923188404750

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سید ساحر کاظمی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to سید ساحر کاظمی:

Share

Category