Al-Sadiq Tax Law Firm

Al-Sadiq Tax Law Firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al-Sadiq Tax Law Firm, Political organisation, Narowal.

15/01/2026
23/11/2025
23/11/2025
17/11/2025

What a performance by Shaheens. Watch and enjoy Shahid Afridi

محبت بانٹنے والا جج دنیا سے رخصتجسٹس فرینک کیپریو کی زندگی انسانیت اور ہمدردی کی روشن مثال تھی۔ وہ 24 نومبر 1936 کو پروو...
21/08/2025

محبت بانٹنے والا جج دنیا سے رخصت

جسٹس فرینک کیپریو کی زندگی انسانیت اور ہمدردی کی روشن مثال تھی۔ وہ 24 نومبر 1936 کو پرووڈنس میں ایک عام اطالوی نژاد گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن مالی مشکلات میں گزرا، کبھی اخبار فروخت کیے تو کبھی جوتے پالش کیے۔ مگر انہی تجربات نے ان میں محنت، صبر اور دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کا جذبہ پیدا کیا۔ تعلیم مکمل کر کے انہوں نے تدریس اور وکالت دونوں کو ساتھ ساتھ جاری رکھا اور بالآخر 1985 میں پرووڈنس میونسپل کورٹ کے چیف جج مقرر ہوئے، جہاں تقریباً چالیس برس تک خدمت انجام دی۔

ان کی اصل پہچان ان کا غیر معمولی طرزِ انصاف تھا۔ وہ چھوٹے مقدمات میں صرف قانون نہیں دیکھتے بلکہ حالات اور انسانی پہلو کو بھی مدنظر رکھتے۔ ان کے فیصلے شفقت، مزاح اور نرمی سے بھرپور ہوتے جنہیں دیکھ کر لوگ مسکراتے اور متاثر ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا ٹی وی شو Caught in Providence دنیا بھر میں مشہور ہوا اور اربوں افراد نے انہیں "Kindest Judge" کے لقب سے یاد کیا۔

وہ اپنی شہرت کو فلاحی کاموں کے لیے بھی استعمال کرتے رہے۔ اپنے والد کے نام پر اسکالرشپ قائم کیا اور تعلیم کے فروغ کے لیے انتھک محنت کی۔ خاندانی زندگی میں وہ ایک وفادار شوہر، شفیق والد اور محبت کرنے والے دادا پردادا تھے۔

دسمبر 2023 میں انہیں پانکریاٹک کینسر لاحق ہوا جس کا انہوں نے ہمت اور حوصلے سے مقابلہ کیا۔ لیکن 20 اگست 2025 کو 88 برس کی عمر میں وہ پرسکون طور پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات پر ریاست بھر میں سوگ منایا گیا اور انہیں "ریھود آئس لینڈ کا اثاثہ" کہا گیا۔

جسٹس فرینک کیپریو نے ہمیں یہ سبق دیا کہ انصاف صرف قانون نہیں بلکہ انسانیت کا نام ہے۔ آج جب وہ ہم میں نہیں رہے تو ان کی یاد ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ دوسروں کے لیے ہمدردی اور محبت بانٹنا سب سے بڑا ورثہ ہے۔

مالی سال 2025-26 کیلئے دیت کی رقم اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر روپے  مقرر (9828670)Notification of Diyat for the ...
18/08/2025

مالی سال 2025-26 کیلئے دیت کی رقم اٹھانوے لاکھ اٹھائیس ہزار چھ سو ستر
روپے مقرر (9828670)

Notification of Diyat for the Financial Year 2025-2026
18-08-2025

10/08/2025

شیشے پتھر ٹچ نا ہوجائے
ویکھیں کدھر سچ نا ہو جائے
ہیرے ورگا یار اے ساڈا
کھچاں دے نال کھچ نا ہو جائے

10/08/2025

غصے اور تھکن میں گھری ماؤں کے نام ایک خط
پیاری فائزہ
آداب

کیسی ہو تم؟ مجھے اکثر تمہاری ہنسی بہت یاد آتی ہے ۔ تم ہر چھوٹی چھوٹی پر کھلکھلا ہنستیں اور ہنستی چلی جاتی تھیں ۔ بہت پیارے بے فکری کے دن تھے ۔ اب تو زیادہ مل بھی نہیں پاتے ملیں بھی تو پہلے جیسی فرصت نہیں ہوتی ۔ کچھ وقت پہلے جب تمہیں یاسر کی شادی پر دیکھا تو چھوٹے چھوٹے بچوں کی ذمہ داریوں میں الجھی مصروف ماں نظر آئی ۔ تم جو کبھی ہم سب کزنز میں سب سے زیادہ خوش مزاج ہوتی تھی اب کچھ سنجیدہ اور تھکی تھکی سی لگی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے اپنا وقت یاد آیا جب میرے بچے چھوٹے تھے۔ گھر کی ذمہ داری کی زیادہ عادت بھی نہیں تھی تو ایسے ہی پریشان غصے میں اور الجھی ہوئی رہنے لگی تھی ۔ پھر تمہارے بھائی صاحب نے ایک دن پاس بیٹھا کر آرام سے سمجھایا کہ یہ ذمہ داریاں اور مصروفیات زندگی کا حصہ ہیں۔ جو چیزیں تم ٹھیک کر سکتی ہو وہ کرو اور جو نہیں کر سکتی ان کا بوجھ نہیں لو ۔ اللہ سے مدد مانگو۔ یقین کرو اسی دن سے بہتری کا آغاز ہو گیا تھا ۔ میں نے پھر اس پر کافی پڑھا بھی سیکھا بھی ۔ اب مجھے چیزیں پہلے کی طرح پریشان نہیں کرتیں ۔ میں خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتی ہوں ۔ حالانکہ میرا وزن بڑھ گیا ہے اور میں لمبے قد کے باوجود پوری گول ہونے ہی والی ہوں ۔ شادی میں بھی تم سب مجھے اس بات پر چھیڑ رہے تھے ۔ میں پھر بھی اپنے موٹاپے کے ساتھ خوش ہوں ۔

تم سے بات کرنے کا میں نے اسی وقت سوچ لیا تھا لیکن شادی کے ہنگاموں میں کہاں وقت ملتا ہے ۔ فون پر لمبی لمبی باتیں بھی اب کہاں ممکن ہیں ۔ سوچا خط لکھوں جسے تم اپنے سمارٹ فون پر پڑھ لینا یا پھر کسی اچھی سی ایپ کی مدد سے سن لینا ۔ خط طویل ہونے والا ہے ۔ گھبرا نہیں جانا ۔ ویسے مجھے یاد ہے تمہاری ناولز اور کہانیاں پڑھنے کی سپیڈ ہمیشہ بہت تیز تھی۔

چندا میں تمہیں کچھ سمجھانا نہیں چاہتی بس تم سے دل کی بات کرنا چاہتی ہوں۔ حال ہی میں ، میں نے ایک بہت خوبصورت مضمون پڑھا۔ عنوان تھا:
“How to Rewire Angry Mom Brain”
یہ Hillary Gruener نے لکھا ہے، اور WordFromTheBird.blog پر شائع ہوا ۔

پڑھ کر مجھے فوراً تم یاد آئی اور یہ بھی کہ تم سے بات کرنے کا سوچ رکھا ہے تو اسی کی مدد سے بات کرتی ہوں ۔ مجھے امید ہے اس بہترین تحریر سے ہم دونوں کچھ سیکھیں گے ۔

اس میں لکھا تھا کہ اکثر مائیں خود کو غصیلہ نہیں سمجھتیں۔ لیکن دن بدن، تھکن، پریشانی، اور دنیا کے حالات انہیں اُس طرف لے جاتے ہیں۔

یہ غصہ آہستہ آہستہ دل میں کڑواہٹ بن جاتا ہے ۔ پھر جب ہم اسے باہر نکالتے ہیں تو بھی خود کو آئینے میں پہچاننا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ہم نہیں ہوتے ہمارا مزاج نہیں ہوتا ۔

یہ بالکل وہی بات ہے جو تم نے کہی تھی ۔
بجو ! پتہ نہیں میں کون بن گئی ہوں ۔۔۔

مصنفہ کی باتیں پڑھ کر لگا صرف ہم ہی نہیں اس وقت دنیا بھر میں بہت سی مائیں ایک جیسا غصہ محسوس کر رہی ہیں ۔ دیکھو تو یہ سب وه ہی باتیں ہیں جو تم اور میں محسوس کرتے ہیں ۔

جیسے وه لکھتی ہیں کہ “ہم اس دنیا کے حالات پر غصہ میں ہیں۔ اس بات پر کہ جو کھانا ہم خریدتے ہیں وہ مہنگا اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہم ان عجیب و غریب بیماریوں پر غصہ میں ہیں جن کا علاج ہم سوشل میڈیا سے تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ ہمیں غصہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہیں اور نہیں جانتے کہ انہیں آج کیا سکھایا گیا ہے ۔ ہمیں یہ بھی غصہ ہے کہ ہم اپنے لیے دن میں ایک لمحہ بھی نہیں نکال پاتے۔

ہمیں یہ بھی غصہ ہے کہ ہمارے بچے فطرت سے کٹے ہوئے ہیں، اور اسکرین پر گھورنے کی وجہ سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو گئی ہیں۔
ہمیں اپنے شوہروں پر بھی غصہ آتا ہے، جو فون پر زیادہ دھیان دیتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف متوجہ ہوں۔

ہم اس معاشرے پر بھی غصہ کرتے ہیں جہاں سچ بولنا قدامت پسندی سمجھا جاتا ہے۔
ہم غصہ میں ہیں کہ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہ عورت نہیں بن سکے جو بننا چاہتے تھے۔
پھر ہم خود پر غصہ ہونے لگتی ہیں۔ ہماری خوبصورتی، ہماری چمک جیسے کہیں دب جاتی ہے۔

دیکھو تو ہم تم تو سمجھتے رہے یورپ کی ماں آزاد ہے اس بی بی کے دکھڑے تو ہمارے ہی جیسے ہیں ۔ اچھا یہ اس لیے بولا کہ تم مسکرا دو اور سمجھ جاؤ یہ سب تم اکیلی نہیں جھیل رہیں ۔

وہ یہ بھی لکھتی ہے کہ یہ سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔
“یہ سب do-able ہے” ۔ بس تھوڑا سا رکنا ہے، سانس لینا ہے، دل کو ٹٹولنا ہے۔

اس نے بتایا کہ اگر ہم روزانہ صرف 15 منٹ بھی خود سے بات کریں ۔ ہم خود کو بتائیں کہ ہم ناکام نہیں ہیں ۔
اس حقیقت کو دہرائیں کہ ہم رب کے بندے ہیں ۔ شکر ادا کریں ۔ خدا سے بات کریں ۔ دعائیں مانگیں ۔
دل سے کڑواہٹ نکال دیں کیوں کہ رب صاف دل کو پسند کرتا ہے ۔ دل بدلے گا تو بہت کچھ بدل جاۓ گا ۔

ساتھ ہی سانس کی مشق یوگا یا چہل قدمی یا کوئی مثبت سرگرمی کریں تو ان خوب صورت خیالات سے ہم بدلنا شروع ہو جائیں گے ۔ ہمارے ذہن ہمارے جسموں پر اس کا پازٹیو اثر آئے گا ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ یہ ساری باتیں نیورولوجیکل ایکسپرٹس کی ہی تجویز کرده ہیں ۔ یہ سب کوئی میجک نہیں، بلکہ ایک مسلسل مشق ہے۔ ہم یہ سب کر سکتے ہیں۔ تم بھی کر سکتی ہو ۔

تمہاری وہی پیاری مسکراہٹ واپس آ سکتی ہے۔ تم دوبارہ وہ ماں بن سکتی ہو، جو بچوں کو گود میں لے کر ان کی خوشبو سے خود کو زندہ محسوس کرو نہ کہ ان پر چیخ چلا کر خود کو مزید تھکا دو ۔

یاد رکھو، غصہ اصل دشمن نہیں ہوتا ۔ بے بسی ہوتی ہے۔ اور اس بے بسی کا حل خدا کی طرف پلٹنے میں ہے۔
اپنے آپ کو معاف کر دو گلٹ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم وہی لڑکی ہو جو پہلے تھیں صرف تھکی ہوئی ہو ۔ تمہیں بس آرام چاہیے محبت چاہیے اور تھوڑا سا حوصلہ۔

ہاں ایک اور ضروری چیز جسے میں نے آزمایا وہ یہ ہے کہ رات جتنی بھی تھکی ہو بچوں کوسلانے سے پہلے دس منٹ تک ان کے ساتھ رہو ۔ انہیں پیار کرو ان سے بات کرو ۔ کوئی کہانی پڑھ کر سناو ۔ اپنے ہی بچپن کے قصے سناو تم بہت شرارتی تھیں تمہارے پاس انہیں ہنسانے کو بہت کچھ ہوگا ۔ انہیں ہر روز بہت سا پیار کر کے سلاو ۔ پھر جب خود سونے لگو اور ریلز دیکھ دیکھ کر تھک جاو تب سونے سے ذرا پہلے سورہ بقره کی کچھ آیات پڑھ لیا کرنا جتنا آسانی سے پڑھ سکو ۔ ان شا اللہ تم میں اور بچوں میں بہت ٹھہراو آئے گا ۔ بچے کی چخ چخ جھیلناا آسان ہو جاۓ گا ۔
چندا اُمید باقی ہے۔ ہم سب کچھ نہیں بدل سکتے، لیکن ہم اپنا دل، اپنی سوچ اور اپنے چھوٹے سے گھر کو تو بدل اور سنوار سکتے ہیں ۔

میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں، چاہو تو روزانہ پانچ منٹ ایک دوسرے کو “دل کی خبر” دے دیا کریں۔ بات کیا کریں ۔ اب سے تمہارے وائس میسجز کا انتظار کیا کروں گی ۔

تمہاری باجی
سعدیہ مسعود

📢 FBR Notification – Mandatory Electronic InvoicingThrough SRO 1413(I)/2025 dated 1st August 2025, the Federal Board of ...
01/08/2025

📢 FBR Notification – Mandatory Electronic Invoicing

Through SRO 1413(I)/2025 dated 1st August 2025, the Federal Board of Revenue (FBR) has directed all sales tax registered persons to integrate their systems with FBR/PRAL through licensed integrators and start issuing electronic invoices as per the following schedule:

Key Deadlines:

🏢 Public Companies / Large Companies / Importers
Registration: 10th Aug 2025 | Testing: 25th Aug 2025 | E-Invoicing: 1st Sept 2025

📊 Companies with turnover >100M up to 1B
Registration: 10th Sept 2025 | Testing: 30th Sept 2025 | E-Invoicing: 1st Oct 2025

💼 Companies with turnover ≤100M
Registration: 10th Oct 2025 | Testing: 30th Oct 2025 | E-Invoicing: 1st Nov 2025

👥 Individuals/Associations with turnover >100M
Registration: 10th Sept 2025 | Testing: 30th Sept 2025 | E-Invoicing: 1st Oct 2025

📌Other Registered Persons
Registration: 10th Nov 2025 | Testing: 30th Nov 2025 | E-Invoicing: 1st Dec 2025

23/07/2025

اسیرانِ تحریکِ انصاف: وفاداری کی سزا یا اصول کی جیت؟

تحریر: عبدالقدوس ایڈووکیٹ
ایل ایل ایم

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بارہا ایسے لمحات آئے جب اصول پر قائم رہنے والوں کو سزا ملی اور سمجھوتہ کر لینے والے “آزاد” ہو گئے۔ آج ایک بار پھر ہم ایسے ہی دور سے گزر رہے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حالیہ دنوں میں جو سزائیں سنائی گئی ہیں، وہ نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور آئینی اقدار پر ایک بدنما دھبہ بھی ہیں۔

ان مقدمات کی نوعیت پر اگر غیرجانبدارانہ نظر ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر الزامات کمزور، بوگس اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ ان کا مقصد انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کو دبانا، قیادت کو بدنام کرنا، اور ان وفاداروں کو نشانِ عبرت بنانا ہے جنہوں نے طاقتور حلقوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ 9 مئی کے بعد کی صورتحال نے ایک غیرعلانیہ “سیاسی مارشل لا” کی شکل اختیار کرلی، جس میں قانون کا اطلاق یکطرفہ ہو گیا۔

اسی دن کی بات کی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اس دن کے بعد اپنی سیاسی وفاداریاں بیچ ڈالیں، اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیا، یا خاموشی کو ترجیح دی۔ آج وہی لوگ آزاد پھر رہے ہیں، میڈیا پر بیٹھے بیانیے بدل رہے ہیں، نئی سیاسی جماعتیں تشکیل دے رہے ہیں یا مزے سے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے عمران خان سے وفاداری کی، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ڈٹ گئے، اور کسی مک مکاؤ یا ڈیل کو قبول نہیں کیا، وہ آج جیلوں میں ہیں، مقدمات بھگت رہے ہیں، اور سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ وفادار رہنما آج اگر جیل میں ہیں تو وہ ناکام نہیں بلکہ سرخرو ہیں۔ کیونکہ انہوں نے وہی راستہ چُنا جو اصول کا راستہ ہوتا ہے۔ جس قوم میں حق بات کہنے کی قیمت قید و بند ہو، وہاں خاموشی کو عزت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان رہنماؤں نے خاموشی کو رد کیا، ضمیر کا سودا نہیں کیا، اور سر جھکانے کے بجائے سر بلند رکھا۔

ہم ان سزاؤں پر دکھی ضرور ہیں، مگر ان سے شرمندہ نہیں۔ اگر ہم کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم حق اور سچ کا ساتھ زبان سے تو دے سکتے ہیں۔ ہمیں غلط کو غلط کہنا چاہیے، تاویلیں دینے یا دفاع کرنے کے بجائے سچ کو تسلیم کرنا چاہیے تاکہ کم از کم کمزور ترین ایمان کا تقاضا تو پورا ہو۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔

ویلڈن، اسیرانِ تحریکِ انصاف! آپ نے وفاداری کی ایسی مثال قائم کی ہے جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔ آپ نے سیاست کو تجارت نہیں بنایا، عہد کو بیچا نہیں، اور قیادت کا مان رکھا۔ یہ سزائیں آپ کے لیے تمغے ہیں، اور یہ تمغے اس قوم کی تاریخ میں ایک دن فتح کی علامت بن کر ابھریں گے۔

اللہ رب العزت آپ کی مشکلات آسان کرے، آپ کو سرخرو کرے۔
کبھی کبھی سول سپرمیسی کا کیڑا جاگ جاتا ہے تو ایسی تحریر لکھ دیتا ہوں۔
آمین۔

ایک اور بیٹی، ایک اور لاش… غیرت پھر جیت گئی!ڈیڑھ سال قبل محبت سے نکاح کرنے والی شیتل اور زرک کو اُن کے قبیلے نے "دعوت" پ...
20/07/2025

ایک اور بیٹی، ایک اور لاش… غیرت پھر جیت گئی!

ڈیڑھ سال قبل محبت سے نکاح کرنے والی شیتل اور زرک کو اُن کے قبیلے نے "دعوت" پر بلایا — مگر یہ دعوت کھانے کی نہیں، قتل کی تھی۔

ایک ویران میدان، 19 مسلح مرد، اور دو محبت کرنے والے۔۔۔
شیتل قرآن ہاتھ میں لیے آگے بڑھی، بس ایک جملہ کہا:
"صرف گولی مارنے کی اجازت ہے!"

نہ آنکھوں میں خوف، نہ لبوں پر رحم کی فریاد — جیسے اپنے انجام سے باخبر ہو۔

پھر نو گولیاں شیتل کے جسم سے پار ہوئیں…
زرک پر دو گنا گولیاں برسیں…
اور غیرت نے ایک بار پھر اپنی جھوٹی فتح پر پگڑی سنوار لی۔

صرف اس "جرم" پر کہ شیتل نے اپنی مرضی سے نکاح کیا…
صرف اس لیے کہ اُس نے اپنے لیے جینا چاہا!

سلام ہے اس سوچ کو جو بیٹی کو ذبح کر کے خود کو عزت دار کہتی ہے!
سلام ہے ان مجمعوں کو جو انصاف نہیں، موت بانٹتے ہیں!
سلام ہے ان درندوں کو جو راضی ناموں کے پردے میں عورت کا خون جائز سمجھتے ہیں!

شیتل مر گئی، مگر اُس کی خاموشی ہم سب کے ضمیر پر سوال بن کر زندہ ہے۔
آج خاموش رہنے کا مطلب ہے اُس گولی میں شریک ہونا!
عبدالقدوس ایڈووکیٹ
ایل ایل ایم




Address

Narowal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Sadiq Tax Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share