26/02/2026
سیاست: منصب نہیں، خدمتِ خلق کا نام
تحریر: سید زین العابدین شاہ بخاری
اردو ادب کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ "خدمت میں عظمت ہے"، لیکن دورِ حاضر میں سیاست کے معنی بدل چکے ہیں۔ آج کل سیاست کو محض اقتدار کے حصول اور ذاتی مفادات کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن معاشرے میں اب بھی کچھ ایسی مخلص شخصیات موجود ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ سیاست دراصل اللہ کی مخلوق کی خدمت کا دوسرا نام ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال جمعیت علماء اسلام کے نوجوان رہنماؤں نے رنگ پور، جوانہ اور بنگلہ کے علاقوں میں پیش کی ہے۔
محرومیوں کی نشاندہی اور این جی اوز کا تعاون
مفتی محبوب الرحمن صاحب کا کمال یہ رہا کہ انہوں نے اپنے علاقے کی پسماندگی اور سیلاب سے ہونے والی محرومیوں کو صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنی بہترین حکمتِ عملی اور وژن کے ذریعے مختلف فلاحی تنظیموں (NGOs) کو اپنے علاقے کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مخیر حضرات اور اداروں کو علاقے کی اصل صورتحال سے آگاہ کیا اور انہیں قائل کیا کہ رنگ پور کے عوام کو اس وقت سب سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے
میدانِ عمل کے سپاہی
مفتی محبوب الرحمن صاحب نے مقامی ٹیم، بالخصوص جناب عمر فاروق صاحب (جنرل سیکرٹری جے یو آئی، سب تحصیل رنگپور)، امیر قاری ثناء اللہ، اور جناب اسد خان صاحب کی مدد سے خدمت کی جو مثال قائم کی، اس کے اعداد و شمار انسانی ہمدردی کی عظیم داستان سناتے ہیں
طبی ریلیف: متاثرہ علاقوں میں 22 میڈیکل کیمپ لگائے گئے، جن سے تقریباً 3000 سے زائد مریضوں کو مفت علاج اور ادویات فراہم کی گئیں۔
رہائش اور سامان: سیلاب زدگان کے لیے 40 ٹینٹ اور 200 بستر تقسیم کیے گئے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ تقریباً 100 خاندانوں کو فی کس 70,000 روپے مالیت کا ضروری سامان دیا گیا تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
نقدی امداد: کئی خاندانوں کو 20٫000 روپے نقدی بھی دیئے گے جس سے وہ اپنی ضروریات زندگی پوری کر سکیں
پانی کی فراہمی: صاف پانی کے لیے 35 چھوٹے نلکے، 5 بڑے نلکے اور ایک واٹر موٹر پمپ نصب کیا گیا تاکہ علاقے میں بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
تعلیمی و سماجی مدد: سیلاب زدہ مدارس میں نہ صرف راشن پہنچایا گیا بلکہ طلبہ کے لیے پھل اور دیگر لوازمات کا بھی مستقل بندوبست کیا گیا۔
تسلسل: خدمت جو رکی نہیں
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سیلاب کا پانی اترتے ہی مدد کرنے والے بھی غائب ہو جاتے ہیں، لیکن مفتی محبوب الرحمن اور ان کے ساتھیوں کا جذبہ منفرد نکلا۔ آج سیلاب گزرے 6 ماہ ہو چکے ہیں، مگر ان کی خدمات کا سلسلہ آج بھی اسی جوش و خروش سے جاری ہے۔ وہ اب بھی علاقے کی محرومیوں کو دور کرنے اور مستحقین کی بحالی کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔
قیادت کی تربیت اور بے لوث خدمت
یہ تمام خدمات کسی سرکاری عہدے یا سیاسی لالچ کے لیے نہیں تھیں، کیونکہ ان شخصیات کے پاس اس وقت کوئی حکومتی عہدہ موجود نہیں۔ یہ خالصتاً اس تربیت کا نتیجہ ہے جو جمعیت علماء اسلام کی قیادت اپنے کارکنوں کو دیتی ہے۔ مفتی محبوب الرحمن صاحب کا یہ جذبہ ثابت کرتا ہے کہ سیاست اگر مخلص ہو تو وہ انسانیت کے زخموں پر مرہم بن جاتی ہے۔
رنگ پور کے عوام ان محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے جنہوں نے مشکل ترین وقت میں ان کا ہاتھ تھاما۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی خدمت ہی وہ اصل سیاست ہے جو دلوں پر راج کرتی ہے