03/07/2022
افغان حکومتی حکام (تالے بان ) نے پاکستان کو پیشکش کی ہے* کہ وہ تمام کھربوں روپے کے کرپشن کے کیسز جن کا پاکستان میں برسوں سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا، اگر وہ تالے بان کے جرگہ میں چلائے جائیں، تو ہر ایک کیس کا ایک ہفتہ میں فیصلہ ہو جائے گا، بدلے میں مجرموں سے جو ریکوری ہوگی اسکا صرف %10 غریب افغان عوام پر خرچ کرنے کے افغان حکومت کو دیا جائے.
مبینہ طور پر پاکستان کی عدلیہ نے اس پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا ہے. جج صاحبان کا کہنا ہے کہ ہم صرف کیس لٹکانے کا %25 کمیشن لیتے ہیں، تو %10 پر فیصلے سے ہمیں کیا فائدہ؟
پاکستان کی مختلف بار کونسلز نے بھی اس تجویز کو ناپسند کیا ہے. ایک ہفتہ میں کیس کا فیصلہ ہونے کی صورت میں وکلا برادری میں بیروزگاری کا شدید خدشہ ہوگا۔
جیل کے حکام بھی سیخ پا ہیں. اُنھوں نے اسے جرائم کی پوری انڈسٹری کے خلاف غیر ملکی سازش قرار دیا ہے. جیل حکام کا کہنا ہے۔ کہ جیلوں میں لاکھوں لوگ رکھنے سے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں. اور قیدیوں کو کھانے پینے کی جو ناقص اشیاء جیل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کا مارکیٹ میں کوئی گاہک نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اور جیل حکام کی اوپر والی آمدنی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
محکمہ قانون کے نمائندے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ جرائم کی صنعت سے تقریباً ایک کروڑ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے. جرائم ختم ہونے کی صورت میں ملک ایک بڑی مُعاشی تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے-
*اداروں نے تمام مجرمان کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مجرمان کی حفاظت کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے. اور ادارے اپنی ذمہ داری سے ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوتے ..