21/05/2026
آج مورخہ 21 مئی 2026 بروز جمعرات کو ڈاکٹر افتخار مغل کانفرنس روم، آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی، نیو وزیراعظم ہاؤس جلال آباد مظفرآباد میں ایک یادگار تقریب منعقد ہوئی۔
اس تقریب میں سب سے پہلے ڈاکٹر افتخار مغل کانفرنس روم کا افتتاح کیا گیا، جس کے فوراً بعد شاعرِ مرحوم ڈاکٹر افتخار مغل کی تصنیفِ نایاب "لہو لہو کشمیر" (اشاعتِ دوم) کی رونمائی کی گئی۔
تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ نبیلہ ایوب خان، وزیر کشمیر کاز، آرٹس اینڈ لینگویجز و ماحولیات تھیں جبکہ صدر تقریب سید شاہد محی الدین قادری، سیکرٹری کشمیر کاز، آرٹس اینڈ لینگویجز تھے۔
اس تقریب کے ذریعے کشمیر کے تین عظیم شعرا للہ عارفہ (لل دید)، حبہ خاتون (زون) اور غنی کشمیری کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
ڈائریکٹر اکیڈمی ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور تقریب کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔
کتاب "لہو لہو کشمیر" پر عطا اللہ عطا، پروفیسر اعجاز نعمانی اور ڈاکٹر فرہاد احمد فگار نے تفصیلی گفتگو کی۔
للہ عارفہ، حبہ خاتون اور غنی کشمیری کی شخصیت و فن پرپروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم، ڈاکٹر سیدہ آمنہ بہار اور ڈاکٹر غلام حسن بٹ نے روشنی ڈالی۔ مہمان خصوصی وزیر کشمیر امور، آرٹس اینڈ لینگویجز و ماحولیات محترمہ نبیلہ ایوب خان نے اپنی گفتگو میں کتاب "لہو لہو کشمیر" کو کشمیر کی جدوجہدِ حریت کا ایک اہم دستاویز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم نے اپنی شاعری کے ذریعے وادی کشمیر کے درد، خون اور آنسوؤں کو الفاظ کا روپ دیا ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف احتجاج ہے بلکہ نسلِ نو کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ کشمیر کی تحریک زندہ ہے اور اس کی آواز کو دبانا ممکن نہیں۔
انہوں نے ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی کاوشِ ترتیبِ نو کو سراہا اور کہا کہ اشاعتِ دوم اس بات کا ثبوت ہے کہ مرحوم شاعر کی آواز اب بھی گونج رہی ہے۔ محترمہ نے کشمیر کے کلچرل ورثے، خصوصاً للہ عارفہ، حبہ خاتون اور غنی کشمیری جیسے عظیم شعرا کی یاد کو زندہ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ثقافت اور ادب ہماری قومی شناخت کا سب سے مضبوط ہتھیار ہے"۔
آخر میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی کی کاوشوں کو سراہا اور وعدہ کیا کہ حکومت کشمیری ادب و ثقافت کی ترویج کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔
(سیکرٹری کشمیر کاز، آرٹس اینڈ لینگویجز سید شاہد محی الدین قادری نے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر افتخار مغل کو ایک حساس شاعر قرار دیا جس نے کشمیر کے زخموں کو اپنے لہو سے لکھا۔ انہوں نے کہا کہ "لہو لہو کشمیر" صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، ایک آواز ہے جو بھارت کی ظالمانہ درندگی کے خلاف کھڑی ہے۔
انہوں نے تینوں عظیم شعرا (للہ عارفہ، حبہ خاتون اور غنی کشمیری) کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری شاعری ہمیشہ سے مزاحمت کی آواز رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں جب کشمیر پر مختلف قسم کے حملے ہو رہے ہیں، ادب اور شعر و شاعری ہی وہ ہتھیار ہے جو نسلوں تک پیغام پہنچاتا رہے گا۔
انہوں نے اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان اور تمام مقررین کا شکریہ ادا کیا اور تجویز دی کہ ایسی تقاریب کو باقاعدگی سے منعقد کیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنے ادبی ورثے سے جڑ سکے۔
اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد منیر خان کیانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے ادا کئے۔