Choudhary Tariq Salam

Choudhary Tariq Salam *‏یہ دنیا آپکی خاموشی قبول نہیـــــــــں کرتی ... آپکے آنسو ... آپ کا درد نہیـــں سمجھتی ... آپکے اند

05/05/2026
یہ بات انسان کی اندرونی تھکن، گہری سوچ، اور دنیا کی حقیقتوں کو سمجھنے کے بعد پیدا ہونے والی خاموشی کو ظاہر کرتی ہے۔جب ان...
01/05/2026

یہ بات انسان کی اندرونی تھکن، گہری سوچ، اور دنیا کی حقیقتوں کو سمجھنے کے بعد پیدا ہونے والی خاموشی کو ظاہر کرتی ہے۔

جب انسان دنیا کو سطحی نظر سے دیکھتا ہے تو ہر چیز آسان لگتی ہے۔ لوگ اچھے لگتے ہیں، رشتے سچے لگتے ہیں، وعدے مضبوط لگتے ہیں، اور مسکراہٹیں مخلص لگتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے انسان تجربہ حاصل کرتا ہے، ویسے ویسے اسے سمجھ آنے لگتا ہے کہ ہر چیز ویسی نہیں ہوتی جیسی دکھائی دیتی ہے۔

دنیا کو سمجھنے کا مطلب صرف علم حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ لوگوں کے بدلتے چہرے، مفاد پر مبنی رشتے، جھوٹی ہمدردیاں، اور خاموش منافقت کو پہچاننا بھی ہوتا ہے۔ یہی پہچان انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔

بعض لوگ اس لیے خوش نظر آتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ گہرائی میں نہیں جاتے۔ وہ ہر بات کو دل پر نہیں لیتے، ہر چہرے کے پیچھے چھپی نیت کو نہیں پڑھتے، اور ہر تعلق کا تجزیہ نہیں کرتے۔ اسی لیے ان کی زندگی نسبتاً ہلکی محسوس ہوتی ہے۔

لیکن جو انسان زیادہ سوچتا ہے، زیادہ محسوس کرتا ہے، اور ہر چیز کی حقیقت کو سمجھنے لگتا ہے، وہ اکثر تنہائی پسند ہو جاتا ہے۔ اسے شور سے زیادہ خاموشی اچھی لگنے لگتی ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر محفل میں سچ نہیں ہوتا، ہر قربت میں خلوص نہیں ہوتا، اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے محبت نہیں ہوتی۔

عقلمند انسان کی تنہائی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ اس کی حفاظت ہوتی ہے۔ وہ ہر کسی سے دور اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے لوگ پسند نہیں، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو بہت اچھی طرح سمجھ چکا ہوتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ دنیا کو سمجھنا انسان کو بے حس نہیں بناتا، مگر اسے محتاط ضرور بنا دیتا ہے۔ وہ کم بولتا ہے، کم ملتا ہے، کم توقع رکھتا ہے، مگر اندر سے ہر چیز بہت گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔

یہ دنیا اکثر اخلاق کو بھیدولت کے ترازو میں تولتی ہے۔جب انسان کے پاس طاقت اور پیسہ ہو،تو اس کی نرمی بھی شرافت کہلاتی ہے۔ل...
29/04/2026

یہ دنیا اکثر اخلاق کو بھی
دولت کے ترازو میں تولتی ہے۔
جب انسان کے پاس طاقت اور پیسہ ہو،
تو اس کی نرمی بھی شرافت کہلاتی ہے۔
لیکن جب وہی اخلاق کسی غریب میں ہو،
تو لوگ اسے کردار نہیں، مجبوری سمجھ لیتے ہیں۔
یہ حقیقت تلخ ضرور ہے،
مگر انسان کو لوگوں کی سوچ سے زیادہ
اپنے معیار کی فکر کرنی چاہیے۔
اصل اخلاق وہی ہے
جو بے قدری میں بھی قائم رہے۔

برائی سے نفرت ضرور کریں، لیکن برے آدمی سے نہیں۔کیونکہ انسان اکثر اپنے حالات، غلط فیصلوں اور کمزوریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔...
17/04/2026

برائی سے نفرت ضرور کریں، لیکن برے آدمی سے نہیں۔
کیونکہ انسان اکثر اپنے حالات، غلط فیصلوں اور کمزوریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
برائی کو روکنا ضروری ہے، مگر دل میں نفرت پالنا نہیں۔
ہو سکتا ہے جس شخص سے آج لوگ دور بھاگتے ہیں، وہ کل بدل کر بہت اچھا انسان بن جائے۔
اصل عظمت یہی ہے کہ ہم غلطی کو غلط کہیں، مگر انسان کے لیے ہدایت اور بہتری کی دعا بھی رکھیں۔
نفرت برائی سے ہونی چاہیے، انسان سے نہیں، کیونکہ ہر دل کے بدلنے کی امید باقی رہتی ہے۔

Address

Muzaffarabad
78850

Telephone

+923180871920

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Choudhary Tariq Salam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Choudhary Tariq Salam:

Share

Category