13/05/2026
اے دشتِ آرزو مجھے منزل کی آس دے
میری تھکن کو گردِ سفر کا لباس دے
پروردگار تو نے سمندر تو دے دئے
اب میرے خشک ہونٹوں کو صحراء کی پیاس دے
فرصت کہاں کہ ذہن مسائل سےلڑ سکیں
اس نسل کو کتاب نہ دے اقتباس دے