Safe City Multan

Safe City Multan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Safe City Multan, Government Organization, Multan.

Safe City Multan Project is an initiative led by the Punjab Safe Cities Authority (PSCA) to enhance public safety and security through technology and data-driven approaches.

02/06/2026

پنجاب پولیس اور سیف سٹی کے اشتراک سے صوبے میں جرائم کی شرح میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہینیس کرائمز میں مجموعی طور پر 40 سے 50 فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ سیف سٹی مانیٹرڈ علاقوں میں یہ شرح تقریباً 70 فیصد تک گر چکی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے 'سیفر پنجاب' وژن کے تحت تمام جدید سافٹ ویئرز اور انفراسٹرکچر (جیسے ورچوئل وومن پولیس اسٹیشن اور چائلڈ سیفٹی سینٹرز) سیف سٹی کے اپنے ماہرین نے اِن ہاؤس ڈیولپ کیے ہیں، جس سے بیرونی اداروں پر انحصار ختم ہوا ہے اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

🚦 Lane Line Violation Awareness | Safe City MultanFollow lane markings, use indicators, and avoid unnecessary lane chang...
02/06/2026

🚦 Lane Line Violation Awareness | Safe City Multan

Follow lane markings, use indicators, and avoid unnecessary lane changes. Lane line violations can cause accidents and put lives at risk.

Stay in your lane, stay safe.

02/06/2026

الحمدللہ! پاکستان کے لیے ایک اور بڑا اعزاز… حکومت پنجاب کا عوامی خدمت کا منصوبہ “میرا پیارا- ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی” اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کے زیرِ اہتمام WSIS Prizes 2026 میں دنیا کے Top 5 Champion Projects میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اس منصوبے کو E-Government کی کیٹیگری میں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اس سے پہلے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے دو منصوبے ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن اور ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی کو دنیا کے بیس بہترین پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
یہ کامیابی صرف پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ “میرا پیارا” ایک جدید ڈیجیٹل پبلک سروس ہے جو گمشدہ بچوں، بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کو اُن کے پیاروں سے ملانے کے لیے بنائی گئی ہے۔
اس عالمی پذیرائی پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور عوام کے اعتماد کے ممنون ہیں۔ یہ کامیابی عوامی خدمت کے ہمارے عزم کو مزید تقویت دے گی، اور ہم ان شاء اللہ بچھڑے ہوئے بچوں، خصوصی افراد اور بزرگ شہریوں کو اُن کے خاندانوں سے ملانے کا کام پہلے سے بہتر انداز میں سرانجام دیتے رہیں گے۔
واللہ المستعان

02/06/2026

ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ

02/06/2026

#ماں تم کہاں تھی؟ یہ الفاظ اس معصوم اسپیشل بچے چانڈیو کے تھے جب میرا پیرا ٹیم نے اس کی ماں سے واپس ملوایا ۔۔۔۔
یہ وہ معصوم سوال تھا جو دو سال بعد اپنی ماں سے ملنے والے سپیشل بچے چانڈیو نے بھرائی ہوئی آواز میں کیا۔ چند لفظوں پر مشتمل یہ سوال اپنے اندر جدائی کے دو طویل سال، ایک بچے کی بےبسی اور ایک ماں کے کرب کی پوری داستان سموئے ہوئے تھا۔
چانڈیو دو سال قبل اپنے گھر سے بچھڑ گیا تھا۔ وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں بدل گئیں، مگر ایک ماں کے دل میں اپنے بچے کی واپسی کی امید کبھی مدھم نہ پڑی۔ ہر گزرتا دن اس کے لیے ایک نئی آزمائش تھا اور ہر رات اپنے لختِ جگر کی سلامتی کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی تھی۔
جب چانڈیو "میرا پیارا" ٹیم کی تحویل میں آیا تو اس کی شناخت معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ تاہم اپنی ذہنی کیفیت اور معصومیت کے باعث وہ اپنے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہ کر سکا۔ گفتگو کے دوران وہ بار بار صرف ایک لفظ دہراتا رہا:
"چانڈیو"
یہی لفظ اس کی شناخت تک پہنچنے کا پہلا سراغ ثابت ہوا۔
محدود معلومات کے باوجود "میرا پیارا" ٹیم نے تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔ بچے کی ویڈیو اور دستیاب معلومات کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا گیا تاکہ شاید کوئی اس معصوم چہرے کو پہچان سکے۔ بظاہر امکانات کم تھے، لیکن کوشش جاری رہی۔
اسی دوران یہ ویڈیو ایک ایسی ماں تک پہنچی جو گزشتہ دو برس سے اپنے بیٹے کی جدائی کا دکھ سہہ رہی تھی۔ ویڈیو دیکھتے ہی اس نے اپنے بچے کو پہچان لیا۔ اس ایک لمحے نے امید، انتظار اور بے یقینی کے درمیان کھڑی طویل مسافت کو سمیٹ دیا۔
ضروری تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ماں اور بیٹے کی ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ جب وہ ایک دوسرے کے سامنے آئے تو جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہ رہا۔ ایک طرف ماں تھی جس کی دعائیں رنگ لا چکی تھیں اور دوسری طرف ایک معصوم بچہ تھا جسے برسوں بعد اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ واپس مل گئی تھی۔
ماں نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا تو آنکھوں سے بہنے والے آنسو دو سالہ جدائی کی خاموش داستان سنانے لگے۔ اسی لمحے چانڈیو نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور معصومیت سے پوچھا:
"تم کہاں تھی؟"
یہ سوال سن کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ نم ہو گئی، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ ماں کہیں نہیں گئی تھی؛ وہ تو دو سال سے اپنے بچے کی واپسی کے انتظار میں ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔
یہ محض ایک گمشدہ بچے کی بازیابی کی کہانی نہیں، بلکہ امید، مسلسل کوشش، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کی ایک ایسی مثال ہے جو اس یقین کو مضبوط کرتی ہے کہ مخلصانہ کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
الحمدللہ، ایک اور بچھڑا ہوا بچہ اپنے خاندان تک پہنچ گیا۔
“میرا پیارا ٹیم” کا مشن ہے کہ کوئی بھی گمشدہ بچہ تنہا نہ رہے۔
ہر ماں کو اُس کا بیٹا، ہر بہن کو اُس کا بھائی،
اور ہر گھر کو اُن کا پیارا دوبارہ مل سکے

ان شاء اللہ، واللہ المستعان
Case ID: 185061206

02/06/2026

Women can now check and download their **e-Challans** from the comfort of their homes.

With the **Women Safety App**, you can easily access your vehicle's e-Challan details, view your record, and download challans in just a few simple steps.

Install the Women Safety App today to benefit from its smart features and get assistance with just one click.

**Your safety, convenience, and accessibility are our priority.**

☀️ شدید گرمی میں احتیاط زندگی بچا سکتی ہے۔ہیٹ اسٹروک ایک خطرناک طبی حالت ہے جو کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتی ہے، خصوصاً ب...
02/06/2026

☀️ شدید گرمی میں احتیاط زندگی بچا سکتی ہے۔

ہیٹ اسٹروک ایک خطرناک طبی حالت ہے جو کسی بھی شخص کو متاثر کر سکتی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دھوپ میں کام کرنے والے افراد کو۔

زیادہ دیر دھوپ میں رہنے سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں، ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور خود کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔ اگر چکر آنا، شدید پیاس لگنا، بے ہوشی یا جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ جائے تو فوراً طبی امداد حاصل کریں۔

اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے گرمی کے موسم میں احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔

محفوظ رہیں، صحت مند رہیں۔

02/06/2026

Child safety is a top priority. To help families dealing with child kidnapping, abuse, harassment, or molestation cases, Maryam Nawaz has inaugurated the Virtual Center for Child Safety at Safe City. The Children’s Virtual Police Station is now operational, allowing citizens to report child-related complaints online. By calling 15 and pressing 3, complaints can be registered, and the system will ensure a prompt response to help protect children.

واللہ المستعانیہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو...
02/06/2026

واللہ المستعان
یہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔
فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو گیا اور حالات نے اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دیا۔ وہ ضلع قصور کے علاقے تھانہ صدر پتوکی سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ چونکہ وہ اپنی مکمل شناخت واضح طور پر بتانے سے قاصر تھا، اس لیے اس کے ورثاء تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔
اس کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی ہوم لاہور منتقل کیا گیا تھا.دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ دو سال سے اس کی جدائی میں بے حد پریشان تھے۔ وہ ہر ممکن جگہ اس کی تلاش کر رہے تھے، مگر کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا تھا۔ یہ ایک آسان سفر نہیں تھا، کیونکہ بچے کی شناخت واضح نہیں تھی، مگر ٹیم نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔
مختلف ذرائع استعمال کرنے کے بعد ٹیم بالآخر اس کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ یہ معلوم ہوا کہ بچہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی تھا۔خاندان سے رابطہ کیا گیا تھا، تمام معلومات کی تصدیق کی گئی تھی، اور ہر پہلو کو باریک بینی سے چیک کیا گیا تھا۔ تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ بچہ فیصل ہے، غلام جعفر کا بیٹا، جو گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھا۔
یہ لمحہ خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا تھا، کیونکہ دو سال کی جدائی کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت بن گئی تھی۔
آخرکار وہ دن آیا جب فیصل کو اس کے خاندان کے حوالے کیا گیا تھا۔
یہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی خوشیوں، ایک ماں باپ کے سکون اور ایک بکھرے ہوئے خاندان کے دوبارہ جڑنے کی کہانی تھی۔
الحمدللہ!

واللہ المستعان
یہ کہانی فیصل کی ہے، ایک معصوم بچے کی جو دو سال تک اپنے خاندان سے بچھڑا رہا۔

فیصل ایک دن اپنے گھر سے دور ہو گیا اور حالات نے اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دیا۔ وہ ضلع قصور کے علاقے تھانہ صدر پتوکی سے لاوارث حالت میں ملا تھا۔ چونکہ وہ اپنی مکمل شناخت واضح طور پر بتانے سے قاصر تھا، اس لیے اس کے ورثاء تک پہنچنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔
اس کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی ہوم لاہور منتقل کیا گیا تھا.دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ دو سال سے اس کی جدائی میں بے حد پریشان تھے۔ وہ ہر ممکن جگہ اس کی تلاش کر رہے تھے، مگر کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا تھا۔ یہ ایک آسان سفر نہیں تھا، کیونکہ بچے کی شناخت واضح نہیں تھی، مگر ٹیم نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔
مختلف ذرائع استعمال کرنے کے بعد ٹیم بالآخر اس کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ یہ معلوم ہوا کہ بچہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی تھا۔خاندان سے رابطہ کیا گیا تھا، تمام معلومات کی تصدیق کی گئی تھی، اور ہر پہلو کو باریک بینی سے چیک کیا گیا تھا۔ تصدیق کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہ بچہ فیصل ہے، غلام جعفر کا بیٹا، جو گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھا۔
یہ لمحہ خاندان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا تھا، کیونکہ دو سال کی جدائی کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت بن گئی تھی۔
آخرکار وہ دن آیا جب فیصل کو اس کے خاندان کے حوالے کیا گیا تھا۔
یہ صرف ایک بچے کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی خوشیوں، ایک ماں باپ کے سکون اور ایک بکھرے ہوئے خاندان کے دوبارہ جڑنے کی کہانی تھی۔
الحمدللہ!

01/06/2026

یہ ایک ایسے معصوم بچے کی کہانی ہے جس کی زندگی نے اسے اپنے گھر اور خاندان سے ہزاروں کلومیٹر دور کر دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اسے دوبارہ اپنے پیاروں سے ملا دیا۔
یہ بچہ، جس کا نام عدنان ہے، والد کا نام تاج محمد اور والدہ کا نام غازیہ بتاتا تھا، ایک سال قبل فیض آباد، راولپنڈی کے علاقے سے لاوارث حالت میں ملا۔ جب اس سے اس کے گھر کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ بار بار صرف اتنا بتاتا کہ اس کا تعلق کابل، افغانستان سے ہے۔ کم عمری اور محدود معلومات کی وجہ سے وہ اپنے گھر کا مکمل پتہ یا خاندان تک پہنچنے کے لیے کوئی واضح سراغ فراہم نہیں کر پا رہا تھا۔
میرا پیارا ٹیم نے عدنان کی شناخت اور اس کے اہلِ خانہ کی تلاش کے لیے فوری اقدامات کیے۔ بچے کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا گیا اور اس کی ویڈیو میرا پیارا کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان، بالخصوص کابل کے مختلف علاقوں میں مقامی افراد، سماجی کارکنوں اور کمیونٹی ممبران تک بھی یہ معلومات پہنچائی گئیں تاکہ بچے کے خاندان کا سراغ مل سکے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت فرمائی اور چند ہی گھنٹوں کے اندر کابل، افغانستان سے عدنان کے ورثا نے میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ویڈیو دیکھ کر بچے کو پہچان لیا اور ضروری معلومات فراہم کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عدنان واقعی ان کا گمشدہ بچہ ہے، جس کی وہ طویل عرصے سے تلاش کر رہے تھے۔
اس خبر نے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ ایک طرف والدین کی بے چینی ختم ہوئی تو دوسری طرف عدنان کے لیے بھی اپنے گھر اور اپنوں تک واپسی کی امید روشن ہو گئی۔
الحمدللہ! تمام ضروری قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد عدنان کی اپنے والد اور خاندان سے ملاقات ممکن ہوئی۔ یہ صرف ایک بچے کی بازیابی کی داستان نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلوص، مسلسل کوشش اور سوشل میڈیا کے درست استعمال سے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملایا جا سکتا ہے۔
ماشاء اللہ، لا قوۃ الا باللہ

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safe City Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share