29/01/2014
۱۔اے میرے آقاو مولا حسین۔۔۔اشھد انک قد اقمت الصلوہ۔۔۔۔۔میں گواھی دیتا ھوں کہ آپ نے نماز کو قائم کیا۔۲۔اے میرے مولا حسین آپ نے عصر تاسوعا ایک رات کی مھلت مانگی اور فرمایا مجھے نماز سے محبت ھے میں آج رات نماز پڑھنا ٖچاھتا ھوں۔۳۔ اے میرے مولا حسین،جب ظھر کے وقت ابو ثمامہ صیداوی نے روز عاشور نماز ظھر کی یاد آوری کی تو آپ نے اسے دعا دی۔۴اے میرے مولا حسین عاشورا کی نماز ظھر میں آپ نے اور آپکے جانثاروں نے دشمن کے تیروں کی بارش میں نماز قائم کی۔۵ اے میرے مولا حسین روز عاشورا علی اکبر کی اذان کی صدا ھمیں اب بھی آتی ہے۔۶اے میرے مولا حسین۔ظھر عاشورا (سخت ترین لمحات میں بھی )آپ نے آذان، اقامت،اور نمازاول وقت جیسے مستحبات کا بھی آپ نے خیال رکھا۔۷۔اے میرے مولا حسین آپ نے اپنی بھن سے فرمایا ۔مجھے نماز شب میں نہ بھولنا۔۸ اے میرے مولا حسین آپکی عزت و عظمت کا ایک پھلو یہ بھی ھے کہ آپ کے پدر گرامی ھیں جو خانہ کعبہ میں متولد ھوے اور محراب عبادت میں شھید ھوے اور آپکی مادر گرامی کی نماز کے نور کی ؒضیا سے آسمان منور ھیں۔۸اے میرے مولا حسین آپکی کربلا کی تربت پر سجدہ کرنے سے نماز قبول ھوتی ھے۔ اے میرے مولا ھمارے لیے دعا کریں کہ ھم بھی نماز کی لذت کو چکھ سکیں اور ھماری اولادیں اور نسلیں بھی نماز کی لذت چکھ سکیں آمین اقتباس از کتاب نماز عشق حسین۔