Iqra public Library

Iqra public Library This is a free public library which provides free education to the local peoples. You can also donat

22/07/2025

#موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں جن کا تذکرہ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ (ﺳﻮﺭة النبأ 40 #)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۲- * يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ( ﺍﺧﺮﯼ ) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ لئے ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ اس کے ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ان کے ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ٹھہرایا ﮨﻮﺗﺎ
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کی ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں سوچنے ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے ۔

*آﻣِﻴﻦ ثم آمین ﻳَﺎ ﺭَﺏَّ ﺍﻟْﻌَﺎﻟَﻤِﻴْﻦ*

28/05/2025

تقریب رونمائ کتب
میری درخواست پر مل کے نامور کالم نگار اور شاعر خالد مسعود خان

ُصداعتی ایوارڈ یافتہ ادیب شاکر حسین شاکر ُمعروف ادیب رضی الدین رضی اور مہمان گرامی میرے گھر میری دو کتب کی تقریب رونمائ کےلئے تشریف لا رھے ھیں
میری تمام دوست اور احبا ب سے شرکت کی درخواست ھے
آپ کا منتظر
ڈاکٹر ارشد

15/05/2025
We would like to inform all book lovers that we have got new variety of books in a diverse range of topics Iqra public l...
15/05/2025

We would like to inform all book lovers that we have got new variety of books in a diverse range of topics
Iqra public library has free membership and we have got very positive feedback from the people of the area and extends localities

07/11/2023

*سیرت النبیﷺ ۔۔۔ قسط: 69*

*حضرت خدیجہ ؓ جوارِ رحمت میں:*

حضرت ابو طالب کی وفات کے تین دن بعد اور ایک اور روایت کے بموجب 35 دن بعد رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی وفات پائی، ان کی وفات نبوت کے دسویں سال ماہِ رمضان میں ہوئی، اس وقت وہ 65 برس کی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی عمر کی پچاسویں منزل میں تھے، یوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں مددگار اور غمگسار اٹھ گئے، یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بڑا سخت صدمہ تھا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ کی بڑی گرانقدر نعمت تھیں، وہ ایک چوتھائی صدی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت میں رہیں اور اس دوران رنج وقلق کا وقت آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تڑپ اٹھتیں، سنگین اور مشکل ترین حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قوت پہنچاتیں، تبلیغِ رسالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرتیں اور اس تلخ ترین جہاد کی سختیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریک کار رہتیں اور اپنی جان ومال سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خیر خواہی وغمگساری کرتیں۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد کبھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل سے محو نہ ہوئی، اکثر یاد فرمایا کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

*"جس وقت لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا وہ مجھ پر ایمان لائیں، جس وقت لوگوں نے مجھے جھٹلایا انہوں نے میری تصدیق کی، جس وقت لوگوں نے مجھے محروم کیا انہوں نے مجھے اپنے مال میں شریک کیا اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی اور دوسری بیویوں سے کوئی اولاد نہ دی۔"(مسند احمد , 6/118)*

صحیح بخاری میں سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:

*"اے اللہ کے رسول! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ خدیجہ رضی اللہ عنہ تشریف لا رہی ہیں، ان کے پاس ایک برتن ہے، جس میں سالن یا کھانا یا کوئی مشروب ہے، جب وہ آپ کے پاس آپہنچیں تو آپ انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور جنت میں موتی کے ایک محل کی بشارت دیں، جس میں نہ شور وشغب ہوگا نہ درماندگی وتکان۔" (صحیح بخاری , باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحوالہ الرحیق المختوم)*

پچیس سال تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مددگار و مشیر رہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اولاد بجز حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ (جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے تھے) ان ہی سے ہوئی، ان کی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا، تاریخِ وفات 11 رمضان 10 نبوت ہے، اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے، انہیں مقام جحون میں دفن کیا گیا۔

حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے یہ دونوں الم انگیز حادثے صرف چند دنوں کے دوران پیش آئے، جس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں غم والم کے احساسات موجزن ہوگئے اور اس کے بعد قوم کی طرف سے بھی مصائب کا طومار بندھ گیا، کیونکہ حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد ان کی جسارت بڑھ گئی اور وہ کھل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت اور تکلیف پہنچانے لگے، اسی طرح کے پے در پے آلام ومصائب کی بنا پر اس سال کو ''عام الحزن'' یعنی غم کا سال قرار دیا گیا اور یہ سال اسی نام سے تاریخ میں مشہور ہوگیا۔
حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد ابولہب کو سردار قبیلہ بنایا گیا، اس کا اصل نام عبد العزیٰ تھا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔

We have new stock arrival
27/08/2023

We have new stock arrival

09/02/2022

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار دنیاوی باتیں اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے جبریلؑ بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ خدا چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے۔
(بکھرے موتی ص 938)

Today Jung Newspaper ڈاکٹر ارشد ملک کا کالم
11/10/2021

Today Jung Newspaper

ڈاکٹر ارشد ملک کا کالم

اسلام کا کتنا عبرتناک منظر تھا جب معتصم بااللہ آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو ‏خان کے سامنے کھ...
10/10/2021

اسلام کا کتنا عبرتناک منظر تھا جب معتصم بااللہ آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو ‏خان کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔!

کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور خلیفہ کہ سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے جواہرات رکھ دیے۔۔۔۔۔!

پھر معتصم سے کہا :
" کھاؤ، پیٹ بھر کر کھاؤ، جو سونا چاندی تم اکٹھا کرتے تھے وہ کھاؤ "

بغداد کا تاج دار بےچارگی و بےبسی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
‏بولا " میں سونا کیسے کھاؤں؟ "

ہلاکو نے فورا کہا :
" پھر تم نے یہ سونا اور چاندی کیوں جمع کیا؟

وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کے لئے ترغیب دیتا تھا،
کچھ جواب نہ دے سکا۔۔۔۔۔!

ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے
اور ‏سوال کیا:
" تم نے ان جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیر کیوں نہیں بنائے ؟
تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کی بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی کہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟"

خلیفہ نے تأسف سے جواب دیا:
" اللہ کی یہی مرضی تھی "

‏ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا:
" پھر جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے وہ بھی خدا ہی کی مرضی ہوگی "

ہلاکو خان نے معتصم بااللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا اور چشم فلک نے دیکھا کہ اس نے بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔۔۔!

ہلاکو نے کہا " آج میں نے بغداد کو ‏صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔۔۔۔!"
اور ایسا ہی ہوا۔۔۔۔

تاریخ تو فتوحات گنتی ہے
محل،
لباس،
ہیرے،
جواہرات
اور انواع و اقسام کے لذیذ کھانے نہیں۔۔۔۔۔!

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا مگر دیوار پر تلواریں ضرور لٹکی ہوئی ہوتی تھیں۔
جب اسلامی افواج کسی علاقے میں فاتحانہ داخل ہوتی تھیں تو ان کے جسموں پر کپڑے بھی پورے نہیں ہوتے تھے ۔
ذرا تصور کریں۔۔۔۔۔۔!
جب یورپ کے چپےچپے پر تجربہ گاہیں
اور تحقیقاتی مراکز قائم ہو رہے تھے تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں تاج محل تعمیر کروا رہا تھا
اور
اسی دوران برطانیہ کا بادشاہ اپنی ملکہ کے دوران ڈیلیوری فوت ہو جانے پر ریسرچ کے لئے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی بنیاد رکھ رہا تھا۔۔۔۔۔!

‏جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے تب یہاں تان سین جیسے گوئیے نت نئے راگ ایجاد کر رہےتھے اور نوخیز خوبصورت و پرکشش رقاصائیں شاہی درباروں کی زینت و شان بنی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔!

‏جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرتگالیوں کے بحری بیڑے برصغیر کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے تب ہمارے ارباب اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سے مدہوش پڑے تھے۔۔۔

تاریخ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی ؟
شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑے ہیں یا نہیں ؟

أج بھی ‏حکومتی ایوانوں میں خوشامدیوں، مراثیوں، بھانڈوں ، طبلہ نوازوں، طوائفوں، وظیفہ خوار شاعروں ، ٹی وی اینکروں ،نام نہاد دانشوروں ، درباری ملاٶں اور جی حضوریوں کا راج ہے یا نہیں ؟
أج بھی بغداد کی تباہی سے ہمارے حکمرانوں نے کچھ سبق نہیں لیا ۔ أج بھی ایک طرف ملک کے ساٸسدان ، انجینیرز ، اور علما ٕ کو وہ پذیراٸی حاصل نہیں ہے جو بھانڈوں اور مراثیوں کو حاصل ہے ۔
💔💔ابھی حال ہی میں ملک کا سب سے عظیم ایٹمی ساٸنسدان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بیمار ہوے💔💔 ان کو کسی نے گھاس تک نہیں ڈالی اور اسی دوران ایک بھانڈ کے علاج کے لیے حکومت نے عوام کی دولت میں سے اس کے لیے کروڑوں مختص کردیے ۔
اس کے نتیجے میں معاشرے میں وہی طبقات پروان چڑھیں گے جن کی حکومت سرپرستی کرے گی ۔

تاریخ کو صرف کامیابیوں سے غرض ہوتی ہے اور تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی۔۔۔۔!

یاد رکھیں جن کو آج بھی دولت سے لگاؤ اور طاغوت کی غلامی کا چسکا ہے
ان کا حال خلیفہ معتصم باللہ سے کم نہیں ہو گا۔
*آجکل ہماری مسلم امہ کو اس حالت تک پہنچانے میں دولت و اختیار سے مخمور مسلم حکمرانوں کا ہی ہاتھ ہے,تاریخ کو پڑھ کر ایسا ہی لگتا ہے*

وہ وقت جب بغداد میں اسلامی سلطنت کا زوال ہوا اور ہلاکو خان نے ظلم و بربریت سے بغداد کی پرسکون فضاء کو تباہ و برباد کیا ت...
21/09/2021

وہ وقت جب بغداد میں اسلامی سلطنت کا زوال ہوا اور ہلاکو خان نے ظلم و بربریت سے بغداد کی پرسکون فضاء کو تباہ و برباد کیا تو علم حاصل کرنے کی غرض سے موجود ایک مسافر نے حالات دیکھ کر شکستہ دلی کے ساتھ وہاں سے کوچ کیا۔ لیکن پھر وہ کسی ایک جگہ کے قیام پر مطمئن نہ ہوسکے اور اطراف عالم کو دیکھنے کے آرزو مند ہوۓ۔
دوستو۔۔! آج بات کرتے ہیں اس مشہور زمانہ شخصیت کی جن کی رباعیاں اور حکاٸتیں دنیا بھر میں پڑھی اور پڑھاٸی جاتیں ہیں اور انکی لکھی کتابیں بلاشبہ شاہکار ہیں۔
اس شخصیت کا اسم گرامی شرف الدین تھا لقب مصلح الدین اور سعدی تخلص ہے۔ اور عام طور پر دنیا انہیں شیخ سعدی رح کے نام سے جانتی ہے۔
آپ ایران کے شہر شیراز میں تقریباً 1184 ع میں عبداللہ شیرازی کے گھر پیدا ہوئے۔
آپ کے والد عبداﷲ شیرازی ملک کے حکمران سعد زنگی کے پاس کام کرتے تھے۔شیخ سعدی کو بچپن ہی سے ادب اور شعرو شاعری کا شوق تھا اس لیے بچپن
سے ہی حاکم وقت کے نام کی مناسبت سے آپ نے ”سعدی“ تخلص تجویز کرلیا تھا۔
بعد ازاں اوائل لڑکپن میں والد کی وفات کے بعد آپ نے شیراز کےعلما سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر شیراز سے بغداد آئے جہاں انہوں نے مشہور استاذ عبدالرحمن بن جوزی سےفقیہانہ تعلیم پائی۔آپ امام شافعی رح کے پیروکار تھے۔
بغداد پر تاتاریوں کی یلغار اور مسلمانوں کی تباہی دیکھ کر وہ مسلمانوں کے زوال پر بہت رنجیدہ تھے مگر اپنے چاروں طرف انسانیت سوز اور دہشت کے ماحول کے باوجود انہیں انسانوں سے اچھی امید تھی اور اس لیے انہوں نے اپنی تمام تر توجہ اخلاقیات اور خیرو شر کی وضاحت
کرنے پر صرف کردی۔ شیخ سعدی نے جس قدر اچھائی اور بھلائی کی وکالت کی ہے وہ اسی قدر عملی اور حقیقت پسندانہ مفکر بھی تھے۔ جس دور میں شیخ سعدی زندگی گزار رہے تھے وہ انتہائی متشدد اور سفاکیت سے بھرا دور تھا۔ انہوں نے زندگی کے اگلے تیس سال سفر میں گزارے۔ ان کے وطن سے طویل باہر رہنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شیراز اور ان کے گرد و نواح کے علاقوں میں امن و امان نہ تھا۔ یہ زمانہ مظفرالدین سعد بن زنگی کی حکومت تھا۔
1236ء میں سعد زنگی فوت ہوا تو عنان حکومت اس کے بیٹے مظفر الدین ابوبکر بن سعد بن زنگی نے سنبھالی۔
اس نے تاتاریوں سے مصلحت کرکے
فارس کو قتل و غارت سے بچایا اور اہل فارس کو امن و امان نصیب ہوا ۔
جب دور دور تک اسکے عدل و انصاف کی خبریں پہنچیں تو شیخ سعدی کو وطن واپسی کا خیال آیا اور وطن کی محبت بالآخر انہیں شیراز لے آئی۔
آپ نے تقریبا سو سال زندگی پائی ۔ جس میں تیس سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے، تیس سال
سیروسیاحت کی، تیس سال تصانیف لکھنے میں گزارے اور بقیہ زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی۔
ایک یہ بھی ان کی عظمت کی دلیل ہے کہ آج تقریباً 800 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ایران سے باہر کے ممالک میں ان کی تصنیف کردہ کتاب گلستان کسی نہ کسی شکل میں درسی نصاب میں ضرور شامل ہے۔
شیخ سعدی رح کو ان کے اقوال زریں کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہے جن میں سب سے زیادہ مشہور "بنی آدم" اور "گلستان" کا حصہ ہے۔
سعدی کو گلستان اور بوستان تحریر کیے ہوئے بہت سے خزاں کے موسم گزر چکے ہیں لیکن صدیوں پہلے شیراز واپس آنے کے بعد ان کی گئی پیشن گوئی کے مطابق ان کی حکمت اور دانشمندی سےبھری یہ کتابیں وقت کی آزمائش پر پوری اتری ہیں۔
شیخ سعدی کی ایک عربی رباعی بہت مشہور ہے۔
بلغ العلےٰ بکمالہٖ​
کشفَ الدُجیٰ بجمالہٖ​
حسُنت جمیعُ خِصالہٖ​
صلو علیہ و آلہٖ​
ترجمہ:
​​پہنچے بلندیوں پہ ، وہ ﷺ اپنے کمال سے​
چھٹ گئے اندھیرے آپ ﷺ کے حسن و جمال سے
آپ کی سبھی عادات مبارکہ اور سنتیں بہت پیاری ہیں​
آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر سلام ہو​
مشہور واقعہ ہے کہ انہوں نے مدح رسول میں تین مصرعے کہے ،کوشش کے باوجود چوتھا مصرعہ نہ بن پا رہا تھا اور سخت پریشان تھے۔ ایک شب انہیں خواب میں بشارت ہوئی حضور سرور کائنات
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنفس نفیس موجود ہیں اور شیخ سعدی سے فرماتے ہیں سعدی تم نے تین مصرعے کہے ہیں ذرا سناؤ۔
شیخ سعدی نے تینوں مصرعے سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ مصرعہ بڑھا لو
”صلو علیہ و آلہ“
اور یوں حضرت شیخ سعدی کی نعتیہ رباعی مکمل ہوئی
اللہ تعالیٰ نے شیخ سعدی رح کی اس رباعی کو شرف قبولیت بخشا۔ ہندوستان سے ملتان کے حاکم نے قاصد بھیج کر آپ کو ہندوستان آنے کی دعوت دی مگر ضعف و کمزوری کی وجہ سے آپ نے معذرت کرلی تھی۔ آپ نے اپنی باقی عمر شیراز کی ایک خانقاہ میں گوشہ نشینی اختیار کر کے گزاری، جو شیراز سے
ڈیڑھ میل کے فاصلے پر رکن آباد کے کنارے واقع ہے۔
بعد از وفات اسی خانقاہ میں انہیں دفن کیا گیا۔
آپ کا مزار سعدیہ کے نام سے مشہور ہے جس کے اردگرد ایک شاندار باغ ہے جو کہ مرجع خلائق ہے۔
بعد از وفات تربت ما در زمیں مجوی
درسینہ ھای مردم عارف مزار ما است۔

Address

Malik Chowk Taty Pur Road Qadir Pur Raan Multan
Multan
59020

Opening Hours

Monday 07:30 - 19:30
Tuesday 07:30 - 19:30
Wednesday 07:30 - 19:30
Thursday 07:30 - 19:30
Saturday 07:30 - 19:30
Sunday 07:30 - 19:30

Telephone

03036161091

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqra public Library posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Iqra public Library:

Share

Category