میاں چنوں سٹی-Mian Channu City

میاں چنوں سٹی-Mian Channu City Beautifull City of Pakistan
www.facebook.com/MianChannuCity Its limits were last extended in the year 1950. Punjabi is the spoken language of people.

Mian Channu is a city in Punjab province, Pakistan .In the year 1919, it was declared as a notified area Committee and in 1938 as a Town Committee. Since then no extension has been made and the development in the Town from 1947 to 1961 remained slow. It was assigned of Municipal Committee in 1975, as it had grown into small urban centre by that time. After that the Town started developing and majo

r growth has been taking place from 1972 to 1984. But the trend of growth in this period has largely been along G.T Road and in the northern direction. It has been the headquarters of the Mian Channu Tehsil of Khanewal District since 1985[1] and is administratively subdivided into 3 Union councils.[2] It has approximately 65,000 residents and is located on the Grand Trunk Road (250 km South West of Lahore and 1050 km North East of Karachi) and KLP (Karachi, Lahore, Peshawar) railway line. For a period of more than a century, Mian Channu has been part of District of Multan. With the raising of status of Mian Channu to a Tehsil Headquarter and creation of a new District of Khanewal from Its Jully 1985, Mian Channu Tehsil become a part of the new District of Khanewal. The city is one of the major contributor to agricultural production. Cotton, wheat and mango are the major agricultural products. It is also very popular for its property value. Major crops of the town are wheat , grain, peas, barley are the important crops of Rabi season, while Kharif crops are cotton, sugarcane, jawar, bajra, oil seeds which are shipped by rail and road to other parts of the country.

19/04/2026


10/04/2026

*وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ*

پٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی، نئی قیمت 366 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر

ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے فی لیٹر کمی، نئی قیمت 385 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر

پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا

برصغیر میں اعشاری نظام نافذ ہونے سے پہلے کرنسی کی قدیم درجہ بندی:
06/04/2026

برصغیر میں اعشاری نظام نافذ ہونے سے پہلے کرنسی کی قدیم درجہ بندی:

ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اور پٹرول میں 138 روپے فی لیٹر کا خوفناک اضافہ ،  ان للہ و ان الیہ رٰجعون ظالموں نے بے...
03/04/2026

ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اور پٹرول میں 138 روپے فی لیٹر کا خوفناک اضافہ ، ان للہ و ان الیہ رٰجعون

ظالموں نے بے رحمانہ انداز میں کچھ سوچے سمجھے بغیر ہی تمام قسم کی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ناقابلِ یقین حد تک بڑھا دیا ۔ اب ہر بندہ اپنے اپنے حساب سے معاملات کو مینیج کرنے کیلئے تخمینے لگا رہا ہے کہ یہ کر لوں گا ، وہ کر لوں گا مگر حقیقت میں کوئی بھی ، کچھ بھی کر کے اس مصیبت کو نہیں سنبھال پائے گا ۔ یہ سارے اندازے ، تخمینے اور احتیاطیں ایک دو روز میں ہی دھواں بن کر اڑ جانے ہیں ۔ پھر وہی آپ ہونگے اور آپ کے اخراجات ۔ ڈیزل پٹرول کی بڑھی ہوئی قیمتیں ہر شکل میں ہمارے سامنے کھڑی ہو جائیں گی ۔

پٹرول اور ڈیزل ملک کے معاشی نظام میں بالکل وہی کردار ادا کرتے ہیں جو جسم میں خون کرتا ہے ۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ملک کے معاشی وجود سے خون نچوڑ لیا گیا ہے ۔

میری رائے میں اصل تباہی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے برپا ہونی ہے کیونکہ تمام بڑی گاڑیاں ، سامان ڈھونے والے ٹرک ٹریلر ، بسیں اور حتیٰ کہ ٹرین تک ڈیزل سے چلتے ہیں ۔ ہمارا پورا تجارتی نظام ہی ٹرانسپورٹ پر چل رہا ہے تو کوئی کیسے مہنگائی کی اس مصیبت سے بچ پائے گا ؟

گراف دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ ہمارے سر پر مسلط لوگوں نے پٹرولیم کی قیمتوں میں دنیا میں سب سے زیادہ یعنی %72 اضافہ کیا ہے گویا یہ جنگ ہمارے ملک میں لڑی جا رہی ہو ۔

تو بھائیو ، مہنگائی کے اس سمندر میں ڈبکیاں لگانے کی تیاری پکڑیں ، کیونکہ ہم سب اجتماعی طور پر ی دے گئے ہیں !

✍🏻حق بنتا ہے کہ اچھائی کا اعتراف کیا جائےمحنت کش، صاف گو اور اپنے کام سے محبت کرنے والے بھائی غلام حسین صاحب فاسٹ فوڈز ک...
28/03/2026

✍🏻حق بنتا ہے کہ اچھائی کا اعتراف کیا جائے
محنت کش، صاف گو اور اپنے کام سے محبت کرنے والے بھائی غلام حسین صاحب فاسٹ فوڈز کے شعبہ میں بطور ورکرز اپنی نمایاں پہچان رکھتے ہیں۔جہاں لوگ شہر میاں چنوں میں بہت سے دکان مالکان یا منیجرز کو بھی نہیں جانتے وہاں یہ بھائی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔
فاسٹ فوڈز کو سکول، کالجز،سرکاری دفاتر اور گھروں یا تعلیمی اداروں تک پہچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نفیس اور شفیق انسان ہیں۔
صبح سے ایک شاپ کی طرف سے کافی تعداد میں پوسٹیں کی جارہی ہیں کہ ان سے لا تعلقی کا اظہار کیا جا رہا ہے دیکھ کر دلی دُکھ ہوا۔
ملازمت پیشہ افراد کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی بہتری کے لیے کسی دوسرے ادارے کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی شرعی، قانونی یا اخلاقی پاپندی عائد نہیں۔
کسی گزشتہ ملازم کی یا کسی غریب شخص کی تحقیر کا کسی کو کوئی حق حاصل نہیں۔
ایسے رویے کی بطورِ شہری پُر زور مذمت کرتا ہوں۔
ghulam hussain♥️♥️

میاں چنوں بس اسٹینڈ کے قریب تیز رفتار بس نے بے قابو ہو کر شہریوں کو کچل دیامتعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات
24/03/2026

میاں چنوں بس اسٹینڈ کے قریب تیز رفتار بس نے بے قابو ہو کر شہریوں کو کچل دیا
متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات

14/03/2026

ایران نے دو ہزار چوبیس میں اکیلے چین کو
32.5
ارب ڈالر کا تیل فروخت کیا
جبکہ دو ہزار پچیس میں ہی ایران نےصرف چین کو
45.7
ارب ڈالر کا تیل فروخت کیا
اب یہ فروخت محض چین کو ھے
اس کے علاؤہ ایران کا تیل جو کئی ارب ڈالر کا پاکستان سمگل ہوتا اور دیگر ممالک میں دوسرے طریقوں سے جاتا ھے وہ الگ ھے
دو برسوں میں 78ارب ڈالر کا تو محض ایک ملک کو تیل فروخت ہوا
اس کے علاؤہ دیگر ایرانی آشیا کی ایکسپورٹ الگ ہو گی
اسی طرح تمام گلف ممالک جن میں عراق عمان کویت ،یو اے ای ،سعودی ،بہرین
قطر
یہ سب کھربوں ڈالر کا تیل ہر سال دنیا بھر میں سیل کرتے ہیں
سیاحت اور رئیل اسٹیٹ اور عیاشی کے اڈوں سے اربوں ڈالر الگ کما رھے ہیں
لیکن میرے وطن عزیز میں بے شمار گدھے ایسے ہیں کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں چڑی پیشاب کر دے تو یہ گدھے فورن شور مچانا شروع کر دیتے کہ پاکستان مدد کو کیون نہیں جاتا ،
حیرت ھے تم پر کہ تمہاری چھوٹی کھوپڑی میں اتنی سوچ تک نہیں آتی کہ
پاکستان اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے دفاع کو مضبوط کرتا رھا ھے
اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کے سامنے کھڑا رھا ھے
کیا ایران سعودی عرب سمیت کسی ملک نے آج تک پاکستان کی کسی جنگ میں براہ راست مدد کی ؟؟؟
پاکستان دو تین ارب ڈالر کی خاطر آئی ایم ایف کے پاس مہینوں چکر لگاتا رھا کیا ان عیاش مسلم ممالک نے کبھی یہ سوچا کہ ہماری اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت چند ٹکوں کے لیے مشکل میں ھے
اگر یہ سب ایک ایک ارب ڈالر بھی دیتے تو کیا پاکستان کو کسی ائی ایم ایف کی ضرورت تھی ؟؟
جس اسلامی ملک نے بھی میرے وطن عزیز کی جب کبھی مدد کی اپنے مطلب کی خاطر کی !
اور نہایت قلیل طرح سے کی
سچ تو یہ ھے کہ آج مسلم دنیا کے نان عرب ممالک جیسے ملائیشیا انڈونیشیا ترکیہ
پاکستان بنگلا دیش وغیرہ ان عرب ممالک سے کہیں بہتر اور مسلم بھائی چارے کا اظہار کرتے ہیں
پاکستانیو کو بھی اب ان جذباتی نعروں سے باہر آجانا چاہیے اور اس انداز سے سوچنا چاہیے کہ جو پاکستان کے کام آوے گا پاکستان بھی بس اسی کے کام آوے گا
ورنہ اپنے ڈرامے خود سنمھالو
اور ہاں پاکستان کے لوگ ان عربوں اور فارسیوں سے کہیں بہتر اسلام کے پابند ہیں اور جتنی تعظیم و تکریم اسلام کی پاکستان میں ہے دنیا کے ستاون اسلامی ممالک میں اور کسی میں نہیں ۔
پاکستانیو نے تو اسلام کے نام پر سب سے پیار کیا صدام حسین کے یہاں پوسٹر لگتے تھے وہی صدام حسین جو انڈو پاک ہر جنگ میں بھارت کا ساتھ دیتا آیا
پاکستان میں ایران زندہ باد کے نعرے لگتے رھے وہی ایران جو آج تک ہر جگہ پاکستان سے زیادہ بھارت کو اہمیت دیتا آیا
پاکستان میں سعودی عرب کے لیے دل و جان سے پیار اٹھتا ھے لیکن کیا پاکستانیوں کو یہ خبر ھے کہ سعودی عرب کی پاکستان سے دس گنا زیادہ انوسٹمنٹ بھارت میں ھے
یو اے ای کے حکمرانون کو پاکستان آنے پر پروٹوکولز دیتے ہیں لیکن وہی یو اے ای اپنی ہر بڑی بزنس ڈیل بھارت سے کرتا ھے
خدارا پاکستانیوں اب بس کر دو
اس غریب ملک پر رحم کرو
جس نے تمہیں شناخت دی
اور یہی ملک اسلام کی آخری امید ھے
دنیا کو اپنی جنگیں خود لڑنے دو
ہم اسی کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو ہماری مدد کرے گا
کیونکہ یہ جنگیں اسلام کی نہیں
اپنے اپنے مفادات کی ہیں
#پاکستان
#ایران
#سعودی
#قطر
#بحرین
#کویت
#عمان
#ترکیہ
#بنگلہ #دیش
#انڈونیشیا
#ملائشیا
#شام
#مصر
#متحدہ #عرب #امارات
#لبیا
#تیونس
#آذربائیجان
#ازبکستان
#ترکمانستان
#افغانستان
#برونائی
#مالدیپ

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔سرگودھا سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمر فاروق باجوہ نے اپنی والدہ کو شدید جگر ک...
14/03/2026

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمر فاروق باجوہ نے اپنی والدہ کو شدید جگر کی بیماری سے بچانے کے لیے اپنا جگر عطیہ کیا۔ یہ ٹرانسپلانٹ سرجری شیخ زاید ہسپتال میں اس امید کے ساتھ کی گئی تھی کہ ان کی والدہ کو زندگی کا دوسرا موقع مل سکے گا۔

لیکن افسوسناک طور پر آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث عمر فاروق اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی قربانی نے ہزاروں دلوں کو غمگین کر دیا ہے اور یہ ماں کے لیے اولاد کی بے لوث محبت کی ایک عظیم مثال بن گئی ہے۔ ایک ایسا بیٹا جس نے اپنی جان کا حصہ اس ماں کے لیے قربان کر دیا جس نے اسے زندگی دی تھی۔ 🤲💔

اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

جب میں پہلی بار گھر سے نکلا اور اکیلے رہنے لگا، تو میں ہر اتوار اپنے والدین کو فون کیا کرتا تھا۔​ایک ہی وقت۔ ایک ہی نمبر...
11/03/2026

جب میں پہلی بار گھر سے نکلا اور اکیلے رہنے لگا، تو میں ہر اتوار اپنے والدین کو فون کیا کرتا تھا۔
​ایک ہی وقت۔ ایک ہی نمبر۔
​امی ہمیشہ دوسری گھنٹی پر فون اٹھا لیتیں۔ میں ان کی آواز میں مسکراہٹ محسوس کر سکتا تھا۔
اور دوسرے کمرے سے ابو چلاتے ہوئے کہتے:
​"اسے بتاؤ کہ گھاس کاٹنے والی مشین (lawn mower) آخر کار ٹھیک ہو گئی ہے!"
​یہ ہمارا چھوٹا سا اتوار کا معمول تھا—آدھے گھنٹے کی زندگی جو ہم باتوں کے ذریعے بانٹتے تھے۔
​وہ مجھ سے پوچھتے کہ کیا میں نے کھانا ٹھیک سے کھایا ہے۔
میں انہیں کام، موسم، چھوٹی چھوٹی باتوں اور کبھی کبھی بالکل عام سی چیزوں کے بارے میں بتاتا۔
وہ سادہ سی گفتگو جو کسی نہ کسی طرح ہمیں جوڑے رکھتی تھی۔
​وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، فون کالز کا سلسلہ کم ہوتا گیا۔
​پہلے ہر دوسرے ہفتے،
پھر مہینے میں ایک بار،
اور آخر کار... صرف تب، جب کوئی بہت ضروری بات کرنی ہوتی۔
​امی نے کبھی شکایت نہ کی۔
وہ بس نرمی سے کہتیں:
​"بیٹا، ہمیں معلوم ہے تم مصروف ہو، بس تمہاری خوشی اہم ہے۔"
​اور ہر بار میرا جواب ایک ہی ہوتا:
​"میں جلد کال کروں گا۔"
​لیکن وہ "جلد" ڈیڈلائنز، کاموں اور روزمرہ کی مصروفیات کے بھنور میں کہیں کھو جاتا۔
​ایک دن مجھے ابو کا ایک وائس میسج ملا۔
​"بیٹا، کافی وقت سے تمہاری آواز نہیں سنی۔
آج امی نے لزانیہ بنایا ہے۔ ہم تمہارے بارے میں ہی بات کر رہے تھے۔
کوئی جلدی نہیں... بس ہمیں تمہاری یاد آ رہی تھی۔"
​میں نے فوراً کال کی۔
​لیکن وہ سو چکے تھے۔
​اگلی صبح امی نے اسی شفقت سے فون اٹھایا، اگرچہ ان کی آواز میں تھوڑی سی لرزش تھی۔
​"کل تمہارے ابو جب فون کی گھنٹی بجی تو جذباتی ہو گئے تھے۔
انہیں لگا کہ یہ تم ہو، لیکن..."
​تب مجھے احساس ہوا۔
​اس بات سے اہم کچھ نہیں کہ میں انہیں یہ محسوس کرواتا رہوں کہ میں اب بھی ان کے ساتھ ہوں۔
​چاہے میرا دن کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو، میں ایک منٹ تو نکال ہی سکتا ہوں۔
​چنانچہ میں نے دوبارہ کال کرنا شروع کر دی۔
​ہر اتوار۔
​کبھی ایک گھنٹے کے لیے۔
کبھی صرف چند منٹوں کے لیے۔
​یہاں تک کہ جب میرے پاس سنانے کو کوئی بڑی خبر نہ ہو—میں بس سنتا ہوں:
​امی کی آواز،
ابو کا پیٹرول کی قیمتوں اور اس پرانی مشین کے بارے میں مذاق،
اس گھر کی جانی پہچانی آوازیں جو کبھی میرا گھر ہونا نہیں چھوڑیں۔
​اور ہر کال کے ساتھ، میں نے وجہ ڈھونڈنا چھوڑ دی۔
​یہ اب کوئی مجبوری نہیں رہی۔
یہ ایک معمول بن گیا۔
​ایک ان دیکھا دھاگہ جو لوگوں کو جوڑے رکھتا ہے—چاہے وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہوں۔
​گزشتہ اتوار ابو نے ایک بات کہی جو میرے دل میں اتر گئی:
​"تم جب چھوٹے تھے تو گھر کے پچھواڑے سے مجھے فون کر کے وہ پتھر دکھایا کرتے تھے جو تمہیں ملتا تھا۔
اب میں تمہاری کال کا انتظار اسی احساس کے ساتھ کرتا ہوں۔
اس لیے نہیں کہ مجھے کچھ چاہیے... بلکہ اس لیے کہ مجھے معلوم رہے کہ تم وہیں موجود ہو۔"
​میں آنسوؤں کے ساتھ مسکرایا۔
​کیونکہ محبت ہمیشہ بڑے الفاظ میں بات نہیں کرتی۔
​کبھی کبھی... یہ بس ایک فون کال ہوتی ہے۔ ❤️
​💡 ایک چھوٹی سی یاد دہانی:
اپنے والدین کو کال کرنے کے لیے کسی خاص وجہ کا انتظار نہ کریں۔
​انہیں بڑے تحفوں کی نہیں—صرف آپ کی آواز کی ضرورت ہے۔
​کیونکہ ایک دن فون کی گھنٹی بجنا بند ہو جائے گی۔
​اور آپ ایک اور اتوار کے لیے ترسا کریں گے۔
​📱 انہیں کال کریں۔
اپنے دن کے بارے میں بتائیں۔
ان کا حال پوچھیں۔
​محبت کالز کی گنتی نہیں کرتی۔
​یہ بس اگلی کال کا انتظار کرتی ہے۔

روس افغانستان پر حملہ آور ہوا تو شور مچا اب اگلا نمبر پاکستان کا ہے پھر دنیا نے دیکھا کس طرح روس کے ٹکڑے ہو گئے۔ امریکہ،...
10/03/2026

روس افغانستان پر حملہ آور ہوا تو شور مچا اب اگلا نمبر پاکستان کا ہے پھر دنیا نے دیکھا کس طرح روس کے ٹکڑے ہو گئے۔
امریکہ، نیٹو فورسز افغانستان گھسیں تو شور مچا پاکستان بھی گیا پھر کس طرع نیٹو فورسز ذلیل و خوار ہو کر نکلیں وہ بھی سب نے دیکھا۔
اب لوگ ایران کے بعد پاکستان کا نمبر لگا رہے ہیں تو عرض ہے آج تک جو نمبر لگاتے آئے الحمدللہ ان کا نمبر لگے گا❤️❤️🤲
PAKISTAN Hamesha zindabad ❤️🦅🇵🇰

‏پچھلے ایک سال میں پنجاب نے جنگ بھی دیکھی اور بدترین سیلاب بھی دیکھا، ہم نے جنگ میں یہ بھی سنا جنگ جانے اور پنجاب جانیں ...
10/02/2026

‏پچھلے ایک سال میں پنجاب نے جنگ بھی دیکھی اور بدترین سیلاب بھی دیکھا، ہم نے جنگ میں یہ بھی سنا جنگ جانے اور پنجاب جانیں اور سیلاب میں پنجاب کی مدد کے بجائے ٹھٹھے اڑائے گئے
‏لیکن پنجاب نے اپنی جنگ بھی لڑی اور ایسی لڑی کے دنیا مثالیں دیتی ہے، پنجاب نے سیلاب بھی برداشت کر لیا 22 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے لیکن کسی سے گلہ نہیں کیا کوئی شکایت نہیں، نا ریاست سے نا ان سے جو پانی کے مالک بن جاتے ہیں، نارمل حالات میں پنجاب اور پنجابی نے اپنے ریزیلیئنس سے سب کو شکست دی اور اب پنجاب نے بسنت کا جشن بھی پرامن طریقے اور حکومتی ہدایات کے مطابق منایا ہے تو دنیا مثالیں دے رہی ہے کہ پنجاب اور پنجابی کمال لوگ ہیں۔
‏یہ بہادروں کی سرزمین ہے۔
‏یہ زندہ دل لوگوں کا گھر ہے۔
‏یہاں نفرتیں نہیں ملے گئی۔
‏ محبت محنت اور زندگی جینا پنجاب اور پنجابی سے سیکھیں۔
‏سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں۔
‏پنجاب زندہ آباد❤️
‏ پاکستان پائندہ آباد🇵🇰

11/01/2026

Address

Mian Channun

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when میاں چنوں سٹی-Mian Channu City posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share