31/05/2026
میاں چنوں
اس تمام معاملے کے طول پکڑنے کی ایک بڑی وجہ ایم ایس کا رویہ اور طرزِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ متاثرین کو ساتھ لے کر جب صحافی مؤقف جاننے کے لیے ایم ایس کے پاس گئے تو توقع تھی کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے۔ اگر معاملہ درست تھا تو وارڈز میں نصب کیمروں کی فوٹیج نکال کر حقائق سامنے لائے جا سکتے تھے، جس سے غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو جاتا۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سابق ایم ایس نزیر ہراج اس موقع پر موجود ہوتے تو معاملے کو خوش اسلوبی اور دانشمندی سے حل کرتے، نہ کہ صحافیوں سے ان کی ڈگریاں طلب کر کے تلخی پیدا کرتے۔ صحافیوں کی تعلیمی قابلیت پر سوال اٹھانے کے بجائے اصل مسئلے کے حل پر توجہ دینا زیادہ مناسب تھا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ عہدے اور اختیارات اللہ تعالیٰ کی عطا ہوتے ہیں، اور تکبر کسی بھی منصب کی شان نہیں۔ بعض اوقات انسان کا معمولی سا غرور بھی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔ عوامی حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جب ہسپتال میں عطائیوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہو سکی تو صحافیوں کی ڈگریوں پر سوال اٹھانا مسائل کا حل نہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل اور شفاف انکوائری کروائی جائے، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا پردہ پوشی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔