09/07/2026
https://www.facebook.com/share/p/1Z9B4joT86/
برصغیر کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کسی شادی نے اتنا بڑا سیاسی طوفان برپا کیا ہو جتنا ڈاکٹر خان صاحب کی اکلوتی صاحبزادی مریم خان کی شادی نے کیا۔ یہ محض دو افراد کا ازدواجی بندھن نہیں تھا بلکہ اس دور کی سیاست، مذہبی حساسیت اور برصغیر کی بدلتی ہوئی سماجی اقدار کا ایک اہم واقعہ بن گیا۔
مریم خان (1920–1988ء) ڈاکٹر خان صاحب (خان عبدالجبار خان) کی اکلوتی بیٹی اور باچا خان (خان عبدالغفار خان) کی بھتیجی تھیں۔ ان کا تعلق برصغیر کے ان چند ممتاز سیاسی خاندانوں میں سے تھا جنہوں نے خدائی خدمتگار تحریک کے ذریعے پشتون معاشرے میں عدم تشدد، تعلیم اور سماجی اصلاح کی بنیاد رکھی۔ دوسری جانب ان کے والد ڈاکٹر خان صاحب متحدہ ہندوستان کے حامی، کانگریس کے اہم رہنما اور شمال مغربی سرحدی صوبے (NWFP) کے وزیرِاعلیٰ تھے۔
1942ء میں مریم خان کی منگنی رائل انڈین ایئر فورس کے نوجوان افسر فلائٹ لیفٹیننٹ کنور جسونت سنگھ سے ہوئی۔ اس خبر نے سرحد بھر میں ایک غیر معمولی سیاسی ہلچل پیدا کر دی۔ اس زمانے کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی حلقوں اور ڈاکٹر خان صاحب کے سیاسی مخالفین نے اس منگنی کو ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جسونت سنگھ کے نام نے اس تنازعے کو مزید ہوا دی۔ چونکہ ان کا نام "جسونت سنگھ" تھا، اس لیے مسلم لیگ اور بعض مذہبی حلقوں نے انہیں سکھ قرار دے کر اس شادی کو "مسلمان لڑکی کی سکھ سے شادی" کے طور پر پیش کیا۔ لیکن اس دور کے بعض معاصر اخبارات نے وضاحت کی کہ کنور جسونت سنگھ دراصل ایک ہندوستانی مسیحی (Indian Christian) تھے اور مرحوم راجہ ہرنام سنگھ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے نام کی وجہ سے اس شادی کی حقیقت کو جان بوجھ کر مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔
ایک معاصر انگریزی اخبار نے اس موقع پر لکھا:
> "مریم خان صاحب کی منگنی نے شمال مغربی سرحدی صوبے میں ایک نہایت سنگین سیاسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ مذہبی انتہا پسند اور ڈاکٹر خان صاحب کے سیاسی مخالفین اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کنور جسونت سنگھ ایک ہندوستانی مسیحی ہیں۔"
اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈاکٹر خان صاحب نے برطانیہ میں قیام کے دوران ایک انگریز خاتون سے شادی کی تھی، جبکہ مریم خان کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم بھی انگلینڈ میں ہوئی تھی۔ اخبار نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایسے پس منظر میں ایک ہندوستانی مسیحی سے ان کی شادی کو سیاسی بحران بنانا محض سیاسی مخالفین کی مہم کا حصہ تھا۔
یہ شادی روایتی اسلامی یا پشتون رسم و رواج کے مطابق نہیں بلکہ سول میرج کے ذریعے انجام پائی۔ بعد میں کنور جسونت سنگھ کی صاحبزادی برندا دوبے نے ایک انٹرویو میں اس شادی کے بارے میں کئی دلچسپ حقائق بیان کیے۔ ان کے مطابق:
> "مسلم لیگ نے اس شادی کو سیاسی مسئلہ بنا دیا اور یہ تاثر دیا کہ ڈاکٹر خان صاحب کی بیٹی ایک سکھ سے شادی کر رہی ہے۔ حقیقت میں میرے والد کو صرف ان کے نام کی وجہ سے سکھ سمجھا گیا۔"
برندا دوبے کے مطابق ڈاکٹر خان صاحب خود اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ مریم خان کی والدہ تقریب میں موجود تھیں۔ یہ سول تقریب اسکندر مرزا کی نگرانی میں منعقد ہوئی، جو بعد میں پاکستان کے پہلے صدر بنے۔
معروف مؤرخ راجموہن گاندھی نے بھی اس شادی کو اپنے دور کی ایک "ہائی پروفائل" شادی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک خاندانی تقریب نہیں تھی بلکہ تقسیمِ ہند سے پہلے کی سیاست میں کانگریس، خدائی خدمتگار تحریک اور مسلم لیگ کے درمیان جاری نظریاتی کشمکش کا ایک علامتی واقعہ بن گئی۔
عجیب و غریب تاریخ
fans