29/01/2026
حاجی غلام احمد بلور کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور سمجھ نہیں آتا کہ آغاز کہاں سے کیا جائے۔ وہ صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ وفا، استقامت اور نظریاتی پختگی کا وہ پیکر ہیں جنہوں نے پچپن برس تک پشاور سے لے کر تمام پشتونوں اور محکوم قومیتوں کے حقوق کی جنگ بے خوف ہو کر لڑی۔
حاجی صاحب نے کبھی اپنے نظریات پر سودے بازی نہیں کی۔ وقت کے جبر، حالات کی سختیوں اور ذاتی نقصان کے باوجود وہ اپنی جماعت، اپنی سوچ اور اپنے لوگوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ آج وہ محض پارلیمانی سیاست سے کنارہ کش ہو رہے ہیں، مگر اے این پی کے ہر فورم کے وہ کل بھی رکن تھے، آج بھی ہیں اور آنے والے کل میں بھی رہیں گے۔
ہمارے لیے حاجی غلام احمد بلور ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک ایسی درسگاہ جہاں سے ہم جیسے نوجوان نسل در نسل سیکھتے رہیں گے۔ یہ جدوجہد چند برسوں، وقتی مفادات یا محض اقتدار کی سیاست کا قصہ نہیں، بلکہ یہ خون کے رشتوں سے بھی مضبوط تعلق، نظریاتی وابستگی اور بے لوث خدمت کی داستان ہے۔
ہمیں حاجی صاحب کے صاف کردار، بے داغ سیاست اور ناقابلِ شکست حوصلے پر فخر ہے۔ ایسی شخصیات قوموں کی پہچان اور تحریکوں کا سرمایہ ہوتی ہیں۔