02/06/2026
ایک یتیم کی فریاد — رول 17-A کے نام
میرے والد صاحب نے اپنی پوری زندگی اس ریاستِ پاکستان اور محکمہ پنجاب پولیس کی خدمت میں گزار دی۔ وہ نہ کسی دولت کے طلبگار تھے، نہ کسی عہدے کے۔ دورانِ ڈیوٹی دل کا دورہ پڑنے سے اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے، اور پیچھے چھوڑ گئے ایک بیٹا، دو زیرِ تعلیم بہنیں اور ایک بیمار، ضعیف ماں۔
آج ہم جیسے نہ جانے کتنے یتیم بچے ہیں جو اس ملک میں رول رہے ہیں، صرف اس لیے کہ ایک ظالمانہ فیصلے نے رول 17-A کو ختم کر دیا۔
آج لاہور میں سرکاری ملازمین کا احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ سخت سرد راتیں ہوں یا فروری کی بے رحم ہوا، عورتیں، مرد، بہنیں، بیٹیاں سب سڑکوں پر ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مطالبات میں لیو ان کیشمنٹ، ڈسپیریٹی الاؤنس، کنٹریکٹ ملازمین کے حقوق تو شامل ہیں، مگر دورانِ سروس فوت ہونے والے یا میڈیکلی اَن فِٹ ملازمین کے یتیم بچوں کا کوئی ذکر نہیں۔
کیا یتیم کے آنسو نظر نہیں آتے؟
کیا ماں کی آہ سنائی نہیں دیتی؟
کیا وہ بچہ جو عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے، اس ریاست کا شہری نہیں؟
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے والا رسولِ اکرم ﷺ کے قریب ہو گا۔ قرآن و حدیث یتیم کے حقوق سے بھری پڑی ہیں، اور ہم ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں۔ پھر یہ کیسا انصاف ہے کہ یتیم کے روزگار کا واحد سہارا چھین لیا جائے؟
رول 17-A کوئی احسان نہیں تھا، یہ ایک قانونی اور آئینی حق تھا۔ آج یہ حق ختم کر کے ہزاروں خاندانوں کو غربت، بے روزگاری اور مایوسی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یاد رکھیے! موت کسی دروازے پر دستک دے کر نہیں آتی۔ آج جو احتجاج میں کھڑا ہے، کل اس کے بچوں کو بھی اسی کرب سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔
ہم حکومتی نمائندوں، تمام ملازمین کی تنظیموں، اور خاص طور پر قائدین سے اپیل نہیں بلکہ سوال کرتے ہیں:
کیا ملازم کی موت کے بعد اس کے بچوں کی ذمہ داری ریاست پر نہیں؟
کیا یتیم کا حق سب سے پہلے نہیں ہونا چاہیے؟
اگر آج بھی رول 17-A اور یتیم بچوں پر آواز نہ اٹھائی گئی تو تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ اس ملک میں حقوق کی بات تو ہوئی، مگر یتیم کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا۔
خدارا! اپنے دلوں کو زندہ کیجیے،
رول 17-A بحال کیجیے،
اور یتیم بچوں کو رُلنے سے بچا لیجیے۔
پرانی تحریر ہے