04/09/2026
ہم ایک دوسرے کو سننا کیوں بھول گئے؟
بدلتے معاشرے میں برداشت کا بحران
کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں سب لوگ بولنا چاہتے ہیں، لیکن سننا کوئی نہیں چاہتا۔
ہر شخص اپنی بات کو درست ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ اختلافِ رائے ہو تو بات دلیل سے آگے بڑھ کر ذاتی تنقید تک پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی کی رائے پسند نہ آئے تو ہم اسے سمجھنے کے بجائے فوراً رد کر دیتے ہیں۔ گھروں میں بھی معمولی اختلاف بعض اوقات ناراضی، خاموشی اور فاصلے میں بدل جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟
اختلاف دشمنی کیوں بن گیا؟
اختلاف انسانی معاشرے کا فطری حصہ ہے۔ دو انسان ایک ہی معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں، اور ضروری نہیں کہ ہر اختلاف میں ایک شخص غلط اور دوسرا درست ہو۔
اصل مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف برداشت نہ کرنا ہے۔
ہم نے اپنی رائے کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا ہے۔ جب کوئی ہماری رائے سے اختلاف کرتا ہے تو ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے ہماری ذات کو چیلنج کر دیا ہو۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ معاشرتی فاصلے پیدا کرتی ہے۔
سوشل میڈیا نے مسئلہ بڑھا دیا
سوشل میڈیا نے ہمیں اظہارِ رائے کا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم دیا، لیکن اس کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔
ہم اکثر پوری بات پڑھے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں، چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں اور کسی شخص کے ایک جملے کو اس کی پوری شخصیت کا نمائندہ سمجھ لیتے ہیں۔
غصے میں لکھی گئی ایک پوسٹ، ایک سخت تبصرہ یا ایک طنزیہ جملہ کبھی کبھی ایسے رشتے کو نقصان پہنچا دیتا ہے جو برسوں میں بنا ہوتا ہے۔
مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہماری تربیت ہے۔
ہمارے گھروں کا کیا حال ہے؟
برداشت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔
بچے صرف ہماری نصیحتوں سے نہیں بلکہ ہمارے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں بڑوں کو ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ نہیں ہوگا تو بچے بھی اختلاف کو دشمنی سمجھیں گے۔
ہمیں بچوں کو صرف اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں سکھانا چاہیے، بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ:
کسی کی بات سننا بھی ایک خوبی ہے۔
معافی مانگنا کمزوری نہیں۔
غلطی تسلیم کرنا شکست نہیں۔
اور اختلاف کرنا بدتمیزی نہیں۔
برداشت کا مطلب خاموش رہنا نہیں
برداشت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر غلط بات کو قبول کر لے۔
برداشت کا مطلب یہ ہے کہ ہم غلط بات کی مخالفت بھی مہذب انداز میں کر سکیں۔
ہم اختلاف کریں، مگر گالی نہ دیں۔
تنقید کریں، مگر تضحیک نہ کریں۔
سوال کریں، مگر الزام نہ لگائیں۔
اپنی بات کہیں، مگر دوسرے کو سننے کا حق بھی دیں۔
یہی ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔
ہمیں دوبارہ سننے کی عادت ڈالنی ہوگی
شاید ہمارے معاشرے کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت کسی بڑی تقریر یا لمبی بحث کی نہیں، بلکہ سننے کی عادت کی ہے۔
کسی پریشان انسان کو فوراً مشورہ دینے کے بجائے پہلے اس کی بات سنیں۔
گھر میں کسی نوجوان کی رائے مختلف ہو تو اسے فوراً نافرمان قرار دینے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کریں۔
سوشل میڈیا پر کوئی اختلافی بات سامنے آئے تو جواب دینے سے پہلے ایک لمحہ رک جائیں اور خود سے پوچھیں:
کیا میرا جواب مسئلہ حل کرے گا یا صرف ایک نئی بحث پیدا کرے گا؟
تبدیلی کہاں سے شروع ہوگی؟
ہم اکثر معاشرے کی اصلاح کی ذمہ داری حکومت، اداروں، سیاست دانوں، اساتذہ یا دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔
لیکن معاشرہ آخر بنتا کن لوگوں سے ہے؟
ہم سے۔
اگر میں گفتگو میں شائستگی اختیار کروں، آپ اختلاف میں احترام قائم رکھیں، والدین بچوں کو سنیں، استاد طلبہ کی بات سمجھنے کی کوشش کرے، نوجوان بزرگوں کی عزت کریں اور بزرگ نوجوانوں کو سمجھنے کی کوشش کریں تو شاید ہمارے معاشرے میں ایک چھوٹی سی تبدیلی ضرور شروع ہو سکتی ہے۔
ہم دنیا کو فوراً نہیں بدل سکتے، لیکن اپنے رویے کو آج ہی بدل سکتے ہیں۔
شاید ایک بہتر معاشرے کی ابتدا کسی بڑے انقلاب سے نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے جملے سے ہو:
"میں آپ کی بات سے اختلاف کرتا ہوں، لیکن پہلے آپ کو سمجھنا چاہتا ہوں۔"
یہ جملہ اگر ہماری گفتگو کا حصہ بن جائے تو شاید بہت سے رشتے بچ سکتے ہیں، بہت سی غلط فہمیاں ختم ہو سکتی ہیں اور معاشرے میں نفرت کی جگہ دوبارہ انسانیت، احترام اور برداشت جنم لے سکتی ہے۔
کیونکہ معاشرہ صرف سڑکوں، عمارتوں اور اداروں سے نہیں بنتا؛ معاشرہ انسانوں کے رویوں سے بنتا ہے۔
— سید کاظم شاہ بخاری