10/01/2024
(کوئٹہ)وزیراعلی بلوچستان میر علی مردان ڈومکی اور ان کی کابینہ کا اہم اقدام ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان زاہد سلیم,ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس جناب نصیب اللہ کاکڑ اور ان کی ٹیم کی لگن و محنت کے نتیجے میں گزشتہ روز نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان ڈومکی کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے پانچویں اجلاس میں لیویز سروس رولز 2023 کی منظوری دے دی گئی۔*
*کوئٹہ(بی,بی,ایم) پیر کے روز بلوچستان حکومت کی نگراں کابینہ کا اجلاس نگراں وزیراعلی میر علی مردان ڈوم کی کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں نگران کابینہ سمیت محکموں کے سربراہان سیکرٹری صاحبان اور ڈائریکٹر جنرل صاحبان نے بھی شرکت کی اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کابینہ کے سامنے لیویز فورس بلوچستان کے 4 سال سے تعطل کا شکار لیویز فورس سروس رول کا معاملہ اُٹھایا جسے کابینہ نے نگران وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان ڈونکی کی سربراہی میں منظور کر لیا۔*
*اس سے قبل سروس رولز نہ ہونے کی وجہ سے لیویز فورس کے ملازمین غیر ضروری شکوں کی وجہ سے سروس میں ترقی نہیں پاتے تھے جس سے بالائی درجے اور نچلے درجے کے ملازمین دونوں متاثر ہو رہے تھے, یاد رہے کیو,آر,ایف فورس سی,پیک ایس,ایس,ڈی,پی کے رولز پانچ سال سے نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں ملازمین متاثر ہو رہے تھے بلوچستان لیویز فورس سروس رولز 2023 کی منظوری کے بعد اب لیویز فورس میں ترقی قانون اور رولز کے مطابق ہوگی۔*
*گزشتہ روز کابینہ کے ہونے والے اجلاس کے موقع پر نگراں وزیراعلی بلوچستان میر علی مردان ڈونکی نے لیوی سروس رولز کے حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری زاہد سلیم,ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس نصیب اللہ کاکڑ سیکشن آفیسر باقی ترین سمیت تمام عملہ کے کام اور اقدامات کو سراہا۔*
*انویسٹیگیشن ونگ کے قیام کے بعد لیویز فورس بلوچستان سروس رولز 2023 کی منظوری ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان ڈومکی*
*کیو,آر,ایف کے جوانوں سمیت تمام لیویز فورس کے ملازمین نے بلوچستان لیویز فورس سروس رولز 2023 کی منظوری پر وزیراعلی بلوچستان, نگران صوبائی کابینہ, ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان, اور بالخصوص ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس اور ان کے سٹاف کا شکریہ ادا کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔*
*اس موقع پر لیویز فورس کے ملازمین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے ہم سروس رول کے انتظار میں تھے جسے نگران صوبائی کابینہ نے گزشتہ روز منظور کیا۔*