26/08/2026
عید میلادالنبی صل اللہ علیہ وسلم صرف دیگیں چڑھانے، شمعیں جلانے، گلیاں سجانے اور میٹھائیاں بانٹنے کا نام نہیں، یہ اُس عظیم ہستی صل اللہ علیہ وسلم کی آمد کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے اس امت کے لیے اپنا سکون، اپنا گھر، اپنے ساتھی اور اپنی زندگی تک قربان کر دی، طائف میں پتھر کھائے، مکہ میں ظلم برداشت کیا، شعبِ ابی طالب کی سختیاں جھیلیں اور ہر تکلیف کے باوجود اپنی امت کی ہدایت کی فکر کرتے رہے؛ مگر آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن اُن کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں، نماز چھوڑ سکتے ہیں، جھوٹ بول سکتے ہیں، دھوکہ دے سکتے ہیں، ناپ تول میں کمی کر سکتے ہیں، دوسروں کا حق مار سکتے ہیں، ظلم پر خاموش رہ سکتے ہیں، رشتے توڑ سکتے ہیں، مگر میلاد کے نام پر دیگ نہ چڑھے تو ہماری محبت ادھوری لگتی ہے۔ ذرا خود سے پوچھیں: جس نبی صل اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اخلاق، عدل، امانت، رحم، سچائی، حقوق العباد اور اللہ کی اطاعت کا راستہ دیا، ہم نے اُس راستے پر کتنا قدم رکھا؟ اگر شمعیں جل رہی ہوں مگر دل میں اندھیرا ہو، اگر گلیاں سجی ہوں مگر کردار بگڑا ہوا ہو، اگر میٹھائیاں تقسیم ہوں مگر کسی کا حق کھایا ہوا ہو تو ہمیں جشن سے پہلے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت صرف زبان کا دعویٰ نہیں، اُن کی سنت اور اُن کے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا نام ہے۔ اس میلاد پر صرف چراغ نہ جلائیں، اپنے کردار کا چراغ بھی جلائیں؛ صرف نعرے نہ لگائیں، اپنی زندگی بدلیں—کیونکہ جس امت کے لیے محمد صل اللہ علیہ وسلم نے اتنی قربانیاں دیں، اُس امت کا سب سے بڑا تحفہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اُن کی تعلیمات پر واقعی عمل کرنا شروع کر دے۔