05/09/2026
کبھی کبھی ہم تھکتے نہیں ہیں بلکہ بھر جاتے ہیں۔ وہ جو اندر ایک شور سا مچا رہتا ہے، وہ باہر کی کسی آواز سے زیادہ جان لیوا ہوتا ہے۔ ہم کسی سے ناراض نہیں ہوتے، بس خود سے اتنے دور نکل جاتے ہیں کہ واپسی کا راستہ نہیں ملتا۔ جب انسان کے اپنے ہی لفظ اس کا ساتھ چھوڑ دیں، تو دوسروں کی باتیں اسے شور لگنے لگتی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وضاحتیں دینا بوجھ بن جاتا ہے اور خاموشی سب سے بڑی پناہ گاہ جب دل کی ہمت جواب دے جائے، تو انسان کو اپنوں کے درمیان بیٹھ کر بھی ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی اجنبی جزیرے پر اکیلا کھڑا ہے۔ یہ کوئی بیماری یا کمزوری نہیں بلکہ روح کی وہ پکار ہے جو تھوڑی دیر کے لیے سب کچھ روک کر صرف خالی ہونا چاہتی ہے۔ انسان کو تب سب سے زیادہ سکون کی ضرورت ہوتی ہے جب وہ خود اپنی نظروں میں تھک چکا ہو۔ اس وقت اسے کسی کے مشورے کی نہیں بلکہ صرف اس خاموشی کی ضرورت ہوتی ہے’