30/08/2026
مشتاق احمد گرو نمبردار — خدمتِ خلق، تعلیم اور ترقی کا روشن باب
کچھ لوگ عہدوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے کردار، خلوص، خدمت اور لوگوں کے دلوں میں بس جانے کی وجہ سے۔ مشتاق احمد گرو نمبردار بھی ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا۔ وہ میرے دوست عرفان مشتاق گرو کے والدِ محترم ہیں اور اہلِ علاقہ کے لیے ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے دروازے پر امیر و غریب، کمزور و طاقتور، ہر شخص بلا جھجھک اپنی مشکل لے کر آ سکتا ہے۔مشتاق احمد گرو نمبردار نے ہمیشہ لوگوں کے دکھ کو اپنا دکھ اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا۔ کسی کے گھر خوشی ہو یا غم، بیماری ہو یا پریشانی، ضرورت مند ہو یا بے سہارا، وہ حسبِ استطاعت ہر موقع پر لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کی دولت، حیثیت یا مرتبے سے نہیں بلکہ انسان ہونے کی بنیاد پر اہمیت دیتے ہیں۔مشتاق احمد گرو نمبردار کا سیاسی سفر عوامی خدمت، اعتماد اور مسلسل جدوجہد کی ایک خوبصورت داستان ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کونسلر کی حیثیت سے کیا۔ عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھے اور وائس چیئرمین اور پھر چیئرمین کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی مقبولیت اور عوامی اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بلامقابلہ نائب ناظم اور بعد ازاں بلامقابلہ ناظم منتخب ہوئے۔ان کی سیاسی خدمات کا یہ سفر مزید آگے بڑھا اور وہ ممبر ضلع کونسل ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی منتخب ہوئے۔ یوں کونسلر سے شروع ہونے والا یہ سفر مختلف اہم عوامی عہدوں سے گزرتا ہوا ضلع کونسل تک پہنچا، جو ان کی سیاسی بصیرت، عوامی خدمت اور علاقے کے لوگوں کے اعتماد کا واضح مظہر ہے، مگر ان کے لیے عہدہ کبھی ذاتی مفاد یا نمود و نمائش کا ذریعہ نہیں بنا۔ انہوں نے سیاست اور عوامی نمائندگی کو دولت اور ذاتی فائدے کے بجائے لوگوں کی خدمت اور علاقے کی ترقی کا وسیلہ سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ انہیں کسی عہدے سے زیادہ ان کی بے لوث خدمات کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔
چک خیرآباد 763 گ ب ان کی زندگی کی جدوجہد اور محبت کا ایک نمایاں حوالہ ہے۔ یہ وہ بستی ہے جو ان کے والدکے نام سے منسوب ہے اور جس کی ترقی کو مشتاق احمد گرو نمبردار نے محض ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ اپنے بزرگوں کی امانت سمجھا۔انہوں نے علاقے کی بنیادی ضروریات سے لے کر بڑے ترقیاتی منصوبوں تک، ہر سطح پر اہلِ علاقہ کے مسائل کے لیے آواز اٹھائی۔ مشتاق احمد گرو کے ماموں، سرفراز احمد گرو، کراچی کے ایک معروف اور کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی محنت اور کاروباری صلاحیتوں سے کراچی میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا، تاہم اپنے آبائی علاقے اور اہلِ علاقہ سے ان کی محبت ہمیشہ قائم رہی۔ اسی جذبۂ خدمت اور دینی وابستگی کے تحت انہوں نے اپنے آبائی چک میں ایک خوبصورت مسجد تعمیر کروائی، جو آج بھی ان کی نیک نامی، دینی جذبے اور فلاحی سوچ کی خوبصورت یادگار ہے۔ یہ مسجد نہ صرف اہلِ علاقہ کے لیے عبادت کا مرکز بنی بلکہ سرفراز احمد گرو کی جانب سے ایک ایسا صدقۂ جاریہ ہے جس کا اجر ان شاء اللہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اس مسجد کی تعمیر میں نہ صرف اپنی ذاتی دلچسپی اور بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا بلکہ اسے ایک خوبصورت، باوقار اور دیدہ زیب انداز میں تعمیر کروایا۔ مسجد کا نقشہ خصوصی طور پر کراچی سے تیار کروایا گیا جبکہ تعمیر کے لیے ماہر مستری بھی کراچی سے تشریف لائے۔ مشتاق احمد گرو کی نگرانی اور کاوشوں سے وجود میں آنے والی یہ عالیشان مسجد الخالق آج نہ صرف اہلِ چک کے لیے عبادت گاہ ہے بلکہ علاقے کی خوبصورتی اور دینی وابستگی کی بھی ایک خوبصورت علامت ہے۔
مسجد الخالق ان کے جذبۂ خدمتِ دین اور اپنے علاقے سے محبت کی ایک یادگار ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی ان کی نیک نیتی اور خدمت کا روشن حوالہ بنی رہے گی۔مسجد الخالق کے ساتھ ایک خوبصورت اور کشادہ جنازہ گاہ بھی تعمیر کی گئی، جس سے مسجد کا احاطہ مزید باوقار اور خوبصورت ہو گیا۔ جنازہ گاہ کے لیے اراضی ایک مخیر اور صاحبِ دل شخصیت ملک ظہیر اعوان نے فراہم کی۔ ان کے اس نیک جذبے اور فیاضی کی بدولت مسجد کے احاطے میں ایک ایسی سہولت کا اضافہ ہوا جو اہلِ علاقہ کے لیے نہایت اہم اور باعثِ سہولت ہے۔ یوں مسجد الخالق نہ صرف عبادت گاہ بلکہ اہلِ چک کے اجتماعی اور دینی معاملات کا ایک خوبصورت مرکز بن گئی ہے۔ ان کی مسلسل کوششوں اور جدوجہد سے علاقے میں گرلز کالج، سوئی گیس ،ریسکو 1122 اور دیگر اہم عوامی منصوبے ممکن ہوئے۔ یہ منصوبے صرف ترقیاتی کام نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہیں۔خاص طور پر گرلز کالج کا قیام علاقے کی بچیوں کے لیے تعلیم کے نئے دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں اعلیٰ تعلیم کے لیے بچیوں کو دور جانا پڑتا تھا، وہاں تعلیمی ادارے کا قیام یقیناً ایک قابلِ قدر خدمت ہے۔مشتاق احمد گرو نمبردار کی خدمات کا ایک نہایت اہم اور قابلِ تحسین پہلو تعلیم کا فروغ ہے۔ انہوں نے صرف علاقے میں تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے کوشش نہیں کی بلکہ چک کی نوجوان نسل میں علم اور تعلیم کا شعور پیدا کرنے کے لیے بھی مسلسل کردار ادا کیا۔وہ نوجوانوں کو ہمیشہ یہ احساس دلاتے رہے کہ مستقبل کی اصل طاقت علم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو معمولی نہ سمجھیں بلکہ اچھے اور معیاری تعلیمی اداروں میں داخلہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور اپنے خاندان، علاقے اور ملک کا نام روشن کریں۔ان کی یہ کوشش صرف مشورے دینے تک محدود نہیں رہی۔ جب انہیں کوئی ایسا طالب علم نظر آیا جو ذہین، محنتی اور تعلیم حاصل کرنے کا خواہش مند تھا مگر مالی مشکلات اس کی راہ میں رکاوٹ تھیں تو انہوں نے اس کا ہاتھ تھاما۔ ضرورت مند اور مستحق طلبہ کو اچھے تعلیمی اداروں میں داخل کروانے کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات سے ان کے لیے وظائف کا انتظام کروایا تاکہ مالی مشکلات کسی باصلاحیت نوجوان کے تعلیمی سفر کو روک نہ سکیں۔یہ شاید ان کی خدمات کا وہ پہلو ہے جس کی تشہیر کم ہوئی، مگر اس کے اثرات بہت دور تک پھیلتے ہیں۔ ایک سڑک یا ایک عمارت ایک علاقے کو سہولت دے سکتی ہے، لیکن ایک طالب علم کو تعلیم دلوانا کئی نسلوں کا مستقبل بدل سکتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو صرف روزگار کا خواب دیکھنے کے بجائے علم، کردار اور قابلیت کے ذریعے آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ یہی وجہ ہے کہ چک خیرآباد کی نوجوان نسل میں تعلیم کے حوالے سے پیدا ہونے والے شعور میں ان کی کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آج کے دور میں جب اکثر لوگ عہدے اور اختیار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں، مشتاق احمد گرو نمبردار جیسے لوگ واقعی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہوں نے پیسوں کے بجائے عوامی خدمت کو ترجیح دی۔انہوں نے شاید دولت کی صورت میں بہت کچھ جمع نہ کیا ہو، مگر لوگوں کی محبت، اعتماد اور دعائیں وہ سرمایہ ہیں جو کسی خزانے سے زیادہ قیمتی ہے۔ کسی غریب کے کام آنا، کسی پریشان شخص کی مشکل آسان کرنا، کسی طالب علم کے تعلیمی اخراجات کا راستہ نکالنا اور اپنے علاقے کے لیے کوئی بنیادی سہولت حاصل کرنا۔یہ وہ کام ہیں جن کا صلہ صرف دنیا میں نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی محفوظ رہتا ہے۔مشتاق احمد گرو نمبردار نے چک خیرآباد 763 گ ب کی ترقی، تعلیم کے فروغ، نوجوان نسل کی رہنمائی اور اہلِ علاقہ کی بنیادی سہولیات کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ ان کی شخصیت اس بات کی مثال ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد عوام کی بھلائی ہو تو ایک فرد بھی پورے علاقے کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔مشتاق احمد گرو نمبردار نے عہدے کو عزت نہیں دی، بلکہ اپنی خدمت سے عہدے کو عزت بخشی۔ ان کی اصل پہچان کوئی منصب نہیں بلکہ وہ دعائیں ہیں جو آج بھی کسی ضرورت مند کے دل سے ان کے لیے نکلتی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی، عزت اور مزید خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی تمام مخلصانہ کاوشوں کو اہلِ علاقہ اور آنے والی نسلوں کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین
تحریر: سبطین ظہور (پی ایچ ڈی ۔ سکالر)