Police Gardi

Police Gardi All Bad and Good Stories from Pakistan Police.

کراچی: سب انسپکٹر روبینہ بلوچ کی ذاتی کوششوں کے نتیجہ میں گرفتار ہونے والے ایک خطرناک ملزم کے انکشافات نے  انسانیت کو جھ...
03/06/2026

کراچی: سب انسپکٹر روبینہ بلوچ کی ذاتی کوششوں کے نتیجہ میں گرفتار ہونے والے ایک خطرناک ملزم کے انکشافات نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ـ
یہ خطرناک ملزم مبینہ طور پر کم از کم 22 لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھنسا کر ان کی زندگی برباد کر چکا ہے ۔ اس ملزم کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ پہلے لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانا ، پھر ویڈیو کالز کے ذریعے نازیبا تصاویر اور ان کی ویڈیوز حاصل کرتا، جس کے بعد متاثرہ لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر گھروں سے بھگاتا اور بعد ازاں کرائے کی رہائش گاہوں میں لے جا کر ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرواتا۔ اس ملزم پر یہ گھناؤنا الزام بھی ہے کہ متاثرہ خواتین کی فحش ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کی جاتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک منظم گروہ قائم کیا گیا تھا جبکہ گروہ کے بعض افراد کے پاس پاکستانی شناختی دستاویزات تک موجود نہیں اور وہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے جس کے پیچھے "کملہ" نامی خاتون ہے جو سوبھراج اسپتال میں کے ایم سی کے تحت صفائی کے فرائض سر انجام دیتی ہے، ان افراد کو رہائش، موبائل فون اور اپنے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈز کملا فراہم کرتی رہی۔
تحقیقات کے مطابق 22 متاثرہ لڑکیوں کی زندگیاں اس گھناؤنے نیٹ ورک کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ بعض لڑکیوں کی زبردستی شادیاں کروائی گئیں، انہیں جسم فروشی اور فحاشی پر مجبور کیا گیا، جبکہ کچھ متاثرہ لڑکیوں کو جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھ فروخت کیے جانے کے بھی دعوے سامنے آئے ہیں۔
اس سلسلہ میں لیڈی سب انسپکٹر روبینہ بلوچ قابل تعریف ہے جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر، سوبھراج اسپتال کے ایک ملازم کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا، جو اس وقت 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں ہے۔
تاہم کہا جا رہا ہے کہ ملزم کے ساتھی، جو مختلف سرکاری اداروں میں ملازمت کرتے ہیں، اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے ملزم کو خصوصی سہولیات دلوانے اور اسے بے گناہ ثابت کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں اور اس کیس میں ملوث عناصر کو بچانے کی کوششوں کے دوران متعلقہ افسران اور تفتیشی ٹیم کو دباؤ، دھمکیوں اور خوف و ہراس کا سامنا ہے، جبکہ لیڈی افسر اور ان کے معصوم بچے کی جان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔حتیٰ کہ ان کا ڈی ایس پی بھی ان کو ریمانڈ لینے سے منع کررہا ہے۔ سب انسپکٹر خاتون ویڈیو جاری کرنے پر مجبور۔ جنسی درندہ مطمئن ہنس رہا تھا۔
عامر مصطفی قتل کیس ، پنکی کی گرفتاری اور اب 22 لڑکیوں کے ساتھ کھیلا جانے والا گھناؤنا کھیل ہمارے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے ، منشیات کی کھلے عام خرید و فروخت ، ڈارک ویب ، لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی جیسے واقعات کے ملزمان کی گرفتاری کے بعد سالوں تک کیس عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں اور کسی کو انصاف نہیں ملتا ، اس وقت 22 متاثرہ لڑکیوں کے لیے انصاف اور اس گھناؤنے نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے جو تقریبا ناممکن نظر آتا ہے ,جبکہ روبینہ بلوچ ایک باہمت پولیس افیسر ہیں جو ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی بہت سی وڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں ، جس کے بعد سندھ حکومت اور عدالت نے کاروائی کرتے ہوئے کچھ اہم اقدامات کئے ہیں
نفیسہ سعید

عون بھائی اور ڈرائیور نے مجھے بار بار زیا۔دتی کا نشانہ بنایا ۔۔ سب سے زیادہ ظلم میرے ساتھ رمضان شریف میں ہوا ، باجی کو س...
02/06/2026

عون بھائی اور ڈرائیور نے مجھے بار بار زیا۔دتی کا نشانہ بنایا ۔۔ سب سے زیادہ ظلم میرے ساتھ رمضان شریف میں ہوا ، باجی کو سب کچھ بتایا لیکن وہ بولیں ،میرے بیٹے نے تمہارے ساتھ کچھ کیا بھی ہے تو بچہ اسکا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کی ایک کوٹھی میں مسلسل ظلم کا شکار ہونے کے بعد اسقا۔ط حمل کے دوران جان بحق ہونے والی گھریلو ملازمہ کا آخری بیان ۔۔۔۔۔لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں اس 17 سترہ سالہ گھریلو ملازمہ کو عون بھائی یعنی کوٹھی مالکن کا بڑا اور شادی شدہ بیٹا ظلم کا نشانہ بناتا رہا ، گھر کے ڈرائیور نے بھی مفت کا مال سمجھ کر اور سب کو بتانے کا کہہ کر لڑکی کو نشانہ بنایا ، لڑکی بدنامی، معصومیت اور نوکری جانے کے ڈر سے چپ رہی ۔ مگر کچھ ہفتے بعد اسکی طبیعت خراب رہنے لگی ، باجی کو بتایا تو انہوں نے حمل ٹیسٹ والی سٹک لاکردی ، جس میں تصدیق ہو گئی مگر مالکن نے کچھ نہ کیا بس ڈرائیور کو نوکری سے نکال دیا ، جب بچی مسلسل بیمار رہنے لگی تو مالکن باجی نے اسے گھر بھجوا دیا بچی نے ماں کو حالات بتائے تو وہ پریشان ہو گئیں علاج کروایا مگر کچھ فرق نہ پڑا ۔۔۔ غلط ادویات کے استعمال سے بچہ پیٹ میں ہی فوت ہو گیا تو ماں اپنی بیٹی کو لے کر مالکن باجی کے پاس آگئی یہاں لاہور کے نواح میں ایک ڈاکٹر سے اسقا۔ط حمل کا آپریشن کروانے کے چند گھنٹوں بعد بچی کی وفات ہو گئی ۔۔۔۔ مذکورہ بالا بیان بچی نے انتقال سے چند گھنٹے پہلے دیا ۔۔۔۔یہ بچی اللہ کی عدالت میں جاکر پوچھے گی تو ضرور کہ اسکو مرنے پر کس نے مجبور کیا اور اسکا مجرم کون کون ہے ؟ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے مقدمے میں ق۔ت۔ل کی دفعات بھی شامل کر لی ہیں۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیانات کی روشنی میں اجتماعی زیا۔دتی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔۔ دعا ہے اس بچی کو ظلم کا نشانہ بنانے والے عبرت کا نشان بنیں ۔

سی سی ڈی اور سرگودھا پولیس نے طالبہ زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنے والے ملزمان کا قصہ تمام کر دیا۔۔۔!شاہپور میں کچھ عرصہ پہ...
01/06/2026

سی سی ڈی اور سرگودھا پولیس نے طالبہ زیادتی اور ویڈیو وائرل کرنے والے ملزمان کا قصہ تمام کر دیا۔۔۔!
شاہپور میں کچھ عرصہ پہلے ایک کالج وین ڈرائیور تصور میانہ نے اپنی وین کی ہی ایک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
لڑکی وین ڈرائیور کے ساتھ کالج جاتی تھی ، جسے ورغلا کے اس نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔
معاملے میں موڑ اس وقت آیا کہ جب انہیں شاہپور کے کچھ لوگوں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور ویڈیوز بنائیں۔
ملزمان نے ویڈیو بنا کر تصور کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور بات پیسوں کے لین دین تک پہنچ گئی۔
وین ڈرائیور کی طرف سے حسب ڈیمانڈز پیسے نہ ملنے پر ملزمان نے ویڈیوز وائرل کردیں اور ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔
اسی اثنا میں وین ڈرائیور لڑکی کے غریب والدین پر دباؤ ڈال کر انہیں خاموش کروا چکا تھا کہ ویڈیو وائرل ہونے سے شاہپور میں بھونچال آگیا۔
بچیوں کے والدین سکتے میں آ گئے کہ اپنی بچیوں کی حفاظت کیسے کریں اور کس پر اعتماد کریں، ہر طرف سے ملزمان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا جانے لگا۔
ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد شاہ پور پولیس نے مرکزی ملزم اور ویڈیوز وائرل کرنے والے تمام افراد کو فوری گرفتار کر لیا۔o
اب اصل مسئلہ یہ تھا کہ تصور ایک مشہور ومعروف کبڈی پلیئر ہے جس کے حلقہ احباب میں بہت سارے با اثر لوگ موجود تھے اور خدشہ تھا کہ یہ اس کو بچا لے جائیں گے۔
انتہائی قابل اعتماد ذرائع کے دعوے کے مطابق تصور میانہ نے اعتراف جرم کیا کہ وہ اس قبیح فعل عرصہ دراز سے ملوث ہے اور اس سے پہلے بھی 5 سے 6 لڑکیوں کے ساتھ یہ گھناؤنا کھیل کھیل چکا ہے۔
سی سی ڈی اور شاہپور پولیس نے ویڈیو وائرل کرنے والے تمام ملزمان اور وین ڈرائیور تصور میانہ کو مقابلہ میں دونوں ٹانگوں سے محروم کر دیا۔

🚨 ایبٹ آباد میں لرزہ خیز واردات، شوہر کے قتل کا دل دہلا دینے والا انکشافخیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں انسانیت کو جھن...
30/05/2026

🚨 ایبٹ آباد میں لرزہ خیز واردات، شوہر کے قتل کا دل دہلا دینے والا انکشاف

خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا ایک انتہائی سفاک واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے پورے علاقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔

ذرائع کے مطابق ایک شادی شدہ خاتون نے اپنے مبینہ عاشق کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کر دیا۔ واردات کے بعد ملزمان نے لاش کے سر کو الگ کر کے فریج میں رکھ دیا، جبکہ باقی جسم کے حصے گھر کے مختلف مقامات پر چھپا دیے۔ دونوں ملزمان تقریباً 18 دن تک اسی گھر میں معمول کی زندگی گزارتے رہے۔

ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ خاتون اپنے شوہر سے نالاں تھی اور کئی ماہ سے ایک دوسرے شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث تھی۔ دونوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت رات کے وقت شوہر کو بے ہوش کیا اور پھر اسے قتل کر دیا۔ شواہد کے مطابق سر کو فریج میں رکھنے کا مقصد بدبو کو پھیلنے سے روکنا اور پڑوسیوں کے شک سے بچنا تھا۔

واقعہ اس وقت سامنے آیا جب پڑوسیوں نے گھر سے آنے والی غیر معمولی اور مشکوک بو محسوس کی اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تلاشی لی تو فریج سے سر اور گھر کے مختلف حصوں سے لاش کے ٹکڑے برآمد ہوئے۔

گرفتاری کے بعد خاتون نے تفتیش کے دوران اعترافِ جرم کرتے ہوئے بیان دیا کہ وہ اپنے شوہر سے نجات حاصل کر کے اپنے ساتھی کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنا چاہتی تھی۔ پولیس کے مطابق خاتون کے مبینہ ساتھی نے بھی جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر معاشرتی بگاڑ اور جرائم کی سنگینی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔

پولیس محکمے میں 24 سال نوکری مکمل کرنے کے بعد ایک کانسٹیبل رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے رہا تھا۔ایس پی صاحب کافی دیر تک...
29/05/2026

پولیس محکمے میں 24 سال نوکری مکمل کرنے کے بعد ایک کانسٹیبل رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے رہا تھا۔ایس پی صاحب کافی دیر تک اسے سمجھاتے رہے لیکن کانسٹیبل ریٹائرمنٹ پر بضِد رہا ایس۔پی صاحب نے آخر کار کانسٹیبل سے پوچھا کہ جب تمہیں اس نوکری سے سب کچھ مل رہا ہے تو پھر تم یہ نوکری چھوڑنے پر آخر کیوں بضِد ہو کانسٹیبل نے مسکراتے ہوئے SP صاحب کو نہایت سادہ جواب دیا:سر، آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں اب جوان نہی رہا اور آپ کے سامنے اتنی کرسیاں خالی پڑی ہیں لیکن پھر بھی آپ مجھے دو گھنٹے تک اٹینشن میں کھڑا رکھ کر سمجھاتے رہے بس یہی وجہ ہے کہ میں یہ نوکری چھوڑ رہا ہوں۔”

قاتل سی سی ڈی .منڈی بہاؤالدین میں کچھ عرصہ پہلے ایک بیٹی نے اپنے سگے باپ پر زیادتی کا سنگین الزام لگایا۔ معاشرے میں اشتع...
29/05/2026

قاتل سی سی ڈی .
منڈی بہاؤالدین میں کچھ عرصہ پہلے ایک بیٹی نے اپنے سگے باپ پر زیادتی کا سنگین الزام لگایا۔ معاشرے میں اشتعال پھیلا اور بغیر کسی تفتیش یا حقائق کو جانے، ہماری سی ٹی ڈی فوری حرکت میں آئی اور قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ملزم باپ کو ماورائے عدالت قتل کر ڈالا۔ اس وقت تو شاید اداروں نے اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھا ہوگا، لیکن اب اس کیس میں ایک ایسا چونکا دینے والا موڑ آیا ہے جس نے پورے نظامِ انصاف کا جنازہ نکال دیا ہے۔
اب اس لڑکی کی تفصیلی میڈیکل اور فرانزک رپورٹ سامنے آ چکی ہے، جس میں صریحاً ثابت ہوا ہے کہ باپ نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی اور ان پر لگایا گیا یہ گھناؤنا الزام سراسر جھوٹا اور من گھڑت تھا۔ میڈیکل رپورٹ نے اس مرے ہوئے باپ کی بے گناہی تو ثابت کر دی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بغیر کسی عدالتی ٹرائل، بغیر کسی حتمی ثبوت اور بغیر میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیے ایک انسان کی جان لینے والے ان مقتدر اداروں کو اب اس کا حساب کون دے گا؟ جب تک ہمارے ملک میں تفتیش سے پہلے سزا دینے اور ماورائے عدالت مقابلوں کا یہ خونی کھیل بند نہیں ہوتا، تب تک اسی طرح معصوم لوگ جھوٹے الزامات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے اور انصاف صرف فائلوں میں بند رہے گا ۔

ٹک ٹاک تنازع خونیں تصادم میں تبدیل،..فائرنگ سے 2 نوجوان قتل، 5 زخمیپولیس کے مطابق واقعہ تھانہ صدر بھکر کی حدود میں پیش آ...
29/05/2026

ٹک ٹاک تنازع خونیں تصادم میں تبدیل،..
فائرنگ سے 2 نوجوان قتل، 5 زخمی

پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ صدر بھکر کی حدود میں پیش آیا ۔ ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر معمولی تنازع خونیں تصادم میں تبدیل ہوگیا۔
ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق اعوان کے مطابق فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب سے ایک ایک نوجوان جاں بحق ہوا، جن کی شناخت شیراز اور زوہیب کے نام سے ہوئی ہے جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں اور لاشوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا۔
اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ہارون طاہر کے مطابق دونوں گروپوں کے حامیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچ گئی جہاں ایمرجنسی وارڈ کی گیلری میں دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی۔ اس دوران چھریوں کے وار سے مزید افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں لڑائی میں زیر علاج ایک زخمی ایمرجنسی وارڈ میں ہی قتل ہوگیا
ایم ایس کے مطابق فریقین کی لڑائی کے دوران ایک عام مریض بھی فائرنگ کی زد میں آکر شدید زخمی ہوگیا، جس کے باعث اسپتال عملے اور مریضوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کشیدہ صورتحال کے باعث اسپتال کی ایمرجنسی کو عارضی طور پر بند کردیا گیا تاہم بعد ازاں حالات قابو میں آنے پر ایمرجنسی بحال کردی گئی اور زخمیوں کا علاج جاری ہے۔
ڈی پی او بھکر نے واقعے کا فوری نوٹس لیا اور اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی۔ انہوں نے بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بروقت ریسپانس دیتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے شہریوں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا تنازعات کو برداشت، تحمل اور قانون کے دائرے میں رہ کر حل کیا جائے۔
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر نماز جنازہ کے دوران بھی پولیس نفری تعینات ہوگی جبکہ فریقین کے گھروں کے باہر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ھے۔۔۔

میرے خیال میں سوشل میڈیا تفریح اور اظہارِ رائے کا ذریعہ ضرور ہے، مگر افسوس جب برداشت ختم ہو جائے تو معمولی تنازع بھی انسانی جانوں کے ضیاع تک پہنچ جاتا ہے۔ بھکر کا یہ افسوسناک واقعہ اس بات کی خطرناک مثال ہے کہ غصہ، انا اور آن لائن دشمنی کس طرح حقیقی زندگی میں خونریزی میں بدل سکتی ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اسپتال جیسے محفوظ مقام پر بھی دوبارہ لڑائی اور فائرنگ ہوئی، جہاں زخمیوں کے علاج کے بجائے مزید تشدد دیکھنے کو ملا۔ یہ نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی اقدار کے بھی منافی ہے۔
نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ٹک ٹاک، فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہونے والے اختلافات وقتی ہوتے ہیں، مگر ایک لمحے کی جذباتی حرکت کئی خاندانوں کی زندگیاں اجاڑ دیتی ہے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ نوجوان نسل میں برداشت، اخلاق اور اختلاف کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا شعور پیدا کریں۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چاہیے کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ آئندہ کوئی شخص سوشل میڈیا دشمنی کو ذاتی جنگ میں تبدیل کرنے کی ہمت نہ کرے۔
(بابر شہزاد)

ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی لڑکی کی زندگی کا لاہور کے روہی نالے می افسوسناک انجام ۔۔۔۔ بلوری آنکھوں والی اس بدقسمت لڑکی...
25/05/2026

ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والی لڑکی کی زندگی کا لاہور کے روہی نالے می افسوسناک انجام ۔۔۔۔ بلوری آنکھوں والی اس بدقسمت لڑکی پر کیا بیتی ؟ 2 مئی 2026 کو نالے سے ملنے والی لا۔ش کا معمہ حل ہو گیا ۔۔۔۔ مہروش کے والدین سالوں قبل لاہور آن بسے تھے ۔ مہروش جوان ہوئی تو اسکا رشتہ فہیم نامی ایک نوجوان سے ہو گیا ۔ یہ شادی پسند کے بعد والدین کی مرضی سے ہوئی ۔ فہیم اور مہروش ایک دوسرے کو پاکر بہت خوش تھے ڈیڑھ سال بعد اللہ نے انہیں اپنی رحمت یعنی ایک بیٹی سے بھی نواز دیا ۔ بچی کی پیدائش کے بعد مبینہ طور پر خرچے بڑھ گئے تو مہروش اور فہیم کے درمیان گھریلو جھگڑوں کی ابتدا ہو گئی فہیم کی آمدن اتنی نہ تھی یا پھر مہروش زیادہ خرچہ کا تقاضا کرتی ، یہ اکثر روٹھ کر اپنے والدین کے پاس چلی جاتی اور پیچھے فہیم منانے پہنچ جاتا ، یہ بیوی کو ہر حال میں خوش رکھنے کا وعدہ کرتا مگر چند ہفتے بعد ہی دوبارہ لڑائی ہو جاتی آخر کار دونوں کے درمیاں ایک جھگڑے کے بعد طلاق ہو گئی اور مہروش بچی کو لیکر اپنےوالدین کے گھر آ بیٹھی ، والد کی آمدن اتنی نہ تھی کہ وہ بیٹی کے ساتھ ایک بچی کی بھی تمام ضروریات پوری کرتا اس لیے جلد ہی مہروش نے ایک دفتر میں ملازمت کر لی جہاں خلیل نامی ایک شخص سے اسکی واقفیت ہوئی جو بعد میں اتنی بے تکلفی میں بدلی کہ مہروش اپنا ہر دکھ سکھ اس شخص کے ساتھ شیئر کرنے لگی ۔۔۔ یہ سلسلہ جلد تعلقات میں بدل گیا اور خلیل نے مہروش کو شادی کی پیشکش کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شادی چھپ کر کورٹ میں کرنی پڑے گی کیونکہ میرے والدین ایک بچی کے ساتھ طلاق یافتہ عورت کو کبھی قبول نہیں کریں گے ۔۔ مہروش کو تو خلیل یعنی ایک خیال رکھنے والے شوہر کی ضرورت تھی اس نے حامی بھر لی شادی ہوئی اور خلیل نے ایک مکان کرائے پر لیا اور وہاں مہروش کو جا بسایا ۔ لیکن خلیل ہفتے میں 2 تین دن اپنے والدین کے پاس جاکر بھی رہتا تھا ۔۔ ایک رات جب خلیل اسکے پاس سویا تھا تو مہروش نے اسکا موبائل لیا اور اسکی گیلیری میں اپنی تصویریں دیکھنے لگی ۔ گیلیری میں ہی مہروش کو خلیل کسی اور خاتون اور ایک بچے کے ساتھ نظر آیا ۔ خلیل کو جگا کر پوچھا تو اس نے کہا یہ میری پہلی بیوی اور بچہ ہے اس پر مہروش سخت ناراض ہوئی چیخی چلائی اور جھگڑا بھی کیا کہ تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ، رات گزر گئی صبح ہوئی تو مہروش نے مطالبہ کیا کہ یا تو اپنی پہلی بیوی کو چھوڑو یا پھر مجھے طلاق دو ۔۔۔۔ اگرچہ مہروش دل سے دوبارہ طلاق یافتہ ہونے کا لبیل اپنے اوپر نہیں لگانا چاہتی تھی ۔ خلیل کے چند روز شدید پریشانی میں گزرے اور پھر اس نے خطرناک منصوبہ بنا لیا ۔ ایک رات اس نے مہروش کو منہ پر تکیہ رکھ کر گلہ گھونٹ کر مار ڈالا اور پھر اسکی لا۔ش ایک بوری میں ڈال کر قریب واقع روہی نالے میں پھینک دی ۔واپس آکر یہ سوگیا اور پھر صبح ہوئی تو تھانے جاکر شکایت درج کروائی کہ میری بیوی کل رات سے لاپتہ ہے ۔ پولیس نے رپورٹ درج کر لی ، اس سے پہلے کہ پولیس کو کچھ پتہ چلتا 2 دن گزر گئے اور راہگیروں نے 15 پر اطلاع دی کہ روہی نالے میں ایک عورت کی لا۔ش پڑی ہے پولیس 1122 اور فارنزک والے پہنچےضروری کارروائی کی گئی اور لا۔ش کو پوسٹ ۔مار۔ٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا فنگر پرنٹس سے خاتون کی شناخت مہروش کے نام سے ہوگئی تو پولیس نے خلیل کو اطلاع کی کہ آپ کی بیوی ق۔ت۔ل ہو گئی ہے ۔ پو۔سٹ ۔مار۔ٹم رپورٹ میں وجہ موت سانس رکنے سے پتہ چلی اور لڑکی کو مرنے کے بعد نالے میں پھینکا گیا تھا ۔۔۔ مہروش کے والدین کو بلا کر لا۔ش انکے حوالے کی گئی اور شک کی بنیاد یا پھر تفتیش کے لیے پولیس نے سب سے پہلے خلیل سے کام شروع کیا جس نے چند ہی منٹوں میں فر فر ساری کہانی بیان کردی ۔۔۔۔ ملزم کو عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ لیا جاچکا ہے اور کیس پر مزید ضروری کارروائی جاری ہے جبکہ بے گناہ اور معصوم بچی بھی مہروش کے والدین کے حوالے کردی گئی ہے
Sorry I Hide Her Face
🥹🥹🥹🥹🥹🥹

‏"بڑا ظلم ہورہا ہے، اسلئے ہتھیار اٹھالئے"ڈبل کیبن گاڑیاں، نئے ماڈل کے موٹر سائیکل، HD کیمرے، NLE لیول ایڈیٹنگ، لڑکیوں کے...
25/05/2026

‏"بڑا ظلم ہورہا ہے، اسلئے ہتھیار اٹھالئے"
ڈبل کیبن گاڑیاں، نئے ماڈل کے موٹر سائیکل، HD کیمرے، NLE لیول ایڈیٹنگ، لڑکیوں کے ہاتھ میں نئے ہتھیار، سلجھے ہوئے ستھرے بال اور پہلی مرتبہ پہنی گئی وردیاں. اپریل اور مئی کی اس گرمی میں صاف جلد اور پسینے کا ایک قطرہ نہیں لباس پر کوئی گرد نہیں.
بہت کچھ ثابت ہوا👇
کوئی مسنگ پرسنز نہیں سب پہاڑوں پر ہیں اور وہاں لڑکیاں بھی ہیں
انکے پیچھے اسرائیلی دماغ اور پیسہ، بھارتی تربیت، افغانستان کی زمین اور لاجسٹک ہے.
انکی یہ نام نہاد جدوجہد indigenous نہیں ہے.

80 ہزار کا بلوچی دوچ زیب تن کر کے ایک کروڑ کی ڈبل کیبن گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے 5لاکھ کا امریکی M16 گن ہاتھوں میں لیکر دہشت...
25/05/2026

80 ہزار کا بلوچی دوچ زیب تن کر کے ایک کروڑ کی ڈبل کیبن گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے 5لاکھ کا امریکی M16 گن ہاتھوں میں لیکر دہشتگرد کمانڈر طوائف شہناز کہہ رہی ہے "ریاست پاکستان" ہمارے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کر رہا ہے اس لیے اب ہم نے ریاست کیخلاف لڑنے کا فیصلہ کیا ہے 🤨

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Police Gardi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category