Police Gardi

Police Gardi All Bad and Good Stories from Pakistan Police.

دو الگ الگ نظریےکمانڈنٹ چونگ ٹریننگ سینٹر محبوب للہ کی 22 کروڑ کی کرپشن پر صرف OSD تنخواہ بھی پوری اور ازادی بھی  لیکن د...
05/09/2026

دو الگ الگ نظریے

کمانڈنٹ چونگ ٹریننگ سینٹر محبوب للہ کی 22 کروڑ کی کرپشن پر صرف OSD تنخواہ بھی پوری اور ازادی بھی
لیکن دس ہزار کی کرپشن پر چھ بندوں کی بزرگ تھانیدار کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر گرفتاری، خاندان میں بدنامی، حوالات، پرچہ اور برخاستگی سمیت اخبارات الیکٹرانک میڈیا سوشل میڈیا پر پوسٹر اشتہارات
یہ ہے اصل دو قومی نظریہ جو ہمارے نظام کی رگوں میں خون بن کے دوڑ رہا ہے

رائیونڈ پولیس کی حراست میں موجود اس ملزم نے سفاکی ، چالاکی اور درندگی کی انتہا کردی مگر آخر کار قانون کے شکنجے میں آ ہی ...
05/09/2026

رائیونڈ پولیس کی حراست میں موجود اس ملزم نے سفاکی ، چالاکی اور درندگی کی انتہا کردی مگر آخر کار قانون کے شکنجے میں آ ہی گیا ۔۔۔ جون 2023 میں پیش آئے ایک خوفناک واقعہ کی تفصیلات۔ ملزم ابھی بچہ ہی تھا جب اسکے والدین کے درمیان طلاق ہو گئی ، والدہ نے دوسری شادی کرلی جبکہ والدکہیں اور زندگی گزارنے لگا ، یہ بچہ والدین کی غفلت کی وجہ سے زمانے کی ہر ٹھوکر کھا کر جوان ہوا ، والد جہاں رہتا تھا اس گھر میں ملزم کا آنا جانا تھا ، اسی گھر کی ایک شادی شدہ اور آٹھ سال کے بچے کی ماں کے ساتھ ملزم کے تعلقات بن گئے ، خاتون اتنی حسین تھی کہ ملزم اس سے شادی کے خواب دیکھنے لگا ، بسا اوقات ملزم نے خاتون سے کہا کہ شوہر سے طلاق لو میرے ساتھ شادی کرو مگر خاتون اسے ایسے ہی تعلقات جاری رکھنے کا کہتی وہ بہانہ بناتی کہ میرا بیٹا بڑا ہو رہا ہے وہ میرا اور اپنے والد کی آنکھ کا تارا ہے ہم اسکے ساتھ یہ ظلم نہیں کر سکتے ، نتیجہ یہ نکلا کہ ایک روز دوران ملاقات شادی سے انکار پر ملزم خاتون سے ناراض ہو گیا اور اوکاڑہ اپنی ماں کے پاس آگیا ۔۔۔۔ اسکے بعد یہ کراچی چلا گیا وہاں کئی ماہ محنت مزدوری کی اور 2023 میں عید پر اوکاڑہ ماں کے پاس آیا تو والد نے اسے فون کرکے ملنے کے لیے بلالیا ۔ محبوبہ سے ناراضگی کی وجہ سے اس نے انکار کیا لیکن والد کی ضد پر اگلے روز اسی گھر میں چلا گیا جہاں اسکی معشوقہ رہتی تھی ، والد سے ملا اور واپس آنے لگا تو محبوبہ کے 8 سالہ گول مٹول انتہائی پیارے بچے کو ساتھ لے لیا ۔ یہ اسے لے کر اوکاڑہ آگیا ، یہاں سارا دن ادھر ادھر گھومتے رہے بچہ ملزم کو چاچو کہتا تھا اور اس سے مانوس تھا ۔ شام کے وقت ملزم بچے کو دریا کنارے لے گیا اور وہاں بچے کو نہانے کو کہا بچہ دریا کنارے نہانے لگا تو ملزم نے اسے گلا د۔با کر اور غوطے دے کر ما۔ر ڈالا ، پھر دریا میں بہایا اور واپس اپنی ماں کے گھر آگیا ۔ بچے کی تلاش شروع ہوئی تو ملزم سے بھی پوچھا گیا مگر اس نے صاف انکار کردیا کہ مجھے بچے کا کچھ پتہ نہیں اور پھر یہ اگلے روز واپس رائیونڈ پہنچ گیا جہاں بچے کی تلاش ہورہی تھی یہ گھر والوں کے ساتھ ملکر بچے کو ڈھونڈتا رہا ، دریا سے بچے کی لا۔ش ملی تو یہ ہسپتال تھانے ہر جگہ لواحقین کے ساتھ رہا ۔ جنازے کو کندھا دیتا رہا روتا کرلاتا رہا اور قبر میں اتر کر بچے کو دفن کروانے میں بھی مدد کی ۔ اسکے بعد اگلے روز اس نے بچے کے والد اور دیگر لوگوں کو کہہ کر کچھ بے گناہ لوگوں کو نامزد کروایا اور انہیں گرفتار کروایا ۔ مزید سنیں : یہ سفاک شخص لواحقین عورتوں اور مردوں کو ساتھ لے کر تھانے کے باہر سڑک بلاک کرکے احتجاج کرواتا رہا کہ ملزمان کو جلد سے جلد سخت سزا دی جائے مگر پولیس نے اپنے طور پر تفتیش جاری رکھی ، اس علاقہ کی مختلف گلیوں اور مین روڈ سے سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز لی گئیں تو کچھ ویڈیو میں ملزم بچے کو انگلی پکڑ کر لیجاتا دکھائی دے گیا ، پولیس نے لواحقین کو ویڈیوز دکھا کر پوچھا کہ یہ نوجوان کون ہے تو سب نے ملزم کا نام لے دیا اور پھر پولیس نے شک کی بناء پر اور برائے تفتیش ملزم کو حراست میں لیا ، جب ملزم سے شرافت کی زبان میں سوال جواب کیے گئے تو اس کا موقف تھا کہ میں بچے کو مین روڈ تک لے گیا تھا کیونکہ بچے کے ساتھ میری اچھی والی دوستی تھی اسے چیز لے کر دی میں واپس چلا آیا اور بچہ گھر روانہ ہوا تھا ، مجھے نہیں پتہ واپس گھر پہنچنے کی بجائے اسے کون لے گیا ۔۔۔ لیکن جب پولیس نے روایتی طریقہ اپنایا تو 20 منٹ کی محنت شاقہ کے بعد ملزم چیخ پڑا : میں قا۔تل ہوں میں نے بچے کو ق۔ت۔ل کیا ہے ۔۔۔ تفتیشی افسران نے وجہ ق۔ت۔ل پوچھی تو ملزم نے بتایا کہ اسکی ماں میرے ساتھ اس وجہ سے شادی نہیں کرتی تھی کہ اس کا ایک بیٹا ہے ،اس بچے کی وجہ سے وہ شوہر سے طلاق لینے اور میرے ساتھ شادی سے انکاری تھی ۔ پھر میں نے سوچا اگر بچہ ہی نہیں رہے گا تو یہ طلاق آسانی سے لے گی اس وجہ سے میں نے بچے کو مار ڈالا ، پولیس افسران نے اس رخ پر بھی پوچھ گچھ کی کہ کہیں ماں نے خود ملزم کو کہہ کر بچہ نہ مروا دیا ہو ۔ لیکن ملزم کے بیان کے مطابق وہ کئی ماہ سے خاتون سے رابطے میں نہیں تھا انکی ناراضگی چل رہی تھی لیکن عورت کو پانے کی خواہش دل میں رہی جو ختم نہ ہو سکی ۔۔۔ پولیس نے بعد میں ملزم کو چالان کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں سے اسے جیل بھجوا دیا گیا تھا اور اس کیس کی سماعت اب بھی جاری ہے @

کروڑ لعل عیسن: ٹریفک پولیس ناکے پر مبینہ دھکے، 40 سالہ شہری جاں بحقکروڑ لعل عیسن:40 سالہ محمد نواز بھٹی موٹر سائیکل پر گ...
03/09/2026

کروڑ لعل عیسن: ٹریفک پولیس ناکے پر مبینہ دھکے، 40 سالہ شہری جاں بحق
کروڑ لعل عیسن:40 سالہ محمد نواز بھٹی موٹر سائیکل پر گھر سے شہر آ رہا تھا، اہلخانہ کا الزام۔
کروڑ لعل عیسن:تھانہ کروڑ کے قریب ٹریفک پولیس ناکے پر اہلکاروں نے مبینہ طور پر دھکے دیے، اہلخانہ۔
کروڑ لعل عیسن: محمد نواز کے پاس لائسنس اور موٹر سائیکل پر نمبر پلیٹ بھی موجود تھی، اہلخانہ کا دعویٰ۔
کروڑ لعل عیسن: حالت غیر ہونے پر ٹریفک اہلکار مبینہ طور پر اسے ویٹرنری فارمیسی پر لٹا کر چلے گئے، اہلخانہ۔
کروڑ لعل عیسن: محمد نواز سرکاری سکول کا ٹیچر تھا، اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ٹریفک اہلکاروں کو گرفتار کرکے انصاف دیا جائے۔
کروڑ لعل عیسن:واقعہ کی اطلاع پر ڈی ایس پی کروڑ ہسپتال پہنچ گئے، واقعہ کی تحقیقات جاری۔

فیصل آباد: قریبی رشتہ دار کو مبینہ طور پر تھانے کے سرکاری نمبر سے فون کرکے نازیبا الفاظ، گالم گلوچ اور دھمکیاں دینے کے ا...
03/09/2026

فیصل آباد: قریبی رشتہ دار کو مبینہ طور پر تھانے کے سرکاری نمبر سے فون کرکے نازیبا الفاظ، گالم گلوچ اور دھمکیاں دینے کے الزام پر فیصل آباد پولیس کی ویمن کانسٹیبل ماریہ کو معطل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق معاملہ سامنے آنے پر ایس پی لائلپور ٹاؤن نے ویمن پولیس کانسٹیبل ماریہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے معطل کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کانسٹیبل ماریہ پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو تھانے کے سرکاری نمبر سے فون کیا اور مبینہ طور پر ماں بہن کی گالیاں اور دھمکیاں دیں۔
واقعے کے بعد پولیس حکام کی جانب سے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس اہلکاروں کے لیے سرکاری اختیارات اور سرکاری وسائل کا ذاتی معاملات میں استعمال محکمانہ ضابطوں کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ تحقیقات کے دوران لیا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں اختیارات کے غلط استعمال یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

چالان کی ویڈیو بنانا اتنا بڑا جرم بن گیا کہ ایک نوجوان کو کمرے میں بند کر کے جوتوں اور ڈنڈوں سے اتنا پیٹا گیا کہ نوجوان ...
03/09/2026

چالان کی ویڈیو بنانا اتنا بڑا جرم بن گیا کہ ایک نوجوان کو کمرے میں بند کر کے جوتوں اور ڈنڈوں سے اتنا پیٹا گیا کہ نوجوان کی چیخیں باہر تک سنائی دے رہی تھی۔ چیخنے، چلانے کی ویڈیو وائرل۔ ویڈیو نہیں، پورے نظام کا چہرہ ہے۔

فیصل آباد کے سرگودھا روڈ ٹریفک سیکٹر سے ایک ایسی ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس نے ہر باضمیر شہری کے دل کو دہلا دیا۔ ایک نوجوان، غلام فرید، جس کا "جرم" صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے چالان کی ویڈیو بنانے کی جسارت کی، اسے ایک بند کمرے میں دھکیل دیا گیا۔ وہاں، وردی پہنے محافظ، جن کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا تھا، اسی نوجوان پر جوتوں کی بارش کر رہے تھے۔ اس کی چیخیں دیواروں سے ٹکراتی رہیں، اور باہر اس کا بھائی مدد کے لیے در در بھٹکتا رہا، مگر انصاف کا کوئی دروازہ اس کے لیے نہ کھلا۔ یہ منظر محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ اس نظام کی عکاسی ہے جہاں وردی طاقت کی علامت بن چکی ہے، خدمت کی نہیں۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ایک عام شہری کے پاس اپنے حق کی ویڈیو بنانے کا اختیار بھی کیوں نہیں رہا؟ کیا شفافیت اب جرم بن چکی ہے؟ جو لوگ عوام کے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں، وہی عوام پر تشدد کریں تو یہ صرف ایک وارڈن کی زیادتی نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ موٹرسائیکل ضبط کرنا ایک بات ہے، مگر ایک انسان کو حبسِ بےجا میں رکھ کر بہیمانہ تشدد کرنا سراسر انسانی حقوق کی پامالی اور فوجداری جرم ہے، جس پر محض معطلی کوئی سزا نہیں بلکہ ایک لطیفہ ہے۔

چیف ٹریفک آفیسر ناصر جاوید رانا نے انکوائری کا حکم تو دے دیا، مگر عوام کا حافظہ کمزور نہیں۔ اس سے پہلے ستیانہ روڈ پر بھی ٹریفک وارڈنز کی غنڈہ گردی سامنے آئی تھی، مگر افسرانِ بالا نے "صلح" کروا کے معاملہ دبا دیا۔ یہی روایتی سرد مہری اب دوبارہ دہرائی جا رہی ہے۔ کیا انکوائری بھی اسی انجام سے دوچار ہوگی؟ کیا ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا، یا معاملہ پھر ایک "معطلی" کی رسمی کارروائی پر ختم کر دیا جائے گا؟

یہ واقعہ محض ایک نوجوان کی چیخ نہیں، بلکہ اس سوال کی گونج ہے جو ہر شہری کے دل میں گونجتا ہے: اگر محافظ ہی درندے بن جائیں تو انصاف کہاں تلاش کیا جائے؟ عوام اب رسمی بیانات نہیں، ٹھوس اور شفاف کارروائی چاہتی ہے۔ ذمہ داران کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو، متاثرہ نوجوان کو انصاف ملے، اور یہ پیغام واضح جائے کہ وردی قانون سے بالاتر نہیں۔ ورنہ یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا، اور آج کا غلام فرید کل کسی اور کا نام لے کر پھر سے سسکے گا۔

بچوں سےبدفعلی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ، پولیس ریکارڈ کےمطابق، 8ماہ میں پنجاب کے 11اضلاع میں 29بچے بدفعلی کے بعد ...
02/09/2026

بچوں سےبدفعلی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ، پولیس ریکارڈ کےمطابق، 8ماہ میں پنجاب کے 11اضلاع میں 29بچے بدفعلی کے بعد قتل، بچوں سے زیادتی اور قتل کے 16مقدمات درج، واقعات میں ملوث 20ملزم گرفتار، اب تک صرف 11واقعات کے چالان عدالتوں میں جمع کرائے جا سکے۔ 4کیسز میں ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔ سرگودھا میں9، بہاولپور4، فیصل آباد3، گوجرانوالہ، میانولی، خانیوال اور مظفرگڑھ میں دو، دو ٹوبہ ٹیک سنگھ، شیخوپورہ اور جھنگ میں ایک، ایک واقعات رپورٹ ہوئے۔

کمینے اور گھٹیا لوگوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے نہ انکے ماتھے پر لکھا ہوتا ہے بدنسلا ۔۔۔۔ یہ حرکتیں ہوتی ہیں جو نسل کی پہچ...
02/09/2026

کمینے اور گھٹیا لوگوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے نہ انکے ماتھے پر لکھا ہوتا ہے بدنسلا ۔۔۔۔ یہ حرکتیں ہوتی ہیں جو نسل کی پہچان کروا دیتی ہیں ۔۔۔ اچھی بھلی چوڑی سڑک پر ایک معذور اپنی سائیکل پر چلا جارہا تھا ، پیچھے سے آنیوالی کالے رنگ کی گاڑی کا ڈرائیور جان بوجھ کر گاڑی نچلی لین میں لایا ، معذور شخص کی سائیکل کو سائیڈ ماری اور پھر فوری اپنی لین میں جاتا ہوا فرار ہو گیا ۔ اللہ نے غریب معذور شخص کو محفوظ رکھا راہ گیر اسکی امداد میں لگ گئے لیکن گاڑی والا چاہے ڈرائیور تھا یا مالک ثابت کر گیا کہ اپنے ظاہری اور کاغذی باپ کا نہیں تھا ۔۔۔

لاہور کے علاقے شادمان میں 26 اگست کی شام معمول کا ایک منظر تھا۔ سورج ڈھلنے کو تھا، وقت تقریباً ساڑھے پانچ بجے کا تھا، او...
01/09/2026

لاہور کے علاقے شادمان میں 26 اگست کی شام معمول کا ایک منظر تھا۔ سورج ڈھلنے کو تھا، وقت تقریباً ساڑھے پانچ بجے کا تھا، اور شادمان مارکیٹ یوٹرن پر ٹریفک پولیس کے اہلکار حسبِ معمول اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔ ٹریفک کا بہاؤ رواں دواں تھا کہ اچانک ایک نوجوان موٹرسائیکل سوار تیز رفتاری سے وہاں سے گزرتا دکھائی دیا۔ نہ سر پر ہیلمٹ تھا، نہ رفتار پر قابو۔

ڈیوٹی پر موجود ٹریفک اسسٹنٹ نے فرض کے عین مطابق ہاتھ کے اشارے سے اسے رکنے کو کہا۔ شاید نوجوان کو جلدی تھی، یا شاید اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ اگلے چند لمحوں میں کیا ہونے والا ہے۔ اس نے رکنے کے بجائے موٹرسائیکل کو مزید تیز کرتے ہوئے نکل جانے کی کوشش کی۔ مگر رفتار اتنی زیادہ اور کنٹرول اتنا کم تھا کہ موٹرسائیکل بے قابو ہو گئی ۔ ٹریفک وارڈن نے ہینڈل سے پکڑنے کی کوشش کی تو ..... دونوں اہلکار اور نوجوان سڑک پر آ گرے۔ اس پورے واقعے کی ویڈیو بھی ٹریفک پولیس کی جانب سے بعد میں جاری کی گئی، جس میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ کس طرح ایک لمحے کی بے احتیاطی نے دو زندگیوں کا رخ بدل دیا۔

حادثے کے فوراً بعد دونوں زخمیوں کو سرکاری گاڑی کے ذریعے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچایا گیا۔ ٹریفک اسسٹنٹ کی حالت نسبتاً بہتر نکلی۔ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ لیکن موٹرسائیکل سوار نوجوان، جو لاہور کی تحصیل ساندہ کا رہائشی بتایا جاتا ہے، کی چوٹیں زیادہ سنگین تھیں۔ اسے مزید علاج و نگرانی کے لیے ہسپتال میں داخل رکھا گیا۔

پانچ دن تک وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں رہا۔ ڈاکٹر علاج میں مصروف رہے، لیکن آخرکار منگل کے روز وہ ہار گیا اور دورانِ علاج چل بسا۔

اس واقعے کا ایک تلخ اور غیرمعمولی پہلو یہ ہے کہ حادثے کے فوراً بعد ہی، جب نوجوان ابھی زیرِ علاج تھا، تھانہ شادمان میں اسی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا کیونکہ فرض کی ادائیگی میں مصروف ایک اہلکار کو زخمی کرنے کا ذمہ دار وہی ٹھہرا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نوجوان کی جان بھی گئی، اور مقدمہ بدستور اس کے خلاف درج ہے۔ ایک ایسا مقدمہ جس کا سامنا کرنے کے لیے اب وہ خود موجود نہیں۔

لاہور ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعے کی تفصیلات واضح ہیں: بغیر ہیلمٹ، تیز رفتاری، اور رکنے کے اشارے کی خلاف ورزی۔ یہ وہ تین عوامل تھے جنہوں نے ایک معمول کی ڈیوٹی کو المیے میں بدل دیا۔
مگر سوال یہ ہے کہ چلتے موٹر سائیکل کو، بیچ سڑک کون پاگل روکتا ہے؟ یہ کسی وارڈن کی پہلی حرکت نہیں۔ ایسے پہلے کئی واقعات ہوچکے ہیں مگر جان پہلی دفعہ گئی ہے۔ کیا چالان ایک انسان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟ جواب آپ ہی دے دیں۔۔
اظہر تھراج

"3 سگے بھائیوں کا ق-تل اور اندھا قانون... ایجنسیوں کی محنت پر عدالت نے ایک جھٹکے میں پانی پھیر دیا!" 💔چارسدہ کے اس سفاک ...
31/08/2026

"3 سگے بھائیوں کا ق-تل اور اندھا قانون... ایجنسیوں کی محنت پر عدالت نے ایک جھٹکے میں پانی پھیر دیا!" 💔

چارسدہ کے اس سفاک م-جرم نے ایک ہی گھر کے 3 سگے بھائیوں کو ب-ے دردی سے ق-تل کیا اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ملک سے فرار ہو گیا۔ ہماری ایجنسیوں نے دن رات ایک کر کے، انٹرپول کی مدد سے اس ق-اتل کو ملائیشیا سے گرفتار کیا اور گھسیٹ کر پاکستان لائے تاکہ مظلوم خاندان کو انصاف مل سکے۔

لیکن کل پاکستانی عدالت میں جو ہوا، اس نے پورے نظامِ انصاف کا جنازہ نکال دیا...

جج صاحب نے یہ کہہ کر اس سفاک م-جرم کو محض 4 لاکھ روپے کی ضمانت پر ہنستے کھیلتے رہا کر دیا کہ "ثبوت ناکافی ہیں!" ذرا سوچیں اس بوڑھی ماں اور خاندان کے دل پر اس وقت کیا قیامت گزر رہی ہوگی جس نے اپنے آنگن کے 3 جوان بیٹے کھوئے، اور اب ان کا ق-اتل سینہ تان کر کھلے عام گھومے گا۔

❓ ایک سوال آپ سب سے:
کیا ہمارے ملک میں 3 انسانوں کی جان کی قیمت صرف 4 لاکھ روپے رہ گئی ہے؟ جب 3 لاشیں گرنے کے بعد بھی 'ثبوت ناکافی' ہیں، تو پھر غریب کو انصاف کیسے ملے گا؟
Disclaimer:
This image/video has been sourced from publicly available social media platforms. We have not independently verified its authenticity or accuracy. The purpose of sharing it is to inform the public. Viewers are encouraged to verify the information from official and reliable sources before forming any conclusions or sharing it further.
اردو:
نوٹ: یہ تصویر/ویڈیو سوشل میڈیا پر عوامی طور پر دستیاب ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔ ہم اس کی صداقت یا درستگی کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتے۔ اسے صرف عوام تک معلومات پہنچانے کے مقصد سے شیئر کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے یا آگے شیئر کرنے سے پہلے براہِ کرم مستند اور سرکاری ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

یہ ہے چار سالہ نور فاطمہ کا قا۔تل اس کی کیا سزا ھونی چاہیے
31/08/2026

یہ ہے چار سالہ نور فاطمہ کا قا۔تل اس کی کیا سزا ھونی چاہیے

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Police Gardi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category