03/06/2026
کراچی: سب انسپکٹر روبینہ بلوچ کی ذاتی کوششوں کے نتیجہ میں گرفتار ہونے والے ایک خطرناک ملزم کے انکشافات نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ـ
یہ خطرناک ملزم مبینہ طور پر کم از کم 22 لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر اپنے جال میں پھنسا کر ان کی زندگی برباد کر چکا ہے ۔ اس ملزم کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ پہلے لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانا ، پھر ویڈیو کالز کے ذریعے نازیبا تصاویر اور ان کی ویڈیوز حاصل کرتا، جس کے بعد متاثرہ لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر گھروں سے بھگاتا اور بعد ازاں کرائے کی رہائش گاہوں میں لے جا کر ان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرواتا۔ اس ملزم پر یہ گھناؤنا الزام بھی ہے کہ متاثرہ خواتین کی فحش ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کی جاتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک منظم گروہ قائم کیا گیا تھا جبکہ گروہ کے بعض افراد کے پاس پاکستانی شناختی دستاویزات تک موجود نہیں اور وہ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے جس کے پیچھے "کملہ" نامی خاتون ہے جو سوبھراج اسپتال میں کے ایم سی کے تحت صفائی کے فرائض سر انجام دیتی ہے، ان افراد کو رہائش، موبائل فون اور اپنے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈز کملا فراہم کرتی رہی۔
تحقیقات کے مطابق 22 متاثرہ لڑکیوں کی زندگیاں اس گھناؤنے نیٹ ورک کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ بعض لڑکیوں کی زبردستی شادیاں کروائی گئیں، انہیں جسم فروشی اور فحاشی پر مجبور کیا گیا، جبکہ کچھ متاثرہ لڑکیوں کو جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھ فروخت کیے جانے کے بھی دعوے سامنے آئے ہیں۔
اس سلسلہ میں لیڈی سب انسپکٹر روبینہ بلوچ قابل تعریف ہے جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر، سوبھراج اسپتال کے ایک ملازم کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا، جو اس وقت 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں ہے۔
تاہم کہا جا رہا ہے کہ ملزم کے ساتھی، جو مختلف سرکاری اداروں میں ملازمت کرتے ہیں، اپنے روابط استعمال کرتے ہوئے ملزم کو خصوصی سہولیات دلوانے اور اسے بے گناہ ثابت کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں اور اس کیس میں ملوث عناصر کو بچانے کی کوششوں کے دوران متعلقہ افسران اور تفتیشی ٹیم کو دباؤ، دھمکیوں اور خوف و ہراس کا سامنا ہے، جبکہ لیڈی افسر اور ان کے معصوم بچے کی جان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔حتیٰ کہ ان کا ڈی ایس پی بھی ان کو ریمانڈ لینے سے منع کررہا ہے۔ سب انسپکٹر خاتون ویڈیو جاری کرنے پر مجبور۔ جنسی درندہ مطمئن ہنس رہا تھا۔
عامر مصطفی قتل کیس ، پنکی کی گرفتاری اور اب 22 لڑکیوں کے ساتھ کھیلا جانے والا گھناؤنا کھیل ہمارے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے ، منشیات کی کھلے عام خرید و فروخت ، ڈارک ویب ، لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی جیسے واقعات کے ملزمان کی گرفتاری کے بعد سالوں تک کیس عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں اور کسی کو انصاف نہیں ملتا ، اس وقت 22 متاثرہ لڑکیوں کے لیے انصاف اور اس گھناؤنے نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے جو تقریبا ناممکن نظر آتا ہے ,جبکہ روبینہ بلوچ ایک باہمت پولیس افیسر ہیں جو ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہیں اور اس سلسلہ میں ان کی بہت سی وڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں ، جس کے بعد سندھ حکومت اور عدالت نے کاروائی کرتے ہوئے کچھ اہم اقدامات کئے ہیں
نفیسہ سعید