26/04/2026
ستیزہ کار رہا ہے ابد سے تا امروز، چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
انسانی تاریخ کے طویل سفر میں ایک موضوع بار بار سامنے آتا ہے: خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان کشمکش۔ مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فکری روایتوں نے اس جدوجہد کو اپنے اپنے انداز میں بیان کیا ہے، مگر بنیادی خیال ایک ہی رہتا ہے—انسان عدل، نظم اور معنی کی تلاش میں رہتا ہے، جبکہ اسے انتشار، ظلم اور اخلاقی کمزوریوں کا سامنا بھی ہوتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ جیسے رہنماؤں کو عموماً ایسے اخلاقی پیشوا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی اپنی اقوام کو بلند تر اقدار کی طرف بلایا—رحم، انصاف، ضبط اور ذمہ داری۔ خواہ انہیں روحانی، تاریخی یا فکری زاویے سے دیکھا جائے، ان کی اصل تاثیر اس بات میں تھی کہ انہوں نے لوگوں کو ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ نظام کی طرف متحرک کیا۔ مختلف ادوار اور خطوں میں کئی دیگر رہنما بھی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے معاشروں کو سنوارنے اور بلند کرنے کی کوشش کی۔
یہ تصور کہ “خیر غالب آتی ہے” محض ایک پیش گوئی نہیں بلکہ انسانی آرزو کی عکاسی ہے۔ تاریخ ہمیشہ سیدھی لکیر میں انصاف کی طرف نہیں بڑھتی؛ اس میں تنزلی، سانحات اور تاریکی کے ادوار بھی آتے ہیں۔ لیکن وہ معاشرے جو قائم رہتے ہیں، عموماً وہ ہوتے ہیں جو ایسے ادارے، اقدار اور نظام قائم کرتے ہیں جو وقت کے ساتھ خود کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی تناظر میں اقوام کی بقا صرف طاقت پر نہیں بلکہ ان کی لچک، اندرونی مکالمے اور ان اصولوں سے وابستگی پر بھی منحصر ہوتی ہے جنہیں وہ—خواہ مکمل نہ سہی—اپنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے حامی اکثر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ یہ ریاستیں استقامت اور بعض بنیادی اقدار—آزادی، سلامتی، اختراع اور قومی شناخت—کی نمائندگی کرتی ہیں۔ کسی بھی مخصوص پالیسی سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، عالمی سطح پر ان کا تسلسل پیچیدہ تاریخی، سیاسی اور سماجی عوامل کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض خیر و شر کی سادہ تقسیم۔
جہاں تک قیادت کا تعلق ہے، تاریخ میں لوگ اکثر اپنے رہنماؤں میں امید، تسلسل اور نیا آغاز دیکھتے آئے ہیں—خصوصاً مشکل اوقات میں۔ کسی رہنما کے لیے حمایت، وفاداری اور اس کی خیریت کے لیے دعا کرنا انسانی روایت کا حصہ ہے، جس میں اقتدار کو اخلاقی یا علامتی اہمیت دی جاتی ہے۔
آخرکار، خیر کی کامیابی کوئی خودکار امر نہیں بلکہ ایک مسلسل عہد ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ افراد اور معاشرے بار بار دیانت، انصاف اور اصلاح کا راستہ اختیار کریں۔ خیر کی “فتح” یقینی نہیں—یہ مسلسل کوشش، احتساب اور اپنے ہی اعمال کا جائزہ لینے کے جذبے سے قائم رہتی ہے۔