03/04/2026
سرکاری دفاتر میں تو پھر بھی کہیں ایماندار لوگ مل جاتے ہیں۔
لیکن آپ کو کہیں تاجر حضرات یا کسی مارکیٹ سے کوئی خالص چیز کا ملنا نا ممکن۔ اگر بڑے بڑے مالز سے کچھ اچھا مل بھی جاتا ہے تو overpriced یا کھال اتارنے کے نت نئے جُگاڑ کئیے ہوتے ہیں۔ آپ پیسے پورے ادا کریں لیکن اُس میں خراب فروٹ مکس نا کیا جائے یہ ہو نہیں سکتا۔
چھوٹے دکاندار، سبزی و فروٹ فروش، مستری، مکینک، دودھ، دوائیاں، سکول کی فیسیں، بجلی کے بِل غرض ہر بندے نیں اپنے حساب کتاب لگا کر ریٹ بڑھا لینے ہیں۔
آ جا کر سرکاری ملازم اور ان کے بچے اور ان کی فیملیز ہی بچتے ہیں جو مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
۔ اور تنخواہیں بھی ایک سال بعد ہزار دو ہزار بڑھائی جائیں گی۔
😢