01/06/2026
Bloody__Love(خونی عشق)
از_واحبہ_فاطمہ
Episode 14...
فانیہ خاموشی سے بیڈ کی جانب آئی
جب بہت زور سے دوبارہ سر چکرایا.. وہ لڑکھڑائی...
راسم نے فوراً آگے بڑھ کر اسے تھاما...
مگر فانیہ نے خود کی جانب بڑھتے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے
راسم کو پھر آگ لگی..
وہ بھناتا اس کی جانب بڑھا اور اس کے پیچھے ہٹنے کے باوجود اسے بازوؤں میں بھر لیا..
لا کر نرمی سے بیڈ پر لٹایا..
دنیا کی کوئی طاقت تمھیں مجھ سے دور نہیں کر سکتی جان... تم خود بھی نہیں اسی لئے کوشش بھی مت کرنا..
نرم گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اس کے اوپر جھکا.
وہ سسک پڑی...اور ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا..
اے خبردار جو ایک آنسو بھی گرا تمھارا تو..نہیں تو.. راسم نے نرمی سے ہاتھ ہٹا کر بیڈ سے لگائے.
نہیں تو کیا پھر سے ہاتھ اٹھائے گے؟ فانیہ کے آنسو تواتر سے بہے.
راسم جھکا اور اپنے لبوں سے وہ آنسو چنے.. پھر عقیدت سے دونوں بھیگی پلکوں کو چوما.
وعدہ کرتا ہوں جان.... دوبارہ کبھی یہ گستاخی نہیں کروں گا.. بس ایک مرتبہ معاف کر دو.حکم کرو ابجی اس ہاتھ کو سزا دیتا ہوں ... وہ بارہ باری اس کے گلابی گالوں پر جھکا..
پر حدت سا لمس تھا..
اس کی قربت میں تو فانیہ اور پگھل رہی تھی.. اور رونا آ رہا تھا.. یا شاید وہ اسے اور سننا چاہتی تھی.
اس کے ہر عمل میں سکون حاصل کر رہی تھی.
اسی لئے اس کے سینے میں چہرہ چھپایا اور سسکی..
راسم نے اسے سینے میں بھینچا...
مگر وہ زیادہ دیر اس کے آنسو برداشت نہیں کر سکا..
اس کا چہرہ سینے سے ہٹا کر ہاتھوں میں بھرا.
جھک کر عقیدت سے محبت کا جام پینے لگا...
وہ اس کی باتوں کی وضاحت چاہتی تھی.. اس سے بات کرنا چاہتی تھی.
مگر راسم کے پاگل پن اور جنون بھری شدت نے اسے موقع کہاں دیا...
وہ پھر اسے اپنے آپ میں اپنے وجود میں بری طرح گم کر چکا تھا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وائٹ پیلس میں جشن کا سا سماں تھا..
سب لاؤنج میں اکٹھے بیٹھے تھے.
انھیں میں فانیہ شرمائی لجائی سی سرخ چہرہ لیے سمٹی بیٹھی تھی...
پہلی خوشخبری فانیہ کی جانب سے ملنے پر سب بے حد خوش تھے
رحاب اور روحا ریشماں کے دائیں بائیں بیٹھیں تھیں..
میں تو چاہتی تھی روح.... یہ خوشخبری سب سے پہلے مجھے تم سناؤ پر کوئی بات نہیں.. وہ وقت بھی جلد آئے گا.... آنے والا ہے سوہم خان بھی....
ریشماں نے ایک ادا سے روحا کو چھیڑا تو مارے خفت کے وہ لال ٹماٹر ہو گئی..
رحاب! اس کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھ کر پیٹ پکڑے بری طرح ہنس دی..روح نے رحاب کو گھورا
ریشماں نے اس کی جانب دیکھا.
کوئی بات بچی.. تمھارا بھی وقت جلد ہی آئے گا.. ریشماں معنی خیز سی بولی..
جی نہیں... ابھی نہیں...رحاب نے اشارہ کیا.. ریشماں کے چہرے پر ذومعنی سی مسکان تھی.
خبری کو کام پر لگا دیا تھا..سب کو بول دیا تھا کہ کس کو کیا کیا کرنا ہے
ریشماں کا حکم تھا کسی کو ٹالنے کی جرات نہیں تھا.. گارڈز بھی سخت وارننگ دے دی تھی اب بس پاشا کا انتظار تھا..
سب ہلے گلے میں مصروف رہے... جب خبری نے فون پر ایک خاص اطلاع دی..
ریشماں فوراً رحاب کی جانب مڑی..
بچی گارڈ نے بتایا کہ تمھارے پیرٹس کے پنجرے کے پاس رات اور اب بھی بلی گھوم رہی تھی.. زرا جا کر دیکھو کہیں کھا وا تو نہیں گئی ان معصوم جانوں کو..
رحاب بے تحاشا گھبرا کر اٹھی.. میں جاتی ہوں.. اس نے اشارہ کیا اور تیزی سے پچھلے دروازے باہر لپکی.
ریشماں کے لبوں پر معنی خیز سی مسکراہٹ تھی اب اسے پتہ تھا کہ وہ اس کے پلین کے کامیاب ہونے تک اندر نہیں آنے والی..
تبھی پاشا وائٹ پیلس میں داخل ہوا تھا
تیز میوزک کی آواز میں سب ہلے گلے میں مصروف تھے
سبھی لاؤنج میں تھے.
جسے دیکھنے آیا تھا اسکی تو ایک جھلک بھی نظر نہیں آئی تھی..
پتا نہیں کہاں چپھی تھی
ٹھیک تو تھی... وہ بے چین ہوا.
جب بے چینی حد سے سوا ہوئی تو سب سے نظر بچا کر اٹھا.
مگر ریشماں کی نظر میں تھا.
بڑی مشکل سے اپنی ذومعنی مسکراہٹ دبائی ہوئی تھی ریشماں نے.
پھر بہانے سے اس نے وائٹ پیلس گھوم گھام کر دیکھا
وہ کہیں نہیں تھی.
حتی کے اس کے روم میں بھی دیکھ آیا.. تن بدن میں آگ لگی.. رگوں میں شعلہ بھڑکے
لاؤنج میں موجود کسی فرد سے پوچھنا نہیں چاہتا تھا اسی لئے..
اب دماغ گھوما تھا... لاؤنج کے دروازے پر کھڑے گارڈز تک گیا.
رحاب کدھر ہے.. خطرناک تیوروں سے پوچھا.
گارڈز کے پیچھے کھائی(ریشماں) تھی تو آگے کنواں (پاشا)
مرتے کیا نا کرتے.. گھگھیاتے بولے
سر وہ تو صبح چلیں گئیں...
کدھر؟میری اجازت کے بغیر جانے کیوں دیا.... وہ دھاڑا
سر وہ ریشماں جی کا حکم تھا کہ ان کو جانے دیا جائے..
یو باسٹرڈز......... میں لایا تھا اسے مجھ سے پوچھنا گوارا نہیں کیا... اس کو کھو دینے کے ڈر سے پاشا کی روح فنا ہوئی.. پیروں نیچے سے زمین کھسکی
وہ چلا رہا تھا جب ریشماں نے اشارہ کر کے میوزک بند کروایا.
سب پاشا کی طرف متوجہ ہوئے..
وہ تن فن کرتا پنکی کی طرف آیا... شدید طیش اور اندر اٹھتے اشتعال کے طوفان کے ہوتے ہوئے ریشماں سے ہر گز مخاطب نہیں ہونا چاہتا تھا..
وہ کہاں ہے؟ پاشا پنکی کی جانب دیکھ کر دھاڑا.. غصے کو قابو میں نہیں کر پا رہا تھا اسی لئے ریشماں کو مخاطب نہیں کر رہا تھا
وہ کون، ریشماں اطمینان سے بولی.
اگر آپ لوگ میرے منہ سے اس کا نام سننے چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے.. رحاب کہاں ہے؟ وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا.. مگر رخ پنکی کی جانب ہی تھا.
ارے بھئی.. خود ہی تو کہا تھا دارالامان چھوڑ آؤ... اب بھیج دیا ہے تو مسئلہ کیا ہے... ویسے بھی اس نے کہا وہ جانا چاہتی ہے...
اس نے کہا... وہ کہہ سکتی ہے.. وہ غرایا..
اشارہ تو کر سکتی ہے ناں.. ریشماں لاپروائی سے بولی
میں پورے وائٹ پیلس کو آگ لگا دوں.. سب جلا کر راکھ کر دوں گا بولیں کدھر ہے وہ..
اور تم لوگ گھاس چرنے بیٹھے ہو گیٹ پر.. کوئی آئے جائے گا.. آنکھیں بند رکھو گے... بولو کدھر ہے وہ... کھال ادھیڑ کر چیل کووں کو کھلا دوں گا..
وہ اب اپنی بیلٹ سے گارڈز کو دھنک رہا تھا.
سب کو سانپ سونگھ گیا تھا..
ریشماں نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ روکا... کیا لگتی ہے وہ تمھاری.. کیا حق ہے اس پر تمھارا... جو یوں آگ لگی اس کے جانے سے... ہااااااں..... پاشا.... بولو... جواب دو.
ریشماں... محبت کرتا ہوں میں اس سے.... پاشا کی آواز وائٹ پیلس میں گونجی... ایک پل بھی نہیں رہ سکتا اس کے بغیر... سنا آپ نے... مجھے وہ چاہیے.. اپنی آنکھوں کے سامنے... ابھی اور اسی وقت...
کیوں چاہیے پاشا.. بغیر حق کے، بغیر کسی رشتے کے کیوں چاہیے؟ رکھیل بنانا چاہتے ہو اسے... ریما پھنکاری
شٹ اپ یو بچ....... نکاح کروں گا ابھی اور اسی وقت سنا سب نے...وہ صرف اور صرف پاشا کی ملکیت ہے..ڈھونڈنے جا رہا ہوں اسے.. نکاح خوان کا بندوبست کر کے رکھیں..
یہ کہتا وہ بھسم کرنے والے انداز میں باہر نکلا تھا..
گیٹ پر ہی گارڈ منمنایا...
سس... سر وہ میم پچھلے گارڈن میں ہیں... ریشماں جی کے کہنے پر جھ... جھوٹ بولا آپ سے...
تم لوگوں کو تو میں بعد میں دیکھوں گا... اس نے دانت پیستے خونخوار نظروں سے انھیں دیکھا..
اور گارڈن کی طرف گیا...
رحاب پنجرے تک آئی تو پیرٹس بلکل سیو تھے.. اس نے سکھ کا سانس لیا.
پھر واپس سٹور روم تک گئی..
ان کے لئے دانہ لے کر آئی.... پنجرے کے قریب بیٹھ کر ان کے کٹوروں میں دانیہ ڈال کر اٹھی اور تازہ پانی لے کر آئی
پھر پانی بھی چینج کیا..
جاں نثار کرنے والی نظروں سے ان رنگ برنگی ننھی جانوں کو دیکھا.. جو اس سے کافی مانوس ہو گئے تھے..
اب وہ بیٹھی گہری مسکان سے انکی شرارتیں دیکھ رہی تھی
جب اپنے پیچھے بھاری بوٹوں کی مخصوص دھمک سنائی دی تو سانس حلق میں اٹکا. ..
یہ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں...
ابھی وہ کچھ اور سوچتی..
جب اچانک پیچھے سے پاشا نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف گھما کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا تھا.
بس اتنی سی دیر میں یہ چھوٹی سی لڑکی
پاشا کی
Deadly Pasha
کی جان پر بنا گئی تھی.....
وہ سخت تلملایا ہوا تھا.
وہ اس کے بازو کی گرفت میں گھبرائی اور مچلی...
وائٹ پیلس سے قدم باہر نکالنے کی جرات بھی کیسے کی تم نے.. پاشا نے دانت پیسے..
مگر بے قرار نگاہیں اس کے معصوم چہرے کا طواف کر رہی تھیں...
جبکہ وہ مسلسل اس کے بازو کی گرفت میں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی..
مگر پاشا نے ایک جھٹکے سے اسے مزید قریب کیا.. میں جانتا ہوں تم پر کوئی حق نہیں رکھتا.. مگر میں یہ حق حاصل کرنا چاہتا ہوں.. نکاح کرو گی مجھ سے؟ ابھی اور اسی وقت.....؟
پاشا نے سنجیدگی سے کہا.. جبکہ رحاب کہ اس کی بات پر رونگٹے کھڑے ہو گئے..
چہرہ لال ٹماٹر ہوا...
وہ جی جان سے لرزی..
پاشا نے اس کی حالت کے پیش نظر نرمی سے چھوڑا
اور بازو سے پکڑ کر اسے اندر کی جانب لے کر جانے لگا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کبیر اپنے خاص آدمیوں سے اہم بریفنگ لے رہا تھا جب قادر گھبرایا سا اندر داخل ہوا.
کبیر نے دانت پیسے...
واٹ دا ہیل.... قادر یہ کیا بدتمیزی ہے... وہ یوں بھی آج کل انگارے چبائے پھرتا تھا..
سر ضروری بات ہے میم سے متعلق.... قدر نے آہستگی سے کہا.
کبیر کی رگیں مزید تنی
آدمیوں کو جانے کا اشارہ کیا...
وہ چلے گئے تو قادر کی طرف متوجہ ہوا
بولو؟
سر وہ.... میم... قادر جھجھکا...
اب بول بھی چکو قادر.....کہ مرنا ہے میرے ہاتھوں... اس نے دانت پیسے.
وہ سر میم نے وکیل کو بلوایا ہے آج... خلع کے پیپرز بنوانے کے لئے.... پیپرز پر سائن کرنے والی ہیں.. پھر کیس عدالت میں جائے گا.
قادر نے کبیر کے سر پر بم پھوڑا..
واٹ... کبیر کے تلووں پر لگی اور سر پر بجھی...اٹھ کر کھڑا ہوا..
سر وکیل پہنچ گیا ہے...
کبیر بھسم کرنے والے انداز میں باہر نکل کر سامنے والے گھر میں داخل ہوا تھا..
ڈرائینگ روم سے ہلکی باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں..
بابا اس وقت اپنے کمرے میں سو رہے تھے... اور وہ یقیناً یہ کارنامہ ان کے علم میں لائے بغیر سر انجام دے رہی تھی..
وہ تن فن کرتا ڈرائینگ روم میں داخل ہوا.
سامنے ہی وہ سفید چادر میں لپٹی پیپر ہاتھ میں لئے بیٹھی تھی..
سامنے ہی ایک وکیل بیٹھا پرشوق نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا..
کبیر آگے بڑھا
اس کے ہاتھوں سے پیپر چھین کر پڑھے...
خلع کے ہی تھے.... سیکنڈوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوا میں اچھالے...
یہ کیا کر رہے ہیں آپ...وہ چلائی
مگر وہ وکیل کی جانب بڑھا تھا.. اسے یہ پیپر بنانے اور اس کی بیوی کی طرف دیکھنے کا انعام جو دینا تھا..
کبیر نے اسے دھنک کر رکھ دیا تھا... زمل چلاتی رہی.. وہ وکیل بھی گھگھیا گیا مگر کبیر کے سر پر خون سوار تھا..
گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور پینٹ سے پسٹل نکال کر اس کے سر پر تانی.
مم. معاف کر دو.. ....معاف کر دو... اب ادھر کا رخ بھی نہیں کروں گا... جان بخش دو میری...
کبیر نے اسے پرے پٹخا... تو وہ دم دبا کر اپنا سامان اٹھا کر سر پٹ بھاگا....
یہ پسٹل دکھا کر اور یہ تماشا کر کے اگر تم سمجھتے ہو کہ مجھے میرے ارادوں سے باز رکھ سکتے ہو تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے تمھاری...
وہ ہتھے سے اکھڑی اور رونے لگی.
یہ نکاح سیفی کے ملنے کی شرط پر ہوا تھا... سیفی ختم تو یہ نکاح کیوں باقی رہے یہ بھی ختم ہوگا...
مجھے ان دو ٹکے کے کاغذ کے ٹکڑوں کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں..
وہ بول رہی تھی.. زہر اگل رہی تھی.. چیخ چلا رہی تھی.. مگر کبیر سکون سے کھڑا رہا.. وہ چاہتا تھا زمل یہ بھڑاس نکال دے....
مجھے نفرت ہے تم سے شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تمھاری.. نکل جاؤ میری زندگی سے..
کبیر کو آگ لگی...
تمھاری زندگی سے تو تب ہی نکلوں گا میری جان... جب یہ تمھاری سانسیں تمھارے جسم سے نکلیں گی..
مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو نکال دوں یہ جان....
کبیر نے اس کی چن پر پسٹل رکھ کر اس کا چہرہ زرا سا اونچا کیا.
اونہہہ... یہ دھمکیاں کسی اور کو جا کر دینا.. میں نہیں ڈرتی مرنے سے.. اور ویسے بھی یہ قتل و غارت کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہو تم.. اس نے تمسخر اڑایا.
جب کبیر نے اچانک اسے بازوؤں سے تھام کر دیوار سے لگایا.. اس کے نرم و نازک لبوں کو اپنے لبوں کی سخت اور شدت بھری گرفت میں لیا..
زمل کے اوسان خطا ہوئے.. بری طرح مزاحمت کی.. مگر اس چٹانی گرفت سے نکلنا ناممکن تھا..
وہ ایک ماہ کی اپنی بے چینی اور بے قراری شمار کر رہا تھا. کافی دیر خود کو سیراب کرتا رہا.
بند ہوتی سانسوں سے وہ نڈھال ہوئی اور سختی سے اس کے سینے سے اس کی شرٹ دبوچی.
کبیر نے نرمی سے اسے آزادی بخشی تو لال انگارہ لبوں سے وہ پھنکاری..
تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی یہ بے ہودہ حرکت کرنے کی..چھچھورے انسان...
جان تم ہی پوچھ رہی تھی کہ قتل و غارت کے علاوہ مجھے کیا کیا کرنا آتا ہے تو ڈیمو دکھا رہا تھا تمھیں...
یہ حرکت کی ہے تو ابھی تو کچھ دیر کے لئے سانسیں بند کر کے سزا دی تمہیں آئندہ ایسا سوچا بھی تو بابا کی بھی پرواہ نہیں کروں گا... اٹھا کر لے جاؤں گا.. ڈائریکٹ رخصتی...پھر شکوہ مت کرنا..
وہ بھی دانت پیس کر بولا...
اور اسے وہیں چھوڑ کر اطمینان سے باہر نکلا..کہ وہ اس کی دھمکی سے ڈر جائے گی
مگر پیچھے زمل غلط ارادے باندھتی اپنے کمرے میں آئی... اور لاک لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی...