22/02/2026
شرفاء کے کھیل (2) - آئی پی پیز
قسط نمبر 3
(پاکستانی سماج پر گہرے منفی اثرات کا سرسری جائزہ)
پاکستان میں 1994 کی انرجی پالیسی صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں تھی، بلکہ یہ ریاست کے استحصالی اشرافیہ (Elite Capture) کی طرف منتقلی کا باقاعدہ آغاز اور نوے فیصد فقراء و غرباء پر ریاستی جبر قائم کرنے کے ایک منصوبے کا حصہ تھی۔ اس کو ذیل کے حوالہ جات اور مستند اعداد و شمار سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دراصل اس کا ایک "ٹریکل ڈاؤن" (Trickle-down) اثر ہے جو بجلی کے مہنگے یونٹ سے شروع ہو کر سماج دشمنی کی آخری سیڑھی تک پہنچتا ہے۔
بنیادی واردات: کالا دھن کا عروج اور پاکستانی روپے کی بے قدری!
سب سے پہلے ہم ایک سرسری سا جائزہ لیں گے کہ 1994 سے پہلے اور بعد میں پاکستانی سماج میں کالے دھن کا ارتکاز کیسے کیا گیا، کن مقاصد کے لیے کیا گیا، کیوں کر کیا گیا اور پھر اس کے سماجی اثرات کا جائزہ لیں گے۔ ان تمام سماجی اثرات یا نوآبادیاتی آدم خور اشرافیہ کی سماجی تباہ کاریوں کو باقاعدہ طور پر مزید سماجی و تاریخی گہرائی اور گیرائی سے ہم "شرفاء کے کھیل" کی آئندہ آنے والی اقساط میں الگ الگ واضح کریں گے، تاکہ ہم نوے فیصد فقراء و غرباء طبقات پر واضح ہو جائے کہ ہماری سیاست کا قبلہ و کعبہ کیا ہوگا؟ طبقاتی سماج میں ہماری سیاسی جدوجہد کے دوران ہم نے کن کمزور طبقات سے مل کر اپنے طبقے کی آزادی و خودمختاری کے لیے آئینی، جمہوری، عوامی جدوجہد کرنی ہے اور کن آدم خور اشرافیہ کے طبقات کے خلاف باہمی طبقاتی جڑت پیدا کرنی ہے؟
یہ نوآبادیاتی دس فیصد شرفاء کا طبقہ خود تو اپنی اور سماج کی نظر میں سرمائے کی بے پناہ محبت میں بے توقیر تھا ہی، ساتھ ساتھ انہوں نے باقاعدہ دنیا بھر میں اپنے اثاثوں کی غیر اخلاقی اور غیر انسانی تعمیر کے لیے پاکستانی روپے کو بھی بے توقیر کر دیا۔ اس باقاعدہ منصوبہ بند واردات کو ڈالنے کے لیے انہوں نے سب سے پہلے کالے دھن کا سہارا لیا۔ آئیں کالے دھن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
کالا دھن! ہر وہ روپیہ جو ریاست کے ٹیکس نظام سے باہر ہو، جس پر باقاعدہ عوامی و ریاستی منصوبوں کے لیے کوئی کٹوتی نہ کی جا رہی ہو۔ ایسے افراد یا گروہ دراصل قوم کے مجرم قرار پاتے ہیں جو عوامی تعلیم، صحت اور روزگار کے براہ راست قاتل ہوتے ہیں۔ اصولاً ان افراد یا گروہوں کو ریاستی اداروں کے ذریعے قانون کی گرفت میں لاتے ہوئے سزا دینی چاہیے اور ان کے اثاثوں کو قومی تحویل میں لے کر عوامی فلاح کے لیے مختص کر دینا چاہیے۔
لیکن جب یہی کالے دھن کے لامحدود اثاثوں کے مالک لوگ نوآبادیاتی ریاست کے ذمہ داران بن جائیں، یعنی ریاست کو چلانے والے، ریاستی آئین بنانے والے، سول و عسکری امور اور عدالتی نظام کے نگران بن جائیں، تو پھر یہ اپنے لیے اور اپنے کاروباری شراکت داروں (رئیل اسٹیٹ کے کرداروں، بینکاروں، کارپوریشنوں، ملٹی نیشنل نجی اداروں، میڈیا ہاؤسز، جاگیرداروں) کے لیے ایمنسٹی اسکیمیں ریاست سے جاری کرواتے ہیں۔ آئیں اس کو سمجھتے ہیں!
معنی و مفہوم:
ایمنسٹی اسکیم (Tax Amnesty Scheme) کو اگر سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ریاست کی طرف سے ان لوگوں کو دی جانے والی "عام معافی" ہے جنہوں نے قانون کی نظروں سے چھپا کر دولت جمع کی ہوتی ہے۔ اسے "کالے دھن کو سفید کرنے کی قانونی لانڈری" بھی کہا جا سکتا ہے۔
ایمنسٹی اسکیم ایک محدود وقت کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کردہ وہ پیشکش ہے جس کے تحت شہری اپنے غیر اعلانیہ اثاثے (کالا دھن، جائیداد، غیر ملکی اکاؤنٹس) معمولی ٹیکس ادا کر کے ظاہر کر سکتے ہیں۔ اس کے بدلے میں ریاست ان سے یہ نہیں پوچھتی کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، اور انہیں قانونی کارروائی یا جرمانے سے استثنیٰ مل جاتا ہے۔
بظاہر مقاصد:
· دستاویزی معیشت: غیر دستاویزی پیسے کو بینکنگ نظام میں لانا۔
· فوری ریونیو: سرکاری خزانے میں فوری طور پر معمولی ٹیکس کی رقم جمع کرنا۔
· ٹیکس نیٹ میں اضافہ: نئے لوگوں کو ٹیکس دینے والوں کی فہرست میں شامل کرنا۔
پاکستان میں ایمنسٹی اسکیموں کی تاریخ!
پاکستان کی تاریخ میں اب تک تقریباً 15 سے زائد بڑی ایمنسٹی اسکیمیں لائی جا چکی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری ریاست کا ٹیکس وصولی کا نظام (FBR) مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور وہ صرف اشرافیہ کی مرضی پر چلتا ہے۔
· 1958 ایوب خان: ملک کی پہلی بڑی ایمنسٹی۔ مقصد نوآبادیاتی دور کے بعد جمع شدہ کالا دھن نکالنا تھا۔
· 1969 یحییٰ خان: سیاسی بے چینی کے دوران معیشت کو سہارا دینے کی کوشش۔
· 1976 ذوالفقار علی بھٹو: سوشلزم کے تجربے کے دوران نجی سرمائے کو واپس لانے کی کوشش۔
· 1997 نواز شریف: معاشی بحران اور ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈالر کی ضرورت۔
· 2000 پرویز مشرف: 'منی لانڈرنگ' کے خلاف عالمی دباؤ اور غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کے لیے۔
· 2013 ن لیگ: سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے (Investment Tax Scheme)۔
· 2018 شاہد خاقان عباسی: انتخابی سال میں اشرافیہ کو بڑا ریلیف دیا گیا، جسے پی ٹی آئی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
· 2019 پی ٹی آئی (عمران خان): آئی ایم ایف کے دباؤ اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے 'اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم'۔
· 2020/21 پی ٹی آئی: تعمیراتی شعبے (Construction Sector) کے لیے خصوصی ایمنسٹی تاکہ کالا دھن سیمنٹ اور سرئیے میں لگے۔
ایک مختصر تجزیہ!
صرف اس مذکورہ بالا گراف کو ہی دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نوآبادیاتی نظام/غلامی کے دور میں تمام حکومتیں ان سماج دشمن عناصر کے سامنے سرنڈر کر جاتی تھیں۔ یا دوسرے لفظوں میں، آج تک جتنی بھی نوآبادیاتی ریاستی اداروں کے تحت حکومتیں بنیں، وہ بنیادی طور پر انہی کالا دھن والے مالکان کی ہی تھیں۔ یہاں کبھی بھی انسان دوست حکومت یا عوامی نمائندوں کی حکومت بن ہی نہیں سکی۔ نتیجتاً قیامِ پاکستان سے آج تک دس فیصد نوآبادیاتی آدم خور اشرافیہ کی دولت میں مسلسل اضافہ اور نوے فیصد عوام کی ہر سہولت (جیسے صاف پانی، تعلیم، صحت، رہائش، روزگار) میں تیز ترین گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔
نوآبادیاتی ریاستی اداروں کا مؤقف!
ریاست ان اسکیموں کا دفاع "مجبوری" کہہ کر کرتی ہے، لیکن اس کے پیچھے گہرے طبقاتی مفادات ہوتے ہیں:
· اشرافیہ کا گٹھ جوڑ: پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے مالیاتی مددگار (Donors) وہی لوگ ہیں جنہوں نے کالا دھن جمع کیا ہوتا ہے۔ ایمنسٹی ان کے لیے "وفاداری کا صلہ" ہوتی ہے۔
· ایف بی آر کی ناکامی: جب ریاست اپنے نوآبادیاتی ڈھانچے کی وجہ سے طاقتوروں سے ٹیکس وصول نہیں کر پاتی، تو وہ ان کے سامنے "ترلے" (ایمنسٹی) پیش کرتی ہے۔
· بیرونی دباؤ اور زرمبادلہ: جب ملک کے پاس ڈالر ختم ہو جاتے ہیں، تو حکومت سمندر پار پاکستانیوں اور مقامی امیروں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ کالا دھن ظاہر کر کے ڈالر سسٹم میں لائیں۔
ایمنسٹی اسکیموں کے منفی اثرات!
ایک طبقاتی کارکن کے طور پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ اسکیمیں معاشرے میں "اخلاقی دیوالیہ پن" پیدا کرتی ہیں:
· ایماندار ٹیکس گزار کی حوصلہ شکنی: ایک عام تنخواہ دار آدمی (جس کا ٹیکس تنخواہ سے کٹ جاتا ہے) یہ دیکھ کر مایوس ہوتا ہے کہ اربوں روپے چھپانے والے کو ریاست گلے لگا رہی ہے۔
· مستقل ٹیکس چوری کی ترغیب: لوگ یہ سوچ کر ٹیکس نہیں دیتے کہ "کوئی بات نہیں، دو تین سال بعد کوئی نئی ایمنسٹی آ جائے گی اور ہم سستے میں کالا دھن سفید کر لیں گے"۔
· سماجی ناانصافی: یہ اسکیمیں طبقاتی فرق کو مزید واضح کرتی ہیں۔ غریب کو بجلی کا بل نہ دینے پر جیل بھیجا جاتا ہے، جبکہ ارب پتی کو ٹیکس چوری پر "ایمنسٹی" کا تحفہ ملتا ہے۔
خلاصہ:
پاکستان میں ایمنسٹی اسکیمیں "انصاف کے قتل" کا دوسرا نام ہیں۔ 1994 کی انرجی پالیسی سے لے کر 2022 کے سٹیٹ بینک ایکٹ تک، ہر بڑے معاشی فیصلے کی طرح ایمنسٹی اسکیم بھی اسی نوآبادیاتی تسلسل کا حصہ ہے جہاں ریاست کا کام عوام کی خدمت نہیں، بلکہ "ایلیٹ کیپچر" (Elite Capture) کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔
ن لیگ (2018) اور پی ٹی آئی (2019) کی ایمنسٹی اسکیموں کا تنقیدی جائزہ!
یہ موازنہ دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ کیسے مختلف سیاسی نعروں کے باوجود، ریاست کا "آپریٹنگ سسٹم" ایک ہی مینوئل (Manual) پر چل رہا ہے۔ 2018 کی ایمنسٹی (ن لیگ) اور 2019 کی ایمنسٹی (پی ٹی آئی) دراصل ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں، جہاں مقصد معیشت کی بہتری سے زیادہ کالے دھن کو سفید لبادہ پہنا کر تحفظ فراہم کرنا تھا۔
ذیل میں ان دونوں اسکیموں کا مستند اعداد و شمار کے ساتھ موازنہ پیش ہے:
تقابلی جدول:
2018 ایمنسٹی اسکیم (ن لیگ دور)
کل اعلانیہ اثاثے تقریباً 2,500 ارب روپے
حاصل شدہ ٹیکس (Revenue) تقریباً 124
ٹیکس کی شرح 2% سے 5% (انتہائی کم)
فائدہ اٹھانے والے افراد تقریباً 84,000 افراد
بنیادی نعرہ "ڈالر واپس لاؤ"
2019 ایمنسٹی اسکیم (پی ٹی آئی دور)
کل اعلانیہ اثاثے تقریباً 3,000 ارب روپے
حاصل شدہ ٹیکس تقریباً 70 ارب روپے
ٹیکس کی شرح 1.5% سے 6% (مختلف کیٹیگریز)
فائیدہ اٹھانے والے تقریباً 110,000 افراد
بنیادی نعرہ "معیشت کو دستاویزی بناؤ"
تجزیہ: کتنا کالا دھن سفید ہوا اور ریاست کو کیا ملا؟
ان اعداد و شمار کو ایک طبقاتی سیاسی کارکن کی نظر سے دیکھیں تو چند ہولناک حقائق سامنے آتے ہیں:
الف: "ٹیکس کی خیرات" بمقابلہ "عوامی بوجھ"
2018 کی اسکیم میں اشرافیہ نے صرف 2% سے 5% ٹیکس دے کر اربوں روپے کے اثاثے قانونی کر لیے۔ اس کے برعکس، پاکستان کا ایک عام مزدور یا تنخواہ دار طبقہ اپنے بجلی کے بل پر 30% سے 40% تک مختلف ٹیکس (GST، Income Tax، Fuel Adjustment) ادا کرتا ہے۔ اور مزید بڑھتے ہوئے یہ ٹیکس کی شرح ہم نوے فیصد فقراء و غرباء پر مجموعی طور پر 60 فیصد تک بن جاتی ہے۔
نتیجہ: ریاست نے چوروں کو "رعایت" دی اور محنت کشوں کو "سزا"۔
ب: 2019 کی اسکیم کا تضاد
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2019 کی پی ٹی آئی کی اسکیم میں اعلانیہ اثاثے تو زیادہ تھے (3000 ارب روپے)، لیکن ٹیکس وصولی (70 ارب روپے) پچھلی اسکیم سے آدھی رہ گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس میں زمینوں اور جائیدادوں کی "سرکاری قیمت" (DC Rate) پر ٹیکس لیا گیا، جو کہ مارکیٹ کی اصل قیمت سے بہت کم ہوتی ہے۔ اس طرح کھربوں روپے کی جائیدادیں معمولی رقم دے کر سفید کر لی گئیں۔
یہ پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟
· ذرائع: یہ کالا دھن زیادہ تر وہی تھا جو آئی پی پیز کے کک بیکس، اوور انوائسنگ، اور سرکاری ٹھیکوں میں کرپشن سے پیدا ہوا تھا۔
· پارکنگ: ایمنسٹی اسکیموں کے ذریعے اس پیسے کو "رئیل اسٹیٹ" (پلاٹوں اور ہاؤسنگ اسکیموں) میں قانونی تحفظ مل گیا۔
· گردش: جب یہ پیسہ رئیل اسٹیٹ میں گیا، تو اس نے زمین کی قیمتیں اتنی بڑھا دیں کہ ایک ایماندار محنت کش کے لیے دو مرلے کا مکان بنانا بھی خواب بن گیا اور آج 2026 میں فقراء و غرباء کی سات نسلیں یعنی تین سو سال مسلسل ہفتے کے سات دن 24 گھنٹے کام کرتی رہیں تب بھی وہ اتنی ماہانہ آمدنی سے بچت نہیں کر سکتے کہ دو مرلہ گھر یا دو کمروں والا اپارٹمنٹ کی خرید سکیں۔ یہ ہے آئی پی پیز مالکان جن میں ہمارے کاروباری، پارلیمان اور عسکری قیادت سب شامل ہیں، سب ملکر خوب جی بھر کر دن رات فقراء و غرباء کا معاشی سماجی قتل بزریعہ آئین کی شقوں کر رہے ہیں اور عدلیہ و انتظامیہ اس کے معاون و مددگار تماشائی۔
4. ایف بی آر (FBR) کا کردار: ایک سہولت کار
ان دونوں اسکیموں کے باوجود پاکستان کا "ٹیکس ٹو جی ڈی پی" (Tax-to-GDP) ریشو 9% سے اوپر نہ جا سکا، جو دنیا میں کم ترین سطح پر ہے۔ ایف بی آر نے ان اسکیموں کو بطور "شارٹ کٹ" استعمال کیا تاکہ اپنی نااہلی چھپا سکے، جبکہ نوآبادیاتی اشرافیہ نے اسے اپنی دولت بچانے کے لیے "قانونی ڈھال" بنایا۔
سیاسی کارکن کے لیے چارج شیٹ!
یہ دونوں اسکیمیں ثابت کرتی ہیں کہ:
· ریاست کے پاس طاقتور سے ٹیکس لینے کی نہ ہمت ہے نہ ارادہ۔
· آئی ایم ایف (IMF) ایسی اسکیموں کی مخالفت کا ڈرامہ تو کرتا ہے، لیکن آخر میں وہ بھی انہی کے ذریعے "فوری ریونیو" حاصل کر کے اپنا قرضہ واپس لینے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
· یہ اسکیمیں "انصاف کے تصور" کی نفی ہیں، کیونکہ یہ جرم کو جرم نہیں بلکہ ایک "قابلِ سمجھوتہ سودا" بنا دیتی ہیں۔
خلاصہ:
2018 اور 2019 کی ایمنسٹی اسکیموں نے مل کر تقریباً 5,500 ارب روپے کا کالا دھن سفید کیا، لیکن قومی خزانے کو صرف 194 ارب روپے ملے۔ یہ سودا صرف ان لوگوں کے لیے فائدہ مند رہا جو نظام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔
روپے کی بے قدری!
اب اسی سلسلے کی کالے دھن کے بعد آئی پی پیز والی نوآبادیاتی ریاستی مشینری نے جو واردات پاکستانی روپے سے کی، اس کا ایک سرسری تاریخی حقائق اور مستند اعدادوشمار کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
روپے کی قدر میں کمی (Devaluation) محض ایک معاشی ہندسہ نہیں ہے، بلکہ طبقاتی سیاست کے تناظر میں یہ "استحصال کا سب سے بڑا ہتھیار" ہے۔ جب ریاست روپے کی قدر گراتی ہے، تو وہ دراصل محنت کش طبقے کی جیب سے مال نکال کر عالمی سرمایہ کاروں اور مقامی اشرافیہ کی تجوریوں میں منتقل کر رہی ہوتی ہے۔ آئی پی پیز (IPPs) اور عالمی مالیاتی اداروں کے گٹھ جوڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔
1. روپے کی بے توقیری: ایک سوچی سمجھی طبقاتی واردات
سیاسی کارکن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ روپے کی قدر گرنے کا مطلب "اجرت کی چوری" ہے۔
· 1994 کا پس منظر: جب آئی پی پیز کے پہلے معاہدے ہوئے، تو ڈالر تقریباً 30 روپے کا تھا۔ آج یہ 280 روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ کیا ہمیں آج ان نوآبادیاتی ریاستی اشرافیہ کے زیر انتظام چلنے والے آئی پی پیز کے خلاف طبقاتی جڑت اور جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت نہیں؟ کیا یہ ہمارے محنت کشوں کا قانونی قتل نہیں؟
· اثر: ایک محنت کش جو 1994 میں 3,000 روپے کماتا تھا، وہ دراصل 100 ڈالر کما رہا تھا۔ آج اگر وہ 30,000 روپے کما رہا ہے، تب بھی وہ تقریباً 106 ڈالر ہی کما رہا ہے۔ یعنی 30 سال کی "ترقی" کے باوجود اس کی عالمی قوتِ خرید وہیں کھڑی ہے، جبکہ اشرافیہ کے اثاثے (جو ڈالر اور رئیل اسٹیٹ میں ہیں) ہزاروں گنا بڑھ چکے ہیں۔
2. آئی پی پیز اور ڈالر انڈیکسیشن: عوام کا خون، اشرافیہ کا منافع
آئی پی پیز کے معاہدوں میں "Dollar Indexation" وہ چھری ہے جس سے 90 فیصد عوام کا گلا کاٹا گیا۔
· معاہدہ کیا ہے؟ حکومت نے آئی پی پیز کو ضمانت دی ہے کہ ان کا منافع ڈالر کی قیمت کے حساب سے دیا جائے گا۔
· طبقاتی فرق: اگر روپیہ 10% گرتا ہے، تو ایک عام کسان یا مزدور کی کھاد، پیٹرول اور بجلی 15% مہنگی ہو جاتی ہے، لیکن آئی پی پی مالک کا منافع 10% بڑھ جاتا ہے کیونکہ اسے ڈالر کے حساب سے ادائیگی ملتی ہے۔
· اعدادوشمار: پاکستان سالانہ تقریباً 2,100 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹس میں دیتا ہے، جو اب 2026 کے مالیاتی سال میں 3500 ارب ہونے جا رہی ہے۔ روپے کی قدر میں صرف 10 روپے کی کمی اس بوجھ میں سالانہ 100 سے 150 ارب روپے کا اضافہ کر دیتی ہے، جو عوام سے "فیول ایڈجسٹمنٹ" کے نام پر وصول کیا جاتا ہے۔ اور پھر ہمارا نوے فیصد موٹر سائیکل والا طبقہ مزید سماجی دباؤ تلے روند دیا جاتا ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم اور صحت نیست و نابود ہو جاتی ہے۔
3. روپے کی بے توقیری اور "معاشی یتیمی" (اعدادوشمار کا موازنہ)
ایک سیاسی کارکن کے لیے یہ تقابلی جائزہ ضروری ہے کہ کیسے روپے کی قدر گرنے سے سماج کے کمزور طبقات (عورتیں اور بچے) معاشی طور پر یتیم ہو جاتے ہیں۔
سال ڈالر کی قیمت 100 روپے میں آٹا
1994 ~30 روپے ~15 کلو
2014 ~100 روپے ~2.5 کلو
2024 ~280 روپے ~0.7 کلو
· قرض کا جال (Debt Trap): پاکستان کا مجموعی قرضہ 80 ٹریلین (80,000 ارب) روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس قرض کا بڑا حصہ ڈالر میں ہے۔ جب روپیہ گرتا ہے، تو پاکستان پر قرض کا بوجھ بغیر کوئی نیا ڈالر لیے صرف کرنسی گرنے سے اربوں روپے بڑھ جاتا ہے۔
· سیاسی نتائج: یہ بوجھ اٹھانے کے لیے ریاست تعلیم اور صحت کا بجٹ کاٹتی ہے۔ 90 فیصد عوام کے بچوں سے قلم چھین کر آئی پی پیز کے ڈالر پورے کیے جاتے ہیں۔ یہ وہی نظام ہے جسے ہم نے "نسلوں کی غلامی" قرار دیا ہے۔
سیاسی کارکنوں کے لیے تجزیہ:
روپے کی بے توقیری محض معاشی بدانتظامی نہیں، بلکہ منظم طبقاتی جنگ ہے۔ اس کا مقصد:
· لوکل کیپٹل کو ڈالر میں تبدیل کرنا: تاکہ اشرافیہ اپنا سرمایہ باہر منتقل کر سکے۔
· محنت کی سستی فراہمی: روپیہ گرنے سے پاکستانی مزدور کی عالمی قیمت کم ہو جاتی ہے، جس سے ملٹی نیشنل کمپنیاں سستی محنت کشی کشید کرتی ہیں۔
· ریاستی اثاثوں کی نیلامی: جب روپیہ گرتا ہے، تو ملک کے ایئرپورٹ، موٹرویز اور کارخانے غیر ملکیوں کے لیے سستے ہو جاتے ہیں (Privatization)۔
حاصلِ گفتگو:
شرفاء نے پاکستانی روپے کو بے توقیر کر کے دراصل پاکستانی پاسپورٹ، پاکستانی محنت اور پاکستانی مستقبل کو بے توقیر کر دیا ہے۔ آئی پی پیز کے ڈالر زدہ منافعے وہ زنجیریں ہیں جو نسل در نسل ہمیں عالمی سامراج کا غلام بنائے ہوئے ہیں۔
سماجی جرائم کے حوالے سے آئی پی پیز کا مرکزی کردار!
پاکستان میں 1994 سے پہلے اور بعد کے سماجی جرائم اور جیلوں کے اعداد و شمار کا موازنہ محض قانون پسندی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ براہِ راست ہمارے بیان کردہ "معاشی یتیمی" اور "روپے کی بے توقیری" کا شاخسانہ ہے۔ طبقاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جب ریاست بنیادی ضروریات (بجلی، تعلیم، صحت) کو آئی پی پیز جیسے معاشی ضرب کاروں کی نذر کر دیتی ہے، تو سماج میں جرم ایک "ردعمل" کے طور پر ابھرتا ہے۔
ذیل میں اس صورتحال کا تفصیلی اور مدلل تجزیہ پیش ہے:
1. سماجی جرائم کی لہر: معاشی تنگی اور مجرمانہ نفسیات
1994 کے بعد جب آئی پی پیز کی آمد ہوئی اور بجلی کی قیمتوں نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو کچلنا شروع کیا، تو جرائم کی نوعیت بدل گئی۔
· 1994 سے پہلے: پاکستان میں جرائم کی بڑی وجہ قبائلی دشمنیاں یا ذاتی تنازعات تھے۔ اسٹریٹ کرائم (Street Crime) اور معاشی جرائم کی شرح نسبتاً کم تھی۔
· 1994 کے بعد: پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی گراوٹ نے "بقا کے جرائم" (Survival Crimes) کو جنم دیا۔ چھینا جھپٹی، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان میں اچانک تیزی آئی۔
تقابلی اعدادوشمار (تقریبی سالانہ اوسط):
جرم کی نوعیت 1990 - 1994 (اوسط سالانہ) 2010 - 2024 (اوسط سالانہ) اضافہ
ڈکیتی و راہزنی ~15,000 کیسز ~90,000+ کیسز 500% سے زائد
اغوا برائے تاوان محدود (صرف مخصوص علاقوں میں) ملک گیر (بشمول کچے کے علاقے) 800%
منشیات فروشی کم (سماجی ڈھانچہ مضبوط تھا) خوفناک حد تک زیادہ 1000%
2. جیلوں کی صورتحال: گنجائش سے زیادہ بوجھ
پاکستان کی جیلیں اس طبقاتی تقسیم کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ 1994 کے بعد جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں جو اضافہ ہوا، وہ ملکی آبادی میں اضافے کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔
· قیدیوں کی تعداد: 1990 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی کل تعداد تقریباً 40,000 سے 50,000 کے درمیان تھی۔
· موجودہ صورتحال (2024-25): آج پاکستان کی جیلوں میں 100,000 سے زائد قیدی موجود ہیں، جبکہ جیلوں کی کل گنجائش تقریباً 65,000 ہے۔
· طبقاتی موازنہ: ان جیلوں میں 90 فیصد قیدی وہ "فقراء و غرباء" ہیں جو معمولی معاشی جرائم یا سالہا سال سے جاری عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے قید ہیں۔ جبکہ وہ "10 فیصد شرفاء" جنہوں نے آئی پی پیز کے ذریعے ملک کا اربوں ڈالر لوٹا، وہ ان جیلوں سے نہ صرف آزاد ہیں بلکہ ریاستی مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
3. معاشی قتلِ عام اور خودکشیاں
ایک ایسا جرم جس کا ذکر 1994 سے پہلے پاکستان میں نہ ہونے کے برابر تھا، وہ ہے "معاشی تنگی کی وجہ سے خودکشی"۔
· نفسیاتی اثر: جب باپ بجلی کا بل ادا کرنے اور بچوں کو دودھ پلانے کے درمیان کسی ایک کا انتخاب نہیں کر پاتا، تو وہ جرم یا خودکشی کی طرف مائل ہوتا ہے۔
· اعدادوشمار: انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی میں بجلی کے بلوں اور قرضوں سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں 400% اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ "سفید پوش" طبقہ ہے جسے آئی پی پیز کے ڈالر انڈیکسیشن نے جیتے جی مار دیا۔
4. عدالتی نظام اور شرفاء کا تحفظ
1994 کے بعد ایک نیا رجحان یہ دیکھا گیا کہ ریاست نے "کارپوریٹ جرائم" کو قانونی تحفظ دیا۔
· وائٹ کالر کرائم: آئی پی پیز کے مالکان نے منی لانڈرنگ اور ڈالر کی قیمت میں ہیرا پھیری کے ذریعے جو اثاثے بنائے، انہیں "انویسٹمنٹ فرینڈلی پالیسی" کا نام دیا گیا۔
· جیل صرف غریب کے لیے: آج پاکستان کی جیلوں کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ وہاں موجود 70 فیصد قیدی "انڈر ٹرائل" (زیرِ سماعت) ہیں، جن کے پاس ضمانت کے پیسے نہیں ہیں۔ یعنی روپیہ جتنا بے توقیر ہوا، غریب کی آزادی اتنی ہی مہنگی ہو گئی۔
حاصلِ بحث (سیاسی کارکن کے لیے):
1994 سے پہلے کا پاکستان معاشی طور پر "خود کفیل" تھا جس کی وجہ سے سماجی استحکام موجود تھا۔ 1994 کے بعد جب ریاست نے اپنے وسائل (بجلی و پانی) عالمی سرمایہ داروں کو لیز پر دے دیے، تو سماج میں انتشار پھیلا۔
یہ جرائم دراصل "سماجی بیماری" نہیں ہیں، بلکہ اس "معاشی کینسر" کی علامات ہیں جس کی جڑیں آئی پی پیز کے ان معاہدوں میں ہیں جنہوں نے روپے کو کوڑیوں کا کر دیا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی جیلوں میں بند 90 فیصد قیدی دراصل ان "10 فیصد شرفاء آئی پی پیز مالکان" کی پالیسیوں کا شکار ہیں؟ جی ہاں، ہمیں اس پر بولنا ہوگا، لکھنا ہوگا، شور مچانا ہوگا۔ اپنا سماجی نوحہ گلی، محلے، گاؤں، کارخانوں، بازاروں، سکولوں، مدرسوں، مسجدوں، کھیتوں اور کھلیانوں میں لے کر جانا ہوگا، تاکہ ہم امیدِ سحر بن سکیں اپنی نسلوں کے لیے جو صدیوں سے نوآبادیاتی نظام پر مشتمل ریاستی مشینری کی غلامِ بن غلام بن کر جی رہی ہیں، جو ادھوری زندگی جی کر دورِ غلامی / نوآبادیاتی نظام کو اپنا مقدر سمجھ بیٹھیں۔ ہمیں اپنے آپ کو، اپنے نوے فیصد فقراء و غرباء کو جگانا ہوگا کہ نوآبادیاتی دور حقیقت میں دورِ غلامی ہے، جس کو نیست و نابود کیے بغیر ہم عوامی، جمہوری، فلاحی پاکستان نہیں بنا سکتے۔
ہمیں اس ریاست کی پارلیمان کو، سول و عسکری ڈھانچے کو، عدلیہ کو عوامی اور مقامی بنانا ہوگا، جو ہم سب کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو، جو رئیل اسٹیٹ، ٹرانسپورٹ، بنکاری، ادویات سازی، کھادیں بنانے اور توانائی کے کاروبار سے نکل کر سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ جو ہم میں مقبول ہو اور جسے ہم قبول کریں۔ اسی نکتۂ واحدہ سے نوے فیصد فقراء و غرباء کی شاندار، جاندار تاریخ کا آغاز ہوگا، جو بہرحال ہو چکا۔ باقی اس کی تدوین کا کام آئندہ کا مؤرخ کرے گا، وہ بتائے گا کہ کیسے 1757 سے شروع ہونے والی نوآبادیاتی ریاست کو پونے تین سو سال بعد جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سماج نے کروٹ لی۔
از قلم!! عمر وارث
عوامی اتحاد پارٹی