06/10/2026
> یہ قرآن کے 20 الگ الگ نسخے یا 20 مختلف قرآن نہیں ہیں۔ تصویر میں جو نام لکھے ہیں، وہ قراءت/روایت سے متعلق نام ہیں، مثلاً حفص، ورش، قالون، شُعبہ وغیرہ۔ قرآن ایک ہی ہے، البتہ نبی ﷺ سے قرآن کی تلاوت کے مختلف مجاز طریقے منقول ہوئے ہیں۔
اس کی واضح دلیل صحیح حدیث ہے۔ حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ہشام بن حکیمؓ کو سورۃ الفرقان اس انداز سے پڑھتے سنا جو ان کے لیے مختلف تھا۔ نبی ﷺ کے پاس معاملہ لے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کی قراءت سن کر فرمایا کہ دونوں درست ہیں، اور حدیث میں قرآن کے مختلف حروف پر نازل ہونے کا ذکر بھی آتا ہے۔
دوسری اہم بات: تصویر میں موجود ناموں کو دیکھ کر یہ سمجھنا غلط ہے کہ ہر نام ایک الگ قرآن ہے۔ یہ دراصل قراءت کے ائمہ اور ان سے منقول روایات کے نام ہیں۔ آج بھی مسلمان ایک ہی قرآن پڑھتے ہیں؛ فرق بعض جگہ تلفظ، حرکات، مد، ادائیگی یا بعض متواتر الفاظ کی قراءت میں ہوتا ہے، نہ کہ یہ کہ الگ الگ مذاہب کے لیے الگ کتابیں ہوں۔
قرآن خود کہتا ہے: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾
“بے شک ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔” — سورۃ الحجر 15:9۔
مزید یہ کہ قرآن کی جمع اور اس کی تلاوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہوئی: ﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾ — سورۃ القیامہ 75:17، یعنی اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔
لہٰذا صرف مختلف ناموں والی کتابوں کی تصویر لگا کر یہ کہنا کہ “یہ کون سا سچا قرآن ہے؟” ایک misleading سوال ہے۔ درست سوال یہ ہے کہ: ان ناموں کا تعلق کس چیز سے ہے؟ جواب ہے: قراءت اور روایات سے، نہ کہ مختلف قرآنوں سے۔
“20 قرآن نہیں، ایک قرآن کی مختلف مستند قراءتیں/روایات ہیں۔ اگر مختلف قراءتیں قرآن کے خلاف ہوتیں تو نبی ﷺ دو صحابہؓ کی مختلف قراءتوں کو درست قرار نہ دیتے۔”
Jasscia John Muhammad Shahzad Pai Akhtar اُسَامَةُ بْنُ جَاوِیدٍ Yasir Bashir