04/03/2026
کیا ریاست نے عوام کو مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟
پاکستان میں اب مسئلہ یہ نہیں رہا کہ چوری چھپے ہو رہی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ دن دیہاڑے، سرِ عام، پورے اعتماد کے ساتھ لوٹا جا رہا ہے—اور وہ بھی کسی گلی کے ڈاکو کے ہاتھوں نہیں بلکہ اُن اداروں کے ذریعے جنہیں سہولت، تحفظ اور اعتماد کی علامت ہونا چاہیے۔
آج جب ایک عام شہری سفر کے لیے Faisal Movers جیسے بڑے اور معروف بس سروس کے دفتر جاتا ہے تو اسے کیا ملتا ہے؟
کارڈ پیمنٹ سے انکار
صرف کیش وصولی
وہ بھی اصل ٹکٹ کے بجائے مبہم رسید یا غیر شفاف طریقے سے
یہ سب کچھ اس لیے کہ ٹیکس چوری کی جا سکے، ریاست کو دھوکہ دیا جائے، اور قانون کو جیب میں رکھا جائے۔
یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے:
کیا یہ بدانتظامی ہے یا باقاعدہ منظم فراڈ؟
سہولت کے نام پر زحمت، خدمت کے نام پر تذلیل
نہ مناسب اسٹاف،
نہ رہنمائی،
نہ اے ٹی ایم مشین،
نہ ڈیجیٹل ادائیگی کا انتظام،
نہ صارف کے لیے کوئی شکایت کا مؤثر نظام۔
لیکن کرایہ؟
وہ پورا، بروقت، اور کیش میں چاہیے—کیوں کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے حساب کتاب غائب ہو جاتا ہے۔
ریاست کہاں ہے؟
یہ سب کچھ خلا میں نہیں ہو رہا۔
یہ اس نظام کے سائے میں ہو رہا ہے جہاں:
ادارے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں
نگرانی کا نظام مفلوج ہے
صارف کے حقوق محض کاغذی دعوے ہیں
جب ایک شہری قانون کے مطابق کارڈ سے ادائیگی کرنا چاہے اور اسے انکار ملے، تو یہ صرف ایک کاروباری بددیانتی نہیں بلکہ ریاستی ناکامی ہے۔
ریاست کی خاموشی دراصل اس جرم کی منظوری بن جاتی ہے۔
مافیا، کارٹلز اور فراڈیے — سرکاری چھتری تلے؟
آج عام آدمی کے ذہن میں یہ تلخ سوال جنم لے رہا ہے:
کیا ریاست نے عوام کو مافیا کارٹلز اور فراڈیوں کے ہاتھوں بیچ دیا ہے؟
کیونکہ اگر:
قانون موجود ہے مگر نافذ نہیں
ٹیکس قوانین ہیں مگر عمل نہیں
صارف حقوق ہیں مگر تحفظ نہیں
تو پھر ریاست صرف ایک نام رہ جاتی ہے، حقیقت نہیں۔
نتیجہ: خاموشی اب جرم ہے
یہ وقت ہے کہ:
ڈیجیٹل ادائیگی کو لازمی بنایا جائے
کیش پر مبنی ٹیکس چوری کے خلاف فوری کارروائی ہو
ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا آڈٹ شفاف ہو
صارف کی آواز کو سنا جائے
ورنہ یہ لوٹ مار یونہی “کاروبار” کہلا کر چلتی رہے گی،
اور عام شہری ہر روز نئے طریقے سے قانونی لُٹ کا شکار بنتا رہے گا۔
یہ تحریر کسی ایک کمپنی یا واقعے پر نہیں،
بلکہ اس پورے نظام پر فردِ جرم ہے—
جس نے عوام کو سہولت کے بجائے صرف مایوسی دی ہے۔