Threek e haq pakistan

Threek e haq pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Threek e haq pakistan, Political organisation, Kot-Adu.

30/12/2020
19/12/2019

ضرور پڑھیں
اور سوچیں سوچنا جرم نہیں، پیارو
فرانس کا ایک وزیر تجارت کہتا تھا؛ برانڈڈ چیزیں مارکیٹنگ کی دُنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتی ہیں جنکا مقصد تو امیروں سے پیسہ نکلوانا ہوتا ہے مگر غریب اس سے بہت متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔کیا یہ ضروری ہے کہ میں Iphone اُٹھا کر پھروں تاکہ لوگ مجھے ذہین اور سمجھدار مانیں؟ کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ Mac یا Kfc کھاؤں تاکہ لوگ یہ نا سمجھیں کہ میں کنجوس ہوں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ دوستوں کے ساتھ اٹھک بیٹھک Downtown Cafe پر جا کر لگایا کروں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں خاندانی رئیس ہوں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں Gucci,Lacoste, Adidas یا Nike سے کپڑے لیکر پہنوں تو جینٹل مین کہلایا جاؤں گا؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں اپنی ہر بات میں دو چار انگریزی کے لفظ ٹھونسوں تو مہذب کہلاؤں؟ کیا یہ ضروری ہے کہ میں Adele یا Rihanna کو سنوں تو ثابت کر سکوں کہ میں ترقی یافتہ ہو چکا ہوں؟
نہیں یار!!!
میرے کپڑے عام دکانوں سے خریدے ہوئے ہوتے ہیں، دوستوں کے ساتھ کسی تھڑے پر بھی بیٹھ جاتا ہوں، بھوک لگے تو کسی ٹھیلے سے لیکر کھانے میں بھی عار نہیں سمجھتا، اپنی سیدھی سادی زبان بولتا ہوں۔ چاہوں تو وہ سب کر سکتا ہوں جو اوپر لکھا ہے لیکن۔۔۔۔
میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو میری Adidas سے خریدی گئی ایک قمیص کی قیمت میں پورے ہفتے کا راشن لے سکتے ہیں۔
میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں جو میرے ایک Mac برگر کی قیمت میں سارے گھر کا کھانا بنا سکتے ہیں۔ بس میں نے یہاں سے راز پایا ہے کہ پیسے سب کچھ نہیں، جو لوگ ظاہری حالت سے کسی کی قیمت لگاتے ہیں وہ فورا اپنا علاج کروائیں۔ انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔ نہ کہ اسکی ظاہری شکل و صورت۔!!

19/12/2019

1.عورت کوٹھے پہ ناچے تو اسکو مجرا کہا جاتا ھے

2.گورنمنٹ کے کہنے پہ ناچے تو یوتھ فیسٹیول

3.تعلیمی اداروں کے کہنے پہ ناچے تو ویلکم/فیئرویل پارٹی
یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ کانفیڈنس لیول ڈیولپ ہو رہا ہے

4۔ٹی وی چینلز کے مارننگ شوز میں ناچے تو انٹرٹینمنٹ کا نام دیا جاتا ہے
غرض کے ہر صورت میں عورتیں شرم و حیا کا جنازہ نکال رہی ہیں
بے حیائی کو فروغ مل رہا ہے
ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں ہماری عزتیں جو کہ ہمارے گھر کی چار دیواری کی زینت ہیں
تماشا بنی ہوئی ہے

چلو مان لیا کہ

کوٹھا تو غلط جگہ ھے ہی۔
۔ٹی وی کی اسکرین پر برہنہ کپڑوں کے ساتھ اپنے تھرکتے جسم کی نمائش کرنا تو غلط ہے ہی

کیا گورنمنٹ اورتمام تعلیمی ادارے بھی غلط ھیں؟؟؟؟
۔یہ تربیت گاہیں ہماری قوم کو بے حیا بناکر کس تباہی کی طرف لے جانا چاہ رہی ہیں ۔۔تعلیم کے نام پر آج کل اسکول یونیورسٹیز اور کالجز میں کیا کیا تماشے ہورہے ہیں یہ کسی سے مخفی تو نہیں ہیں ۔۔یہ کس قسم کی تعلیم ہے جو ہماری نسلوں سے حیا کو ختم کر رہی ہے

کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ۔
مجھے راھزنوں سے گلا نھیں
تیری رھبری کا سوال ھے

16/12/2019

وکلا اگر دہشت گرد ھیں تو۔۔۔۔۔۔

جب آپ پر واپڈا کے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مجھے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب پولیس کے ذریعہ آپ پر دباؤ ڈالنے کے لئے آپ کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کی جاتی ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ اپنے گھر یا زمین سے محروم ہوجاتے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کی بیٹی ، بہن یا ماں کو ان کے شوہروں نے چھیڑا یا پیٹا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کا محکمہ آپ کو ترقی دینے یا خدمت کے دیگر امور میں آپ کو انصاف فراہم نہیں کرتا ہے تو آپ اپنے افسران / سینئروں کے ہاتھوں ہر روز بہادر بناتے ہیں کیوں کہ مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کی بیٹی ، بہن یا ماں کو کچھ غنڈوں کے ذریعہ اخلاقی طور پر بے عزت کیا جاتا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کا کرایہ دار آپ کو کرایہ مہیا نہیں کرتا یا معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو مت کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ پر مالز یا دکانوں کے ذریعہ زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو مت کہیں۔

جب آپ کے بچوں کے ساتھ لوگوں کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے تو میں آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہو کیونکہ میں دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کو بیکریوں کے ذریعہ غیرضروری کھانا مہیا کیا جاتا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ دہشت گرد ہوں اس لئے جب آپ مالز اور دکانوں کے اپنے قانونی قبضے سے محروم ہوجاتے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو مت کہیں۔

جب آپ میراثی ہونے کی وجہ سے اپنے قریبی رشتہ داروں سے محروم ہوجاتے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں۔

جب آپ کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں کیا جاتا ہے تو میں آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہو کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کی گاڑی ڈاکوؤں نے چھین لی ہے تو مجھے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے نہ کہو کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کے بچوں کو یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طرف سے میرٹ پر داخلہ حاصل کرنے میں ان کے حقوق نہیں دیئے جاتے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو مت کہیں

جب آپ کے بچے میرٹ لسٹوں میں ہوں تو ان کے روزگار کے حقوق سے محروم ہوجاتے ہیں اس لئے مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ سے رشوت یا سود (سوڈ) دینے کے لئے کہا جاتا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کے بچوں کو اسکولوں کے ذریعہ بھاری فیس کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کو اپنے ہی شراکت داروں یا دوسرے لوگوں کے ذریعہ جعلی چیکوں کے جعلی چیکوں میں ملوث کیا جاتا ہے تو مجھے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے مت کہیں۔

جب آپ کے بچے اسپتالوں میں ویکسین کی عدم فراہمی کی وجہ سے مر رہے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کی بہنیں اور بیٹیاں شوہروں کے ذریعہ اپنے بچوں کے روایتی حقوق سے محروم ہوجاتی ہیں تو مجھے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں۔

جب آپ دہشت گردی کی وجہ سے قتل کے مقدمات میں جھوٹے طور پر ملوث ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں۔

مجھے جذباتی جذبات کا قانونی نوٹس بھیجنے میں آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب مجھ سے دہشت گرد ہوں تو نادرا آفس آپ کو Cnic مہیا نہیں کرتا ہے یا بلا وجہ بلاک نہیں کرتا ہے جب آپ مجھ سے کھڑے ہونے کو نہ کہیں۔

جب تعلیمی بورڈز آپ کے بچوں کو ڈگریاں فراہم نہیں کرتے ہیں تو مجھے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ اپنے حقوق سے محروم ہوجاتے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں

جب آپ کو سرکاری محکموں کی طرف سے آپ کو اپنی تنخواہوں کی فراہمی نہیں کی جاتی ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد جب آپ کے بیٹے آپ کے محکموں کے ذریعہ ملازمت کے کوٹے سے محروم ہوجاتے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کے بچوں کو اغوا کرلیا جاتا ہے تو میں آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہو کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کا فرمان پولیس کے ذریعہ درج نہیں کیا جاتا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو مت کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کے بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہوں تو آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کے بچوں کو چرس اور ہتھیار مہیا کیے جاتے ہیں تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو نہ کہیں کیونکہ میں ایک دہشت گرد ہوں۔

جب آپ کے بینک کھاتوں میں ضرورت سے زیادہ ٹیکسوں کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو مجھ سے آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کو مت کہیں۔کیونکہ
ہم دہشت گرد ہے لہذا کچھ بھی پوچھنے میں محتاط رہیں ۔شکریہ۔

09/12/2019

مرد کی خوبصورتی جوانی میں سجدہ کرنے میں ہے ❤💯
اورعورت کی خوبصورتی جوانی میں پردہ کرنے میں ہے 🔥❤
👌✌

07/12/2019

عربی حکایت ہے کے ایک بادشاہ محاذ جنگ پر جا رہا تھا، کہ دور دراز کے کسی قصبے میں اس کا سامنا دس بارہ سالہ بچے سے ہوا۔ معصوم صورت بچے سے بادشاہ نے پوچھا :
" ...؟ "

بچہ نے جواب دیا :
" فتاح (راستے کھولنے والا) "

بادشاہ نے مزید پوچھا :
" ...؟ "

بچہ نے جواب دیا :
" قرآن کی آیت تک پڑھ چکا ہوں ..."

بادشاہ بہت خوش ہوا کہ بچے کا نام اور قرآن کی آیت دونوں تفائل خیر کے لئے زبردست اشارہ ہیں۔ بادشاہ اپنے لشکر کے ہمراہ محاذ پر پہنچا اللہ نے اسے فتح و کامرانی نصیب کی تو واپسی کے سفر میں اسی قصبے سے گزرتے وقت اس نے سوچا کہ :
" خیر و برکت کا اشارہ ثابت ہونے والے اس بچے سے ملاقات کر لوں ... "

قصبے میں داخل ہو کر وہ مسجد گیا، دیکھا کہ مولوی صاحب بچوں کو قرآن پڑھا رہے ہیں۔ بادشاہ نے حلیہ بتا کر بچے کو بلانے کا کہا تو مولوی صاحب پکارے :
" "

بادشاہ چونک اٹھا کہ بچے کا نام تو اس نے فتاح بتایا تھا، لیکن یہ سوچ کر خاموش رہا کہ ضرور مولوی صاحب غلط سمجھے ہیں اور کسی دوسرے بچے کو بلا بیٹھے ہیں، لیکن جب بچہ سامنے آیا تو وہی تھا جس سے بادشاہ کی ملاقات راستے میں ہوئی تھی۔ بادشاہ نے سوچا کہ شاید وہ بچے کا نام ٹھیک سے یاد نہیں رکھ پایا اس لئے تسلی کی خاطر پوچھا کہ :
؟

تو میرے پیارو اس مرتبہ بچے نے جواب دیا :
" "

بادشاہ نے حیرت سے پوچھا کہ :
" فلاں دن جب آپ راستے میں مجھے ملے تھے تو اپنا نام اور سبق غلط کیوں بتایا تھا ...؟ "

تو بچہ بولا :
" چونکہ آپ محاذ جنگ پر جا رہے تھے تو میں نے سوچا کہ آپ کے سامنے فتح و نصرت کے کلمات ادا کروں تاکہ آپ کا حوصلہ بلند ہو ..."

بادشاہ اس کی ذہانت اور معاملہ فہمی سے بہت متاثر ہوا اور وزیر سے کہا :
" "

لیکن بچے نے ایک دینار لینے سے انکار کر دیا۔ وزیر نے پوچھا :
...؟

بچہ :
" نہیں دراصل میں اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ جب پوچھا جائے گا کہ یہ دینار کہاں سے لایا ہے اور میں کہوں گا کہ بادشاہ نے دیا ہے تو کوئی یقین نہیں کرے گا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جو بادشاہ ہوتا ہے وہ ایک دینار نہیں دیا کرتا ... "

بادشاہ نے بچے کی ذہانت سے متاثر ہو کر وزیر سے کہا :


قصبے سے واپسی پر بادشاہ کے ہم نشینوں نے ہٹو بچو کی صدائیں بلند کیں تاکہ بادشاہ کی سواری آسانی سے گزر پائے۔ سب ایک طرف ہو گئے لیکن ایک ادھیڑ عمر شخص بیچ راستے میں جما کھڑا کہنے لگا :
" میں کسی بادشاہ کو نہیں جانتا، چلو ہٹو اور مجھے اپنا کام کرنے دو، بڑے آئے بادشاہ کے چمچے ... "

بادشاہ نے جب یہ سنا تو حکم دیا کہ اسے گرفتار کیا جائے تاکہ شہر جا کر وہ دیکھ سکے کہ بادشاہ کی عزت و توقیر کیا ہوتی ہے۔ اتنے میں ہجوم کو چیرتے وہی بچہ سامنے آیا اور سپاہیوں کے سامنے دیناروں سے بھری تھیلی پھینک کر کہا :
۔

بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو کہا :
" "
(کیا ہی اچھا بچہ ہے اور اتنا ہی برا اس کا والد)

بچے نے فورا کہا نہیں بلکہ یوں کہوں کہ :
" "
(کیا ہی اچھا والد ہے اور اتنا ہی برا اس بچے کا داد)
کیونکہ اگر والد برا ہوتا تو میری اتنی اچھی تربیت نہ کرتا اور اگر دادا اچھا ہوتا تو اپنے بچے کی بہترین تربیت کرتا ...

میرے دوستو! یہ سن کر بادشاہ نے بچے اور اس کے والد کا راستہ چھوڑنے کا حکم دیا اور حیرت و استعجاب کی حالت میں اپنی راہ چل پڑا ...

03/12/2019

حضور اکرم کا معجزہ اور ابوجہل کی بے بسی

اراش کی بستی سے ایک شخص اونٹ لے کرمکہ آیا۔ ابوجہل نے اس سے اونٹ خرید لئے، پھر قیمت ادا کرنے سے انکاری ہوگیا۔ اراشی مایوس ہوکر قریش کی مجلس میں آیا اور ان سے مدد مانگی۔ اس نے کہا:” قریش کے لوگو! مَیں ایک اجنبی مسافر ہوں اور ابوالحکم بن ہشام نے میرا حق مار لیا ہے، کون سا شخص مجھے میرا حق دلائے گا“؟ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔
اہل مجلس سبھی منکرین حق تھے۔ انہیں شرارت سوجھی تو انہوں نے اراشی سے کہا: ”کیا تم دیکھ رہے ہو، وہ شخص جو کونے میں بیٹھا ہے، وہی تمہارا حق دلا سکتا ہے“۔ دراصل سردارانِ قریش جانتے تھے کہ ابوجہل حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عداوت رکھتا ہے۔ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سبکی چاہتے تھے اور مسافر سے مذاق کررہے تھے۔ اراشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور جا کر کہا: ”اے اللہ کے بندے!
ابوجہل نے میرا حق مار لیا ہے اور میں اجنبی ہوں۔ ان لوگوں سے میں نے پوچھا کہ کون مجھے میرا حق دلا سکتا ہے تو انہوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا۔ پس آپ میرا حق دلادیں، اللہ آپ پر رحم کرے“۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اُسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ چل دئیے۔ قریش کے لوگوں نے دیکھا تو اپنے میں سے ایک شخص سے کہا: ”اے فلاں ان کے پیچھے جا اور دیکھ کر آ کیا تماشا بنتا ہے“؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی کو ساتھ لئے ابوجہل کے دروازے پر پہنچے اور دستک دی۔
اس نے پوچھا: ”کون ہے“؟ فرمایا: ”مَیں محمد ہوں، ذرا باہر نکلو“۔ ابوجہل باہر نکلا تو اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کے جسم میں روح نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اس شخص کا حق ادا کردو“۔

ابوجہل نے کہا: ”بہت اچھا! میں اس کا حق ابھی ادا کرتا ہوں۔“ گھر کے اندر داخل ہوا، رقم لے کر آیا اور اراشی کے ہاتھ پر رکھ دی۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اراشی سے فرمایا:
”اچھا بھائی خدا حافظ“ اور آپ چل دئیے۔ اراشی قریش کی مجلس کے پاس سے گزرا اور ان سے کہا: ”اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر عطا فرمائے، خدا کی قسم! وہ بڑا عظیم آدمی ہے، اس نے مجھے میرا حق دلا دیا“۔
جس شخص کو قریش کے لوگوں نے تماشا دیکھنے کے لئے بھیجا تھا، اس سے انہوں نے کہا: ”تیرا ستیاناس ہو، تُو نے کیا دیکھا“؟
اس نے کہا: ”میں نے عجیب ترین معاملہ دیکھا۔ خدا کی قسم جونہی محمد نے اس کے دروازے پر دستک دی اور وہ باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ اس کے جسم میں گویا جان ہی نہیں۔ محمد نے اس سے کہا کہ اس شخص کو اس کا حق ادا کردو تو بغیر حیل وحجت کے اس نے اس کا حق ادا کردیا“۔

تھوڑی دیر بعد ابوجہل مجلس میں آ پہنچا تو لوگوں نے اس سے کہا: ”تیری تباہی ہوجائے، تجھے کیا ہوگیا تھا؟ خدا کی قسم تو نے جو حرکت کی اس کی تو ہمیں کبھی توقع ہی نہیں تھی“۔ ان کی باتیں سن کر ابوجہل نے کہا: ”تمہاری بربادی ہو جائے،
خدا کی قسم! جونہی محمد بن عبداللہ نے میرے دروازے پر دستک دی اور مَیں نے اس کی آواز سنی تو میرے اوپر رعب طاری ہوگیا۔پھر مَیں دروازہ کھول کر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے سر کے اوپر فضا میں ایک سانڈ اونٹ معلق ہے۔ اس اونٹ جیسی کوہان، گردن اور دانت ،مَیں نے کبھی کسی اونٹ کے نہیں دیکھے۔ خدا کی قسم مجھے یوں محسوس ہو اکہ اگر مَیں نے انکار کیا تو وہ اونٹ مجھے کھا جائے گا“۔
(البدایة والنھایة، جلد سوم، 45)

02/12/2019


اس فارم کے مطابق غریبوں کے لیے نئے پاکستان میں مناسب قیمت اور آسان اقساط پر دو بیڈروم والے نئے گھر بنائے جا رہے ہیں ۔یہ فارم آپ کو مفت ملے گا۔۔جو کو بہترین طریقے سے ہائیلائٹ کیا گیا ہے۔۔اس کے بعد آپ نے 250 روپے کے ساتھ یہ فارم فل کرکے جمع کروانا ہے۔۔یاد رہے کہ یہ فیس نا قابل واپسی ہے۔۔اس کے بعد آپ نے دس ہزار ضمانت کے طور پہ جمع کروانے ہیں اور اگر کامیاب ہو ہی جاتے ہیں تو پھر چھ لاکھ یکمشت جمع کروانے ہوں گے۔۔ورنہ آپکے دس ہزار بھی جاتے رہیں گے۔۔
اس کے بعد والا کام سب سے مزیدار ہے۔۔آپنے ہر ماہ اپنی تنخواہ یا منتھلی انکم میں سے صرف 67 ہزار روپے بچا کر حکومت کو قسط ادا کرنی ہے۔۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ یہ گھر غریب عوام کے لیے بنائے جا رہے ہیں ۔۔اور یہ بھی یاد رہے کہ اس غریب کی کم سے کم تنخواہ حکومت نے 15 ہزار مقرر کر رکھی ہے۔

02/12/2019

شہد کی مکھیوں سے منسوب چند حیرت انگیز حقائق

اللہ تعالیٰ نے شہد میں ایسی بے بہا خصوصیات رکھی ہیں کہ جن کو دیکھ کر نہ صرف انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے بلکہ سائنس آج اتنی ترقی اور متعدد تجربات کے باوجود شہد تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ آیئےاپنےدلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو شہد اور ان کی مکھیوں سے جڑے کچھ حیرت انگیز حقائق کے بارے بتاتے ہیں۔

شہد اور مکھیوں کی خاصیت
شہد کو نہ صرف کھانے کے بعد میٹھے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جب کہ مختلف ممالک میں اسے مختلف قسم کی بیماریوں کے توڑ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شہد کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اگر شہد کی مکھی پورے قدرتی عمل سے شہد تیار کر لے تو پھر وہ 1000 سال بھی پڑا رہے تو نہ تو وہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے ذائقے میں ذرا برابر بھی فرق آتا ہے جب کہ اس قسم کے شہد میں رکھی گئی کوئی چیز بھی خراب نہیں ہوتی۔ شہد کی مکھیوں کی ایک اور خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ دوسرے کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کی طرح کبھی بھی آپس میں لڑتی نہیں ہیں بلکہ آپس میں محبت اور منظم طریقے سے رہتی ہیں۔

شہد کی طبی خصوصیات
شہد کو ہزاروں برس سے طبی فوائد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور آج بھی بہت سے ممالک میں یہ روایت برقرار ہے۔ شہد کو گلے کی خراش دور کرنے، بدہضمی دور کرنے، گرمی دور کرنے کے علاوہ دیگر بیماریوں کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ مغربی ممالک میں شہد کی مکھی کے ڈنگ سے جوڑوں کے درد اور سوجن کو دور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہد کا استعمال خون کی کمی، دمہ، گنجا پن، تھکاوٹ، سردرد، ہائی بلڈپریشر، کیڑے کا کاٹا، نیند کی کمی، ذہنی دباﺅ اور ٹی بی جیسے امراض میں بھی فائدہ مند ہے۔

شہد کی مکھیوں کا چھتہ
شہد کی مکھیاں جو چھتے بناتی ہیں ان میں 8 قسم کے خانے ہوتے ہیں جو مثلث سے لے کر 10 خانوں تک ہوتے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کے چھتے میں صرف ایک 6 خانوں والی شکل ایسی ہے جس میں ایک ملی لیٹر کا بھی خلا نہیں ہوتا۔ شہد کی مکھی کے چھتے میں انڈوں، شہد، موم اور بچوں کے خانے الگ الگ ہوتے ہیں اور ہر خانہ دوسرے خانے سے مکمل طور پر علیحدہ ہوتا ہے۔

شہد کی مکھیوں کی اقسام
ایک تحقیق کے مطابق شہد کی مکھیاں اڑنے والے کیڑے ہیں۔ پاکستان میں 4 ڈومنا، پہاڑی، چھوٹی اور یورپی مکھیاں پائی جاتی ہیں۔ پہلی ڈومنا، پہاڑی اور چھوٹی مقامی مکھیاں ہیں جب کہ یورپی مکھی (ایپس میلیفرا) آسٹریلیا سے لائی گئی۔ سب سے اچھی مکھی یورپی مکھی ہوتی ہے کیونکہ یہ دوسری مکھیوں کے مقابلے میں زیادہ شہد پیدا کرتی ہے۔

پھولوں کا رس اور سفر
شہد کا ایک چھوٹے چائے کا چمچ میں 5 ہزار پھولوں کا رس شامل ہوتا ہے جب کہ ایک بڑے چمچ میں 2 لاکھ پھولوں کا رس شامل ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی آدھا کلو شہد بنانے کے لئے 35 لاکھ اڑانیں بھرتی ہے اور 50 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرتی ہے۔
شہد کی مکھیاں عام طور 8 کا ہندسہ بنا تے ہوئے سفر کرتی ہیں لیکن شہد کی تیاری کے دوران یہ مختلف انداز سے سفر کرتی ہیں۔ گائیڈ مکھیاں انھیں راستہ بتاتی ہیں اور اس طرح یہ میلوں کا سفر با آسانی طے کر لیتی ہیں۔

شہد کی مکھیوں کے انڈے
شہد کی مکھیاں بہت ہی منظم طریقے سے ایک معاشرے کی طرح رہتی ہیں اور اپنی ملکہ کے تابع ہوتی ہیں۔ شہد کی ملکہ مکھی روزانہ 2000 ہزار سے 15000ہزار انڈے جب کہ ایک سیزن میں 25 لاکھ انڈے دیتی ہے۔

شہد کی تیاری
شہد مادہ مکھیاں بناتی ہیں جس کے لئے تقریباً 30 ہزار کی فوج مقرر ہوتی ہے۔ مکھیوں کی ایک جماعت آس پاس اور دور دراز کے علاقوں میں شہد کے ذرائع دیکھ کر آتی ہے۔ شہد کے ذرائع دیکھ کر آنے والی مکھیاں مخصوص حرکات کے ذریعے سے ساتھی مکھیوں کو راستہ بتاتی ہیں کہ کس سمت میں کتنا سفر کرنا ہے۔
شہد کی مکھی جس راستے سے گرزتی ہے وہاں کے پھولوں کی خوشبو کو اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیتی ہے اور اپنے پیٹ میں شہد جمع کر کے اسی یاداشت کے ذریعے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہے۔

02/12/2019

عمران خان کے 105یوٹرن:
1_ 50 لاکھ گھر
2_ 200 ارب منہ پر مارنا
3_ ایک کروڑ نوکریاں
4_ 2 روپے یونٹ بجلی
5_ 45 روپے پیٹرول
6_ نوکریوں کی بارش
7_ باہر سے لوگ کام ڈھونڈنے آئیں گے
8_ بھیک نہیں مانگیں گے
9_ بھیک مانگنے ہر خود کشی
10_ باہر پڑا سارہ پیسہ واپس لائیں گے
11_ ریاست مدینہ بنائیں گے
12_ نواں پاکستان بنے گا
13_ کشمیر آزاد کرائیں گے
14_ ایکسٹنشن نہیں دیں گے
15_ غریب کو روزگار فراہم کریں گے
16_ علاج فری ہو گا
17_ ملک ترقی کرے گا
18_ کاروبار وافر ہوں گے
19_ فیکٹریاں لگیں گی
20_ چپڑاسی نہیں رکھوں گا
21_ شیدا ٹلیشیخ رشید جیسے آدمی کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں اور پھرایسا یوٹرن لیا کہ اب کہتے ہیں شیخ رشید اور ہماری سوچ ایک ہے۔ (اب وزیر ریلوے)
22_ کپتان نے بابر اعوان کو چور کہا اور پھر اسے ہی اپنا وکیل بھی رکھ لیا۔
23_ چوروں کی اسمبلی ہے میں نہیں بیٹھوں گا
24_ سول نافرمانی
25_ 22 سال حکمران ٹیکس چور پھر اب عوام ٹیکس چور
26_ جمعہ کو چھٹی
27_ ویلنٹائن ڈے پر پابندی
28_ ٹک ٹاک بند کرنے کا اعلان
29_ منی چینجر آؤٹ لٹ بند کرنے کا اعلان
30_ ڈالر جلاوں گا
31_ ایمنسٹی سیکم نہیں دوں گا
32_ این آر او نہیں دوں گا
33_ چوروں کو نہیں چھوڑوں گا
34_ انصاف سب کے لیے ایک ہو گا
35_ قانون سب کے لیے برابر ہو گا
36_ پولیس میں اصلاحات لاؤں گا
37_ قطر سے واپسی پر مجرموں کو عبرت کا نشان بناوں گا
38_ عمران خان نے پرویز الہیٰ کو سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا اور اس کے بعد فرمایا پرویز الہیٰ اور ہم مل کر کرپشن کے خلاف لڑیں گے
39_ پھر وہی ڈاکو نفیس ترین لوگوں میں شامل
بلکہ اس کی پوری پارٹی
40_ اتحاد نہیں کروں گا
41_ لوٹے نہیں خریدوں گا
42_ اداروں کا سیاسی کردار ختم کروں گا
43_ منظور پشتین کا مطالبات درست ہیں ہمایت کرتا ہوں
44_ جنرل کو گالیاں
45_ آرمی آئی ایس آئی پر الزامات
46_ الیکسمشن کمشن پر الزامات
47_ عدلیہ پر الزامات
48_ ختم نبوت کی شقوں میں تبدیلی میں ملوث
49_ قادیانیوں کی مکمل ہمایت کی اور تسلی دی
50_ 200 ماہرین کی ٹیم
51_ پی ٹی آئی کا برین (بعد میں فیل ہو گیا)
52_ نوکریوں کی بارش نا ہوئی تو گردن وڈ دینا
53_ 4 ہفتے بعد خوشحالی آئے گی
54_ کراچی کے قریب سمندر میں کنواں کھود رہے ہیں
پھر گیس لیک کر گئ 😢
55_ 12 ارب ڈیلی کی کرپشن رک گی پیسہ کہاں گیا
56_ عافیہ صدیقی کو لاوں گا
57_ 3000 قیدی سعودی جیل سے چھڑوائے (بعد میں صرف ماموں کا بیٹا کامران ہےنکلا بس)
58_ صاف چلی شفاف چلی (لوٹے خرید کے)
59_ موروثی سیاست ختم (جہانگیر ترین کے بیٹے کو ٹکٹ)
60_ بنی گالہ جوائما نے گفٹ کیا
61_ بنی گالہ لندن فلیٹس بیچنے کے پر ملنے والے پیسے سے خریدا
62_ پی ٹی وی پر حملہ کیا اور صادق آمین رہے
63_ اسلام آباد تھانے ہر ہلہ بولا قیدی چھڑائے
64_ جعلی ڈگری والے اور چور نہیں لوں گا
65_ دھرنا دینے والوں کو کنٹینر دوں گا
66_ پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر ڈاکوؤں کی آماجگاہ کہہ کر اسی کی تنخواہ لیتا رہا
67_ الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا اور ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ پھر بھی صادق و امین کہلاتا ہے۔
68_ 2013ء میں عمران خان نے نجم سیٹھی پر پینتیس پنکچر کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ میرے پاس ٹیپ موجود ہے لیکن بعد میں یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ بیان سیاسی تھا۔
69_ خان صاحب سابق چیف جسٹس پر بھی دھاندلی کا الزام لگا کر دستبردار ہو چکے ہیں۔ جناب نے کہا تھا افتخار چودھری اس ملک کی آخری امید ہیں اور پھر فرمایا کہ افتخار چودھری بھی دھاندلی میں ملوث ہیں۔
70_ شہباز شریف پر الزام لگایا اور اب ہرجانہ کیس میں کورٹ میں ثبوت نہیں دے پا رہا
71_ نواز شریف کے استعفے تک شادی نہیں کروں گا لیکن پھر دھرنے کے دوران ہی کہہ دیا کہ دھرنا اس لئے دے رہا ہوں تاکہ میں شادی کرسکوں۔
72_ پھر طلاق پر کہا کہ طلاق کی باتیں میڈیا کر رہا ہے، سب جھوٹ ہے لیکن جب طلاق ہوگئی تو فرمایا طلاق میرا ذاتی مسئلہ ہے، کوئی بات نہ کرے۔
73_ بشریٰ مانیکا کی خبر لیک ہوئی تو کہا صرف پیغام بھیجا ہے۔ پھر انہی گواہان کی گواہی پر نکاح بھی کرلیا
74_ جناب نے اعلان کیا کہ نواز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتا پھر اسی کے لگائے ہوئے آرمی چیف کو مبارکباد بھی پیش کرتے رہے۔
75_ نواز شریف کی نااہلی کو بہترین فیصلہ قرار دیا اور پھر خود ہی کہہ دیا کہ کمزور فیصلہ دیا ہے
76_ خان صاحب نے کہا آف شور کمپنی رکھنے والے چور ہیں، پھر جب اپنی نکل آئی تو کہا میں نے آف شور کمپنی اس لئے بنائی تاکہ ٹیکس بچا سکوں
77_ بنی گالہ ہی کے بارے میں اک بیان، کائونٹی کے پیسوں سے خریدا پھر اچانک یوٹرن لیا اور کہا نہیں نہیں بنی گالہ تو جمائما نے گفٹ کیا۔
78_ پانامہ اسکینڈل کے ہمارے پاس ثبوت ہیں لیکن جب ثبوت عدالت نے مانگے تو کہا ثبوت دینا حکومت کا کام ہے۔ اسی طرح جب خود عمران خان پر کیس ہوا تو کہا کہ ثبوت وہ دیتا ہے جو الزام لگاتا ہے۔۔
79_ آصف زرداری کو بیماری قرار دیا اور پھر سینیٹ میں اسی بیماری کو ووٹ بھی دے دیا
80_ میرے لوگوں کو خریدا نہیں جا سکتا۔ پھر کہا کہ میرے لوگ بک گئے۔
81_ میٹرو کو جنگلا بس کہتے تھکتے نہیں تھے لیکن پشاور میں یہی جنگلہ بس بنالی۔
82_ پنجاب میں میٹرو بس کے ایلی ویٹڈ ٹریک پر بھی تنقید کی اور کہا دنیا کے کسی ملک میں بس اوپر ہوا میں نہیں چلتی پھر پشاور میں بھی ایلی ویٹڈ ٹریک بنالیا اور کہا نیچے جگہ نہیں تھی۔
83_ دھرنے کے دوران نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا لیکن اپنے ہی نمائندوں کے اسمبلی سے استعفے دلوادئیے۔
84_ عمران خان نے 2009ء میں الطاف حسین کی تعریف کی اور پھر قاتل اور دہشت گرد کہا اور تو اور زہرہ شاہد کے قتل کا الزام بھی ایم کیو ایم والوں پر لگا دیا۔
85_ عمران خان پرویز مشرف، افتخار محمد چودھری، چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی تعریفیں کیں اور اس کے بعد ان پر تنقیدی نشتر برسائے۔
86_ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیا اور پھر خود ہی واپس بھی آگئے۔ کتنی بار یہ مجھے یاد نہیں
87_ تئیس اکتوبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا پھر یوٹرن لے کر دھرنے کی تاریخ تبدیل کرکے دو نومبر کردی۔
88_ دھرنے سے پہلے خان صاحب نے شیخ رشید کے ساتھ لال حویلی کے سامنے ٹریلر دکھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح مکر گئےاور ٹریلر نہیں دکھایا
89_ انتخابات فوری ہونے چاہئیے اور اسی میں ملک کے مسائل کا حل ہے اس مطالبے سے بھی پھر گئے، ہم نے جماعت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہےکہ انتخابات وقت پر ہی ہونے چاہئیے۔
90_ نیازی نے یہودی دوست کی الیکشن کمپین چلائیں اور اس کے لیے ووٹ مانگے حالانکہ اس کے مقابلے میں ایک مسلمان صادق خان بھی لندن کے مئیر کے الیکشن میں کھڑا تھا اور پھر عمران خان کی مخالفت کے باوجود صادق خان جیت جاتا ہے۔
91_ پہلے 5 ارب درخت لگائے پھر کہا 1 ارب(12 آدمی 8 دن میں وہ گن لیتے ہیں)
92_ یوٹرن کی سیاست نہیں کرتا پھر کہا جو یوٹرن نا لے وہ لیڈر نہیں میں یوٹرن وزیراعظم ہوں
93_ پروٹوکول نہیں لوں گا
94_ سائیکل پر وزیر اعظم ہاؤس جاؤنگا
95_ وزیر اعظم ہاؤس یونیورسٹی بناؤں گا
96_ گورنر ہاؤس پر بلڈوزر چڑھاؤں گا
97_ پہلے تین ماہ میں وزیر اعظم کے بیرونی دورے پر پابندی ہو گی
98_ دوروں پر خصوصی جہاز نہیں استعمال کیا جائے گا
99_ بنگالی اور افغانیوں کو شہریت دینے کا اعلان
100_ پیٹرولیم اور گیس کی قیمتیں نہیں بڑھاؤں گا
101_ ٹیکس نہیں لگاوں گا
102_ بیوروکریسی سے سیاست کو پاک کروں گا
103_ اہم عہدوں پر تعیناتی میرٹ پر ہو گی (نجم سیٹھی کی بطور پی سی بی چیئرمین تقرری پر تو خاص طور پر انھوں نے نواز حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا تھا بلکہ عمران خان چیئرمین پی سی بی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہونے کے ہی خلاف تھے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد انھوں نے احسان مانی کو پی سی بی چیئرمین تعینات کر دیا۔)
104_ منصوبوں کا افتتاح متعلقہ محکموں کے سربراہان کریں گے
105_ دھاندلی کے الزامات پر جس حلقے کا کہں گے اسے دوبارہ کھولوں گا
دھرنا ہی تمام مسائل کا حل ہے پھر یوٹرن لے کر کہنا کہ "دھرنا مسائل کا حل نہیں ہوتا" یہ بھی سب نے سناہے۔۔۔۔۔
۔
۔باتوں سےزیادہ عملی اقدامات ہی مفید ہوتےہیں نا؟

02/12/2019

آج سے سب پاکستانی قرآن ڈے کے لئے گورنمنٹ سے فرمائش کریں
ایک قومی قرآن ڈے ھونا چاہیے
سب دوست قرآن کی محبت کے لئے پوسٹ شیر کریں

02/12/2019

کو نکلا، بارہ ہزار عالم اور حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوق خدا چاروں طرف نظارہ کو جمع ہو جاتی تھی ، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہل مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں، اس کی اور اس کے خادموں کی جو یہاں کے باشندے ہیں تمام لوگ بے حد تعظیم کرتے ہیں اور جتنا آپ کا لشکر ہے اس سے کہیں زیادہ دور اور نزدیک کے لوگ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کی خدمت کر کے چلے جاتے ہیں، پھر آپ کا لشکر ان کے خیال میں کیوں آئے۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں اس گھر کو کھدوا دوں گا اور یہاں کے باشندوں کو قتل کروا دوں گا، یہ کہنا تھا کہ بادشاہ کے ناک منہ اور آنکھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ایسا بدبودار مادہ بہنے لگا کہ اس کے پاس بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی اس مرض کا علاج کیا گیا مگر افاقہ نہ ہوا، شام کے وقت بادشاہ ہی علماء میں سے ایک عالم ربانی تشریف لائے اور نبض دیکھ کر فرمایا ، مرض آسمانی ہے اور علاج زمین کا ہو رہا ہے، اے بادشاہ! آپ نے اگر کوئی بری نیت کی ہے تو فوراً اس سے توبہ کریں، بادشاہ نے دل ہی دل میں بیت اللہ شریف اور خدام کعبہ کے متعلق اپنے ارادے سے توبہ کی ، توبہ کرتے ہی اس کا وہ خون اور مادہ بہنا بند ہو گیا، اور پھر صحت کی خوشی میں اس نے بیت اللہ شریف کو ریشمی غلاف چڑھایا اور شہر کے ہر باشندے کو سات سات اشرفی اور سات سات ریشمی جوڑے نذر کئے۔
پھر یہاں سے چل کر مدینہ منورہ پہنچا تو ہمراہ ہی علماء نے جو کتب سماویہ کے عالم تھے وہاں کی مٹی کو سونگھا اور کنکریوں کو دیکھا اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ کی جو علامتیں انھوں نے پڑھی تھیں ، ان کے مطابق اس سر زمین کو پایا تو باہم عہد کر لیا کہ ہم یہاں ہی مر جائیں گے مگر اس سر زمین کو نہ چھوڑیں گے، اگر ہماری قسمت نے یاوری کی تو کبھی نہ کبھی جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے ہمیں بھی زیارت کا شرف حاصل ہو جائے گا ورنہ ہماری قبروں پر تو ضرور کبھی نہ کبھی ان کی جوتیوں کی مقدس خاک اڑ کر پڑ جائے گی جو ہماری نجات کے لئے کافی ہے۔
یہ سن کر بادشاہ نے ان عالموں کے واسطے چار سو مکان بنوائے اور اس بڑے عالم ربانی کے مکان کے پاس حضور کی خاطر ایک دو منزلہ عمدہ مکان تعمیر کروایا اور وصیت کر دی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو یہ مکان آپ کی آرام گاہ ہو اور ان چار سو علماء کی کافی مالی امداد بھی کی اور کہا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو اور پھر اس بڑے عالم ربانی کو ایک خط لکھ دیا اور کہا کہ میرا یہ خط اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دینا اور اگر زندگی بھر تمھیں حضور کی زیارت کا موقع نہ ملے تو اپنی اولاد کو وصیت کر دینا کہ نسلاً بعد نسلاً میرا یہ خط محفوظ رکھیں حتٰی کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جائے یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے چل دیا۔
وہ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس مین ایک ہزار سال بعد پیش ہوا کیسے ہوا اور خط میں کیا لکھا تھا ؟سنئیے اور عظمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دیکھئے:
”کمترین مخلوق تبع اول خمیری کی طرف سے شفیع المزنبین سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اما بعد: اے اللہ کے حبیب! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور جو کتاب اپ پر نازل ہو گی اس پر بھی ایمان لاتا ہوں اور میں آپ کے دین پر ہوں، پس اگر مجھے آپ کی زیارت کا موقع مل گیا تو بہت اچھا و غنیمت اور اگر میں آپ کی زیارت نہ کر سکا تو میری شفاعت فرمانا اور قیامت کے روز مجھے فراموش نہ کرنا، میں آپ کی پہلی امت میں سے ہوں اور آپ کے ساتھ آپ کی آمد سے پہلے ہی بیعت کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔“
شاہ یمن کا یہ خط نسلاً بعد نسلاً ان چار سو علماء کے اندر حرزِ جان کی حثیت سے محفوظ چلا آیا یہاں تک کہ ایک ہزار سال کا عرصہ گزر گیا، ان علماء کی اولاد اس کثرت سے بڑھی کہ مدینہ کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور یہ خط دست بدست مع وصیت کے اس بڑے عالم ربانی کی اولاد میں سے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور آپ نے وہ خط اپنے غلام خاص ابو لیلٰی کی تحویل میں رکھا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی اور مدینہ کی الوداعی گھاٹی مثنیات کی گھاٹیوں سے آپ کی اونٹنی نمودار ہوئی اور مدینہ کے خوش نصیب لوگ محبوب خدا کا محبوب خدا کا استقبال کرنے کو جوق در جوق آ رہے تھے اور کوئی اپنے مکانوں کو سجا رہا تھا تو کوئی گلیوں اور سڑکوں کو صاف کر رہا تھا اور کوئی دعوت کا انتظام کر رہا تھا اور سب یہی اصرار کر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو جس گھر میں یہ ٹھہرے گی اور بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہو گی، چنانچہ جو دو منزلہ مکان شاہ یمن تبع خمیری نے حضور کی خاطر بنوایا تھا وہ اس وقت حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی تحویل میں تھا ، اسی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جا کر ٹھہر گئی۔ لوگوں نے ابو لیلٰی کو بھیجا کہ جاؤ حضور کو شاہ یمن تبع خمیری کا خط دے آو جب ابو لیلٰی حاضر ہوا تو حضور نے اسے دیکھتے ہی فرمایا تو ابو لیلٰی ہے؟ یہ سن کر ابو لیلٰی حیران ہو گیا۔ حضور نے فرمایا میں محمد رسول اللہ ہوں، شاہ یمن کا جو خط تمھارے پاس ہے لاؤ وہ مجھے دو چنانچہ ابو لیلٰی نے وہ خط دیا، حضور نے پڑھ کر فرمایا، صالح بھائی تُبّع کو آفرین و شاباش ہے۔
سبحان اللہ!) صلی اللہ علیہ وسلم
بحوالہ کُتب: (میزان الادیان)(کتاب المُستظرف)(حجتہ اللہ علے العالمین)(تاریخ ابن عساکر)
تفسیر جلالین ،جلال الدین سیوطی۔ سورہ الدخان آیت 37
تفسیر صراط الجنان ، سو رہ الدخان ، آیت

Address

Kot-Adu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Threek e haq pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share