28/08/2023
بطور ڈاکٹر واپڈا ملازمین کا دکھ۔۔۔
پاکستان میں صحت کے نظام کی خرابی کا زمہ دار مجھے(ڈاکٹر) کو مانا جاتا ھے حالانکہ میں اس سارے نظام کا مظلوم ترین طبقہ ھوں جس کو فرنٹ فٹ پر رکھا جاتا ھے
صحت کا کم بجٹ حکومت مختص کرتی ھے
پالیسی بیوروکریسی بناتی ھے
ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی حکومت کی زمہ داری ھے
انتظامی کوتاہیوں کا زمہ دار ایم ایس /پر نسپل صاحبان ہیں
عوام کو 24/7 کیونکہ ہسپتال میں میں میسر تو وہ وہیل چیئرز کی عدم دستیابی،پرچی کاؤنٹر پر لمبی لائن کا غصہ،ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ کی عدم دستیابی،وارڈ بوائے یا سٹاف یا نرسز کی طرف سے بحث ، سب کا قصور وار مجھے کہا جاتا ھے کیونکہ ان کے سامنے میسر ہیں حالانکہ میرا کام صرف مریض کا چیک اپ کرنا اس کی تشخیص کے مطابق ادویات لکھنا ھے
باقی سارے کام انتظامیہ کے وہیل چیئرز ،پرچی کاؤنٹر پر لمبی لائن کا زمہ دار ایم ایس ادویات مہیا کرنا ایم ایس اور ہسپتال فارماسسٹ کا کام ادویات مریضوں کو لگانا سٹاف نرسز کام اور ہسپتال عملہ کےلئے ان کا الگ سپروائزر ھوتے جس کا مجھ سے کچھ لینا دینا نہی اور نا میرا کوئی سروکار ان سب سے مگر مار مجھے پڑتی،گریبان میرا پکڑا جاتا،بدتمیزی مجھ سے کی جاتی کیونکہ میں فرنٹ فٹ پر آسان ٹارگٹ
اسی طرح واپڈا کے ملازمین کا واپڈا کی پالیسیوں سے کچھ بھی لینا دینا نہی
پالیسی بناتے سیکرٹری،منسٹری چئیرمین واپڈا،بجلی ساز کمپنیاں قیمت کا تعین بھی یہ سب کرتے اور مار کھا رہے فرنٹ فٹ پر موجود لائن مین جن کا اس سارے پراسیس میں کوئی بھی قصور نہی
کیا اس ساری مہنگائی،خراب معاشی صورتحال ملک میں بد امنی کے زمہ دار یہ واپڈا ملازمین ہیں جن پر عوام فرسٹریشن نکال رہی ھے۔۔۔
ہر ادارہ اپنے ملازمین کو کچھ نا کچھ سہولت دیتا ھے بجلی کے مفت یونیٹس صرف واپڈا ملازمین کو نہی ملتے بہت سی سفید ہاتھی واپڈا ملازمین کے علاوہ بجلی کے مفت یونٹس یا پھر اس کی مد میں پیسے وصول کررہے۔۔۔
خدارا اپنی فرسٹریشن اپنی ہی طرح کے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ملازمین پر نا نکالیں۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عاقب جاوید ملغانی
سرکاری نوکر۔۔