12/12/2024
اگر آپ کو لگتا ہے کہ "جب سب ٹھیک ہوجائے گا تب ہم بھی ٹھیک ہوجائیں گے ۔۔۔ زندگی کو خوبصورتی سے جینے لگیں گے ۔۔۔ اچھی چیزوں ، نعمتوں اور انسانوں پر دھیان دینے لگیں گے" تو ایک بات کہوں ؟
"سب کچھ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوتا!"
یہ میں آپ کو مایوس نہیں کررہی ۔۔۔ اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کررہی ہوں کہ یہ مستقل رہنے کی جگہ نہیں ہے ، یہ جنت نہیں بن سکتی ، ہم ہمیشہ خوش نہیں رہ سکتے ۔۔۔ ایک دن خوش ہوں گے تو اگلے دن کچھ ایسا ہوجائے گا کہ ہم آدھ موئے ہوجائیں ، ڈھے جائیں ۔۔۔ اور یہی چیز دنیا سے بیزار کرتی ہے ، رکھتی ہے ۔
اس لیے جب تک زندگی ہے ، اسے جینا سیکھیں ۔
مسئلے ہر ایک کی زندگی میں ہیں ، ہوتے ہیں اور رہیں گے ۔۔۔ ان کے ساتھ خوش ، مطمئن ، اللہ کی رضا میں راضی رہنا سیکھنا پڑے گا ہمیں ۔
ہم اچھے دنوں کے انتظار میں اداس نہیں رہ سکتے ۔۔۔ یہ بہت غلط کریں گے اپنے ساتھ ، خود کو میسر وقت کے ساتھ ، رزق ، رشتے ، نعمتوں کے ساتھ! زندگی میں کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی اداسی دور کرنے کی ، غم بھلانے میں مدد دینے کی ، پرامید اور باہمت رہنے دینے کی ۔۔۔ بس اس ایک وجہ کو پکڑ لیں اور خوش رہنا شروع کردیں ۔
آپ کی آدھی سے زیادہ طبیعت تب ہی اچھی ہوجائے گی جب آپ اپنے گرد لپیٹے زبردستی کی اداسی کا لبادہ اتار پھینکیں گے ۔۔۔ بالکل ایسا محسوس ہوگا جیسے سخت تپتے بخار میں ہمت کرکے بندہ اٹھے ، ہاتھ منہ دھوئے ، بال بنائے ، خوشبو لگائے اور خود کو آئینے میں دیکھ کر مسکرا دے ۔۔۔ آدھی طبیعت اچھی ہوجاتی ہے نا ؟
باقی آدھی بھی "دوا" اور اس خیال کے ساتھ ہی درست ہوجاتی ہے کہ "یہ دو چار دنوں کا بخار ہے ۔۔۔ جلد اتر جائے گا ۔"
دوا لیتے رہیں اور خود کو اس سوچ کے ساتھ مطمئن رکھیں کہ "یہ دو چار دنوں کی فکریں ہیں ۔۔۔ اب کیا سر پر سوار کرنی!"