10/06/2026
تاریخ گواہی دے گی کہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی حکومت میں کشمیر جیسے حساس ترین قومی مسئلے کو ایسے شخص کے سپرد کیا گیا جس کا نہ سیاست سے کوئی عملی تعلق تھا، نہ عوامی مسائل کی سمجھ تھی اور نہ ہی عوامی نمائندگی کا تجربہ۔ وزارتِ کشمیر کو قومی ذمہ داری کے بجائے ایک اعزاز سمجھ کر بانٹ دیا گیا اور اس کے نتائج پوری قوم نے بھگتے۔
جب پاکستان کی شہ رگ کشمیر میں بے چینی بڑھ رہی تھی، نوجوان سڑکوں پر نکل رہے تھے اور دشمن قوتیں حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں، تب وفاقی وزیرِ کشمیر کا فرض تھا کہ وہ میدان میں آتا، کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھتا اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتا۔ مگر افسوس کہ قومی ذمہ داریوں کے بجائے ذاتی مفادات اور ٹھیکیداری کی سیاست کو ترجیح دی گئی۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہی۔ نہ کسی سے جواب طلبی کی گئی، نہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور نہ ہی قومی مفاد کو ترجیح دی گئی۔ چند افراد کے مفادات کی خاطر کشمیر جیسے اہم مسئلے کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔
آج اگر کشمیر میں بے چینی، مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف مخالفین پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تاریخ ان تمام لوگوں سے سوال کرے گی جنہوں نے عہدے تو سنبھالے مگر ذمہ داریاں ادا نہ کیں، اختیارات تو لیے مگر جوابدہی سے گریز کیا۔
قومیں نعروں سے نہیں بلکہ ذمہ داری، بصیرت اور قربانی سے چلتی ہیں۔ جب نااہلی کو میرٹ اور خاموشی کو حکمتِ عملی سمجھ لیا جائے تو پھر نقصان صرف جماعتوں کا نہیں، پورے ملک اور قوم کا ہوتا ہے۔
تحریر: ملک عارف خٹک :::