PMLN SMT KARAK

PMLN SMT KARAK پاکستان مسلم لیگ ن اور میاں محمد نوازشریف کے پیغام کو عام کرنا۔

22/07/2026
10/06/2026

تاریخ گواہی دے گی کہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی حکومت میں کشمیر جیسے حساس ترین قومی مسئلے کو ایسے شخص کے سپرد کیا گیا جس کا نہ سیاست سے کوئی عملی تعلق تھا، نہ عوامی مسائل کی سمجھ تھی اور نہ ہی عوامی نمائندگی کا تجربہ۔ وزارتِ کشمیر کو قومی ذمہ داری کے بجائے ایک اعزاز سمجھ کر بانٹ دیا گیا اور اس کے نتائج پوری قوم نے بھگتے۔
جب پاکستان کی شہ رگ کشمیر میں بے چینی بڑھ رہی تھی، نوجوان سڑکوں پر نکل رہے تھے اور دشمن قوتیں حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں، تب وفاقی وزیرِ کشمیر کا فرض تھا کہ وہ میدان میں آتا، کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم رکھتا اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتا۔ مگر افسوس کہ قومی ذمہ داریوں کے بجائے ذاتی مفادات اور ٹھیکیداری کی سیاست کو ترجیح دی گئی۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہی۔ نہ کسی سے جواب طلبی کی گئی، نہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور نہ ہی قومی مفاد کو ترجیح دی گئی۔ چند افراد کے مفادات کی خاطر کشمیر جیسے اہم مسئلے کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔
آج اگر کشمیر میں بے چینی، مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف مخالفین پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ تاریخ ان تمام لوگوں سے سوال کرے گی جنہوں نے عہدے تو سنبھالے مگر ذمہ داریاں ادا نہ کیں، اختیارات تو لیے مگر جوابدہی سے گریز کیا۔
قومیں نعروں سے نہیں بلکہ ذمہ داری، بصیرت اور قربانی سے چلتی ہیں۔ جب نااہلی کو میرٹ اور خاموشی کو حکمتِ عملی سمجھ لیا جائے تو پھر نقصان صرف جماعتوں کا نہیں، پورے ملک اور قوم کا ہوتا ہے۔
تحریر: ملک عارف خٹک :::

پیر صابر شاہ: سریکوٹ سے ایوانِ اقتدار تک – چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفرخیبر پختونخوا کی سیاست میں اگر ہزارہ ڈویژن کی چن...
10/06/2026

پیر صابر شاہ: سریکوٹ سے ایوانِ اقتدار تک – چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفر

خیبر پختونخوا کی سیاست میں اگر ہزارہ ڈویژن کی چند نمایاں شخصیات کا ذکر کیا جائے تو پیر صابر شاہ کا نام ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ سریکوٹ، تحصیل غازی کے مذہبی اور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے پیر صابر شاہ نے گزشتہ چار دہائیوں تک صوبائی اور قومی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

پیر صابر شاہ 13 مارچ 1955 کو سریکوٹ، ضلع ہری پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معروف مذہبی خانوادے سے ہے اور ان کے والد سید محمد طیب شاہ علاقے کی بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔

1985: سیاست میں عملی آغاز

پیر صابر شاہ نے پہلی مرتبہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ کامیابی کے بعد سریکوٹ کے شتلو شریف میں ایک بڑے جرگے کا انعقاد ہوا جہاں مقامی مشران کی مشاورت سے انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔

1988 تا 1997: مسلسل فتوحات

1988 کے انتخابات میں مسلم لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد 1990، 1993 اور 1997 کے انتخابات میں بھی مسلسل کامیاب ہوتے رہے۔ یوں وہ ہری پور کے ان چند سیاستدانوں میں شامل ہوئے جنہوں نے مسلسل پانچ انتخابات میں عوامی اعتماد حاصل کیا۔

1993 کے انتخابات میں ان کا مقابلہ اختر نواز خان سمیت دیگر سیاسی حریفوں سے ہوا جبکہ 1997 میں بھی انہوں نے اپنے مخالفین کو واضح برتری سے شکست دی۔ اس دور میں سریکوٹ، غازی اور ہری پور میں ان کا سیاسی اثر و رسوخ اپنے عروج پر تھا۔

1993: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

1993 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) نے پیر صابر شاہ کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا۔ انہوں نے 20 اکتوبر 1993 کو وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھایا اور 25 فروری 1994 تک اس منصب پر فائز رہے۔

اگرچہ ان کی وزارتِ اعلیٰ کا دور مختصر تھا، تاہم وہ ہری پور اور ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے منصب تک پہنچے۔

1997 تا 1999: نواز شریف کے مشیر

1997 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے پیر صابر شاہ کو اپنا مشیر مقرر کیا۔ وہ 1997 سے 1999 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔

مشرف دور اور پارٹی سے وفاداری

12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس دور میں مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنما پارٹی چھوڑ کر نئی جماعت مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے، لیکن پیر صابر شاہ ان رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہیں چھوڑا اور نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کے دوران پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ اسی وجہ سے انہیں مسلم لیگ (ن) کے وفادار اور نظریاتی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

2008: دوبارہ صوبائی اسمبلی

2008 کے انتخابات میں پیر صابر شاہ دوبارہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور PK-52 ہری پور سے کامیابی حاصل کی۔

2013: سیاسی مشکلات

2013 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کے باعث ہزارہ ڈویژن کی سیاست میں بڑی تبدیلی آئی اور مسلم لیگ (ن) کو کئی حلقوں میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں پیر صابر شاہ بھی نئی سیاسی صورتحال سے متاثر ہوئے۔

2018: سینیٹ آف پاکستان

2018 میں پیر صابر شاہ سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے سینیٹ میں مختلف امور خصوصاً آبی وسائل اور صوبائی حقوق کے حوالے سے کردار ادا کیا۔

غازی کو تحصیل کا درجہ دینے کا اعزاز

تحصیل غازی کی انتظامی شناخت اور ترقی کے حوالے سے اگر اہم سیاسی شخصیات کا ذکر کیا جائے تو پیر صابر شاہ کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ پیر صابر شاہ صاحب نے نہ صرف صوبائی اور قومی سیاست میں اہم کردار ادا کیا بلکہ غازی کو تحصیل کا درجہ دلوانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

2024 تا 2026

2024 میں سینیٹ کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی پیر صابر شاہ خیبر پختونخوا خصوصاً سریکوٹ، غازی اور ہری پور کی سیاست میں ایک سینئر سیاسی شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفر، وزارتِ اعلیٰ، سینیٹ کی رکنیت اور مسلم لیگ (ن) سے وابستگی نے انہیں ہزارہ کی سیاست کا ایک اہم نام بنا دیا ہے۔

Weekly family magazine Lahore.25.4.2026
26/04/2026

Weekly family magazine Lahore.25.4.2026

Address

Karak

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PMLN SMT KARAK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share