09/09/2024
وہ جو سایۂ شمس تھا، ضیاء پر اجالا تھا
آج پردہ کر گیا، راہِ عدم کو چلا تھا
جن کی روشنی سے تھی دنیا میں بہار سی
آج وہ چراغ بجھا، رہ گئی فقط یاد سی
وہ جو دل کا چین تھا، روح کی غذا تھا
آج اُٹھ گیا خاموشی سے، بے صدا تھا
خالی ہو گیا ہے دل، رخصت ہوئے وہ پیارے
آج آسمان بھی رویا، بادل بنے سہارے
دعاؤں میں اب ذکر ہے، ان کی بخشش کا ہم سفر
وہ جو تھے ہمارے ساتھ، رہیں جنتوں میں بسر
انا للّٰہ وانا الیہ راجعوں ہمارے گاؤں کے بزرگ ھستی ہمارے بابا جی آج اس دار فانی سے رخصت ہوگئے ہیں اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے