Tum News

Directions Website

Tum News TUM News

26/09/2026

کیا خیبر پختونخوا کی حکومت کو 4 اکتوبر سے پہلے ختم کرنے کا جو فیصلہ زیرِ غور بتایا جا رہا ہے، کیا اس کا دائرہ کسی دوسرے صوبے تک بھی بڑھ سکتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سندھ میں پی ٹی آئی کی وجہ سے حالات خراب ہونے کا جواز پیدا کرکے سندھ حکومت کو بھی چلتا کیا جائے؟

26/09/2026

"بڑی خبر"
4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے ہی خیبر پختونخوا حکومت ختم ہو جائے گی: اعجاز الحق۔

آپ کا کیا کہنا ہے...؟
18/09/2026

آپ کا کیا کہنا ہے...؟

18/09/2026

ملک میں نئے صوبے یا یونٹس بننے کے کیا فوائد ہوتے ہیں؟
کوئی بتائے گا؟

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت مستق...
08/09/2026

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت مستقبل میں انسانیت کے لیے ایسا خطرہ بن سکتی ہے جس سے پوری انسانی نسل کو خطرہ لاحق ہو۔

انہوں نے دنیا کے ممالک اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال اور ترقی کے لیے فوری طور پر سخت حفاظتی اصول وضع کیے جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

وولکر ترک نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا یہ خطاب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی دوسری چار سالہ مدت شروع ہونے سے قبل ہوا۔ وہ جولائی میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

ترک نے کہا کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ افراد کے ان خدشات سے اتفاق ہے کہ جدید اور انتہائی طاقتور اے آئی انسانیت کے لیے ’وجودی خطرہ‘ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ایسے مضبوط اور ناقابل تردید حفاظتی انتظامات کرنے کی ضرورت ہے جو اس ٹیکنالوجی کو خطرناک حد تک بے قابو ہونے سے روک سکیں۔

اے آئی کے خطرات کیا ہیں؟
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ترک نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے تمام ممکنہ خطرات کی تفصیل بیان نہیں کی، تاہم ان کے دفتر کی ایک ترجمان نے کہا کہ طاقتور اے آئی نظاموں میں خرابی یا ان کا غلط استعمال اہم بنیادی ڈھانچے، مواصلاتی نظام اور جمہوری اداروں کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایسے نظاموں کو کنٹرول کرنے لگے جو بجلی، پانی، مواصلات، بینکاری یا دیگر اہم خدمات فراہم کرتے ہیں تو کسی سنگین خرابی یا غلط استعمال کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح جمہوری نظام بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی معلومات، جعلی تصاویر اور ویڈیوز، سیاسی پروپیگنڈا اور بڑے پیمانے پر گمراہ کن مواد تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے عوام کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ترک نے خبردار کیا کہ اس وقت مصنوعی ذہانت کی طاقت پر بہت کم تعداد میں لوگوں کا غیر معمولی اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے کسی فرد یا کمپنی کا نام لیے بغیر کہا کہ چند افراد کے پاس اے آئی پر تقریباً لامحدود طاقت موجود ہے۔

دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں میں اوپن اے آئی، گوگل، میٹا اور اینتھروپک شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ کم از کم ان ممالک کو، جہاں مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور جو ممالک اس ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا حصہ ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایسی واضح حدود مقرر کرنی چاہئیں جنہیں اے آئی کے استعمال میں عبور نہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آزادانہ طور پر تصدیق کرنے کا نظام بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان سکیورٹی کے حوالے سے تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ترک نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے انسانی حقوق پر اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس ٹیکنالوجی کے روزگار، جمہوریت اور ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

07/09/2026

کرو کرو پیٹرول اور مھنگا کرو
🤣
ہم نے کونسا بہروانا ہے.

جھگڑا ٹھنڈا ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے۔ بااثر حلقے کسی نئے تجربے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جن میں اسمبلیوں کی معطلی ا...
06/09/2026

جھگڑا ٹھنڈا ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے۔ بااثر حلقے کسی نئے تجربے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جن میں اسمبلیوں کی معطلی اور ایک ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا عمل شامل بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مشاہد حسین سید کو اس نئے سیٹ اپ میں وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اسمبلیوں کی معطلی کے لیے کسی مضبوط جواز کا ہونا ضروری ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں یہ ممکن نظر نہیں آتا، تاہم منصوبہ سازوں کے پاس مختلف حکمتِ عملیاں موجود ہوتی ہیں اور وہ کوئی نیا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

چند روز قبل میں نے چاروں صوبوں کے آئی جیز کی تبدیلی کے عمل کے بارے میں خبر دی تھی، جس پر کام جاری ہے اور صرف اعلان ہونا باقی ہے۔

پہلے صرف آئی جیز کی تبدیلی زیرِ غور تھی، لیکن اب چیف سیکریٹریز کی تبدیلی پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔

سندھ کے چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ کی جگہ نئے چیف سیکریٹری کے لیے تین نام شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک کی تقرری متوقع ہے۔

یہ تین بیوروکریٹس ہیں:

1. جواد پال، PAS گریڈ 22 (وفاقی سیکریٹری تجارت)
2. ساجد بلوچ، PAS گریڈ 22 (وفاقی سیکریٹری نیشنل سکیورٹی ڈویژن)
3. زاہد حسین عباسی، PAS گریڈ 21 (سیکریٹری تعلیم سندھ)

صدر آصف علی زرداری کا لندن میں قیام، محسن نقوی کا صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کرانے سے متعلق بیان، اور اسلام آباد میں جاری سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ طاقتور حلقے کسی نئے ایڈونچر کی تیاری کر رہے ہیں۔

اب اس عمل کے نتائج کیا نکلتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ان نتائج کی انہیں نہ کل پرواہ تھی اور نہ ہی کل ہوگی۔

نیشنل پالیسی ڈائیلاگ یا یکطرفہ مکالمہ؟بات صوبوں کی حدود اور نئے انتظامی یونٹس کی ہو رہی ہے، مگر مقررین کی فہرست میں نہ س...
05/09/2026

نیشنل پالیسی ڈائیلاگ یا یکطرفہ مکالمہ؟

بات صوبوں کی حدود اور نئے انتظامی یونٹس کی ہو رہی ہے، مگر مقررین کی فہرست میں نہ سندھی، نہ بلوچ اور نہ ہی پشتون نمائندگی نظر آتی ہے۔
اگر صوبوں کے مستقبل پر فیصلوں اور بحث میں صوبوں کی آواز ہی شامل نہ ہو تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ صوبائیت پھیلانے کا الزام کس پر اور کیوں؟

اشفاق آذر، سینئر صحافی

لیڈی ٹیچر کے خلاف مبینہ سازشلاڑکانہ: لیڈی ٹیچر رخسانہ شیخ کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، معاملے کی تحقیقات ہونی چ...
05/09/2026

لیڈی ٹیچر کے خلاف مبینہ سازش

لاڑکانہ: لیڈی ٹیچر رخسانہ شیخ کو مبینہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

لاڑکانہ میں احتجاج کرنے والے ہدایت اللہ بگٹی کے بارے میں مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا مبینہ تعلق محکمۂ تعلیم کے کلرک گلشن بگٹی سے ہے، جو ڈائریکٹر پرائمری لاڑکانہ کے دفتر میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق لیڈی ٹیچر رخسانہ شیخ کی جانب سے محکمۂ تعلیم میں مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے اور مختلف معاملات سامنے لانے کے بعد انہیں ہراساں کرنے کی مبینہ کوششیں کی جا رہی ہیں، جن میں ہدایت اللہ بگٹی کا نام بھی بطور سہولت کار سامنے آ رہا ہے۔

لیڈی ٹیچر رخسانہ شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی آئی جی لاڑکانہ، ایس ایس پی لاڑکانہ اور محکمۂ تعلیم کے متعلقہ حکام اس معاملے کا شفاف اور غیر جانبدارانہ نوٹس لیں، مبینہ ہراسگی کی تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ڈی جی (سی) جنرل فيصل نصير  کو نیکٹا کی اضافی چارج دیکر نیکٹا کا کوآرڈینیٹر مقرر کردیا گیا
04/09/2026

ڈی جی (سی) جنرل فيصل نصير کو نیکٹا کی اضافی چارج دیکر نیکٹا کا کوآرڈینیٹر مقرر کردیا گیا

Address

Karachi Sindh
Karachi
05444

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tum News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share