06/09/2026
جھگڑا ٹھنڈا ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا ہے۔ بااثر حلقے کسی نئے تجربے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جن میں اسمبلیوں کی معطلی اور ایک ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کا عمل شامل بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مشاہد حسین سید کو اس نئے سیٹ اپ میں وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اسمبلیوں کی معطلی کے لیے کسی مضبوط جواز کا ہونا ضروری ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں یہ ممکن نظر نہیں آتا، تاہم منصوبہ سازوں کے پاس مختلف حکمتِ عملیاں موجود ہوتی ہیں اور وہ کوئی نیا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
چند روز قبل میں نے چاروں صوبوں کے آئی جیز کی تبدیلی کے عمل کے بارے میں خبر دی تھی، جس پر کام جاری ہے اور صرف اعلان ہونا باقی ہے۔
پہلے صرف آئی جیز کی تبدیلی زیرِ غور تھی، لیکن اب چیف سیکریٹریز کی تبدیلی پر بھی کام شروع ہو چکا ہے۔
سندھ کے چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ کی جگہ نئے چیف سیکریٹری کے لیے تین نام شارٹ لسٹ کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک کی تقرری متوقع ہے۔
یہ تین بیوروکریٹس ہیں:
1. جواد پال، PAS گریڈ 22 (وفاقی سیکریٹری تجارت)
2. ساجد بلوچ، PAS گریڈ 22 (وفاقی سیکریٹری نیشنل سکیورٹی ڈویژن)
3. زاہد حسین عباسی، PAS گریڈ 21 (سیکریٹری تعلیم سندھ)
صدر آصف علی زرداری کا لندن میں قیام، محسن نقوی کا صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کرانے سے متعلق بیان، اور اسلام آباد میں جاری سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ طاقتور حلقے کسی نئے ایڈونچر کی تیاری کر رہے ہیں۔
اب اس عمل کے نتائج کیا نکلتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ان نتائج کی انہیں نہ کل پرواہ تھی اور نہ ہی کل ہوگی۔