26/05/2026
پاکستان میں آج جس طرح آئین و قانون کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ کسی جمہوری معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر ایک کے بعد ایک جعلی مقدمات قائم کیے جارہے ہیں، ایک کیس میں ضمانت ملتی ہے تو فوراً دوسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ یہ انصاف نہیں بلکہ سیاسی انتقام کا کھلا مظاہرہ ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ نام نہاد جمہوری جماعتیں، خود کو لبرل کہنے والے طبقات، صحافی، دانشور اور انسانی حقوق کے دعوے دار سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ اور میڈیا کو محدود اور کنٹرول کرنے کی کوششیں ملک کو جمہوریت سے مزید دور لے جارہی ہیں۔
جب ریاست میں اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جائے، میڈیا خاموش ہو اور انصاف کمزور پڑ جائے تو پھر جمہوریت صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔