24/05/2026
کوئٹہ دھماکہ ہمارے انٹیلیجنس اداروں کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔
جو "یس سر" کے چکر میں صرف ایک سیاسی جماعت پر مرکوز ہیں۔۔۔۔
پاکستان آج تاریخ کے سیاہ ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں سرحدیں غیر محفوظ ہیں اور عوام لاوارث۔
یہ تباہی اس وقت شروع ہوئی جب اداروں نے حلف کی پاسداری چھوڑ کر سیاست کو اپنی جاگیر سمجھ لیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا .”
کہ بلوچستان میں حالات اتنے خراب نہیں جتنے خیبرپختونخوا میں ہیں، اور بلوچستان میں دہشتگردی پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔.”
پھر محسن نقوی جو 26 نومبر ڈی چوک پرامن لوگوں کا قاتل ہے نے کہا .
”بلوچستان میں دہشتگردی ایک ایس ایچ او کی مار ہے۔.”
بلوچستان میں معصوم شہریوں کی ٹرین کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، درجنوں گھر اجڑ گئے اور پورا ملک سوگوار ہے، مگر افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں اور مقتدر حلقوں میں مجرمانہ خاموشی ہے۔ جب ریاست کی تمام تر طاقت، انٹیلیجنس، وسائل اور توجہ صرف ایک سیاسی جماعت کو کریش کرنے، سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے اور ایک مقبول لیڈر کو دیوار سے لگانے پر لگی ہو، تو سرحدیں اور معصوم شہری ایسے ہی لاوارث چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے کیونکہ ہمارے محافظوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ اب بھی وقت ہے، اس سیاسی انتقام کے تماشے کو بند کریں اور ملک کی سلامتی پر توجہ دیں۔
جب تک ادارے اپنی آئینی حدود سے باہر نکل کر ملک چلانے کی کوشش کریں گے، ریاست ایسے ہی جلتی رہے گی۔ اصل دشمن دندناتا پھر رہا ہے اور محافظ سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ ملک کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار وہی ہیں جنہوں اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر سیاست کو اپنا میدان بنا لیا۔