01/03/2026
سائل، روزہ اور ایک روٹی کا واقعہ
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں اور ان کے گھر میں افطاری کے لیے صرف ایک روٹی موجود تھی۔
* سائل کی آمد: ابھی شام نہیں ہوئی تھی کہ ایک سائل (مانگنے والا) دروازے پر آیا اور صدا لگائی۔ حضرت عائشہ نے اپنی خادمہ سے فرمایا: "یہ روٹی اس سائل کو دے دو۔"
* خادمہ کی تشویش: خادمہ نے حیرت سے عرض کیا: "اے ام المومنین! اگر میں نے یہ روٹی اسے دے دی تو آپ افطار کس چیز سے کریں گی؟ گھر میں اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔"
* پختہ یقین: حضرت عائشہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دوبارہ حکم دیا: "اسے دے دو، اللہ مالک ہے۔"
غیب سے مدد
خادمہ کہتی ہے کہ میں نے وہ روٹی سائل کو دے دی، جبکہ میرے دل میں یہ فکر تھی کہ اب افطاری کے وقت کیا ہوگا۔ ابھی مغرب کا وقت قریب ہی تھا کہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
* غیر متوقع تحفہ: ایک شخص نے بھنا ہوا گوشت (بکری کا گوشت) اور اس کے ساتھ بہترین سالن ہدیہ بھیجا۔
* حیرت انگیز بدلہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی خادمہ کو بلایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا:
> "کھاؤ! یہ تمہاری اس روٹی سے بہتر ہے (جو تم نے سائل کو دی تھی)۔"
>
اس واقعے کا سبق
یہ واقعہ بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں چند گہرے نکات پوشیدہ ہیں:
* ایثار کی انتہا: اپنے پاس موجود واحد چیز بھی دوسرے کو دے دینا، جبکہ خود اس کی ضرورت ہو۔
* اللہ پر توکل: اس یقین کے ساتھ صدقہ کرنا کہ اللہ کبھی خالی ہاتھ نہیں چھوڑتا۔
* فوری جزا: بعض اوقات اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اپنی نعمتوں کا مشاہدہ کرا دیتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ پیش کر دیتا ہے، تو کائنات کا مالک اس کے لیے ایسے راستوں سے رزق بھیجتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔