حضرت عائشه صدّيقه رضي الله عنها

حضرت عائشه صدّيقه رضي الله عنها اللہ نے سوّر کی طرح نجس کسی کو پیدا نہیں کیا لیکن وہ شخص سوّر سے زیادہ نجس ہیے جس کے دل میں اصحاب محمدؐ اور امہات المومنینؓ کا بغض ھو

سائل، روزہ اور ایک روٹی کا واقعہایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں اور ان کے گھر میں افطاری کے لیے صرف ایک ...
01/03/2026

سائل، روزہ اور ایک روٹی کا واقعہ
ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روزے سے تھیں اور ان کے گھر میں افطاری کے لیے صرف ایک روٹی موجود تھی۔
* سائل کی آمد: ابھی شام نہیں ہوئی تھی کہ ایک سائل (مانگنے والا) دروازے پر آیا اور صدا لگائی۔ حضرت عائشہ نے اپنی خادمہ سے فرمایا: "یہ روٹی اس سائل کو دے دو۔"
* خادمہ کی تشویش: خادمہ نے حیرت سے عرض کیا: "اے ام المومنین! اگر میں نے یہ روٹی اسے دے دی تو آپ افطار کس چیز سے کریں گی؟ گھر میں اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔"
* پختہ یقین: حضرت عائشہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دوبارہ حکم دیا: "اسے دے دو، اللہ مالک ہے۔"
غیب سے مدد
خادمہ کہتی ہے کہ میں نے وہ روٹی سائل کو دے دی، جبکہ میرے دل میں یہ فکر تھی کہ اب افطاری کے وقت کیا ہوگا۔ ابھی مغرب کا وقت قریب ہی تھا کہ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
* غیر متوقع تحفہ: ایک شخص نے بھنا ہوا گوشت (بکری کا گوشت) اور اس کے ساتھ بہترین سالن ہدیہ بھیجا۔
* حیرت انگیز بدلہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی خادمہ کو بلایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا:
> "کھاؤ! یہ تمہاری اس روٹی سے بہتر ہے (جو تم نے سائل کو دی تھی)۔"
>
اس واقعے کا سبق
یہ واقعہ بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں چند گہرے نکات پوشیدہ ہیں:
* ایثار کی انتہا: اپنے پاس موجود واحد چیز بھی دوسرے کو دے دینا، جبکہ خود اس کی ضرورت ہو۔
* اللہ پر توکل: اس یقین کے ساتھ صدقہ کرنا کہ اللہ کبھی خالی ہاتھ نہیں چھوڑتا۔
* فوری جزا: بعض اوقات اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اپنی نعمتوں کا مشاہدہ کرا دیتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ پیش کر دیتا ہے، تو کائنات کا مالک اس کے لیے ایسے راستوں سے رزق بھیجتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ توکل اور ایمان کی وہ عظیم الشان داستان ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے...
28/02/2026

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ توکل اور ایمان کی وہ عظیم الشان داستان ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ محض ایک قصہ نہیں، بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب بندہ اپنے رب پر کامل بھروسہ کر لیتا ہے تو کائنات کے اٹل قوانین بھی اس کے لیے بدل دیے جاتے ہیں۔
آزمائش کا پس منظر
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے دور میں بت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی اور کلہاڑے سے بتوں کو پاش پاش کر دیا، تو نمرود اور اس کے درباریوں نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ایسی سزا دی جائے جو رہتی دنیا تک عبرت بن جائے۔ انہوں نے مہینوں تک لکڑیاں جمع کیں اور ایک بہت بڑی خندق میں آگ دہکائی۔ تاریخ لکھتی ہے کہ آگ کے شعلے اتنے بلند تھے کہ اوپر سے گزرنے والے پرندے بھی جھلس کر گر جاتے تھے۔
منجنیق اور تنہائی کا عالم
آگ کی تپش اتنی زیادہ تھی کہ کوئی انسان اس کے قریب جانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کے لیے ایک منجنیق (آلہ) تیار کیا گیا۔ جب آپؑ کو اس میں باندھ دیا گیا، تو اس وقت زمین و آسمان کی تمام مخلوقات لرز اٹھیں۔ مچھلیاں، پرندے اور فرشتے اللہ سے فریاد کرنے لگے کہ "اے باری تعالیٰ! تیرا خلیل آگ میں ڈالا جا رہا ہے، ہمیں اجازت دے کہ ہم ان کی مدد کریں۔"
فرشتوں کی آمد اور خلیل اللہ کا جواب
اس نازک ترین لمحے میں، جب آپؑ فضا میں تھے اور آگ کی طرف بڑھ رہے تھے، جبرائیل امین علیہ السلام نمودار ہوئے اور عرض کیا:
"اے ابراہیم! کیا آپ کو میری کوئی حاجت ہے؟ اگر آپ کہیں تو میں اپنے پروں کی ایک جنبش سے اس آگ کو بجھا دوں یا زمین کو الٹ دوں۔"
حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو توکل کے اس مقام پر تھے جہاں اللہ کے سوا کوئی نظر نہیں آتا، انہوں نے نہایت سکون سے جواب دیا:
> "تم سے تو کوئی حاجت نہیں، لیکن میرے رب کو میرا حال معلوم ہے۔"
>
آپؑ کی زبان پر اس وقت یہ کلمات تھے: "حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ" (ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے)۔
فطرت کا بدلنا: نار کا گلزار بننا
جیسے ہی خلیل اللہ آگ کے شعلوں میں پہنچے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگ کو مخاطب کر کے حکم دیا:
قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓى اِبْرٰهِيْمَ
(ترجمہ: ہم نے حکم دیا، اے آگ! ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم پر سلامتی والی بن جا۔)
اللہ نے صرف "ٹھنڈی" ہونے کا حکم نہیں دیا، بلکہ "سلامتی" کا لفظ بھی ساتھ لگایا، کیونکہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اگر صرف ٹھنڈی ہونے کا حکم ہوتا تو شاید آگ برف کی طرح جما دیتی۔ وہ آگ جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی تھی، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ریشم کے بستر اور پھولوں کے باغ جیسی بن گئی۔ نمرود حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ آگ کے عین وسط میں ابراہیم علیہ السلام اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں۔
سبق اور اصلاحی پیغام
* توکل کیا ہے؟ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب اختیار نہ کیے جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تمام اسباب ختم ہو جائیں تو مایوس ہونے کے بجائے "مسبب الاسباب" (اللہ) پر نظر رکھی جائے۔
* اللہ کی پہچان: یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ آگ میں جلانے کی تاثیر اللہ نے رکھی ہے، اور وہ جب چاہے اپنی دی ہوئی تاثیر واپس لے سکتا ہے۔
* آزمائش کا انعام: اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ضرور ہے، لیکن جب بندہ صبر اور توکل پر پورا اترتا ہے، تو اللہ اسے ایسی عزت عطا کرتا ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی دنیا اسے "خلیل اللہ" کے نام سے یاد کرتی ہے۔


Address

Jamia Dar Ul Uloom Karachi Korangi Industrial Area
Karachi
74900

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حضرت عائشه صدّيقه رضي الله عنها posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category