26/03/2025
*جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کا بطور چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن (NIRC) استعفیٰ – مزدوروں کے حقوق کے لیے بڑا دھچکا*
*"جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کا بطور چیئرمین NIRC مستعفی ہونا مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انہوں نے صرف چار ماہ قبل NIRC کا چارج سنبھالا تھا اور اس مختصر عرصے میں مزدوروں کے حق میں کئی اہم اور تاریخی فیصلے کیے۔ ان کے دور میں محنت کشوں کو انصاف تک فوری رسائی دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کئی انقلابی اقدامات کیے گئے۔
*"جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کے نمایاں اقدامات میں شامل ہیں:*
*فل بینچ سماعت کا ویڈیو لنک کے ذریعے انعقاد: اس اقدام سے ملک کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کو بڑی سہولت ملی، اور وہ بغیر کسی مالی بوجھ کے اپنی شنوائی کروا سکے۔*
*سماعتوں کی شفافیت: NIRC کی سماعتوں کو فیس بک اور یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ، تاکہ محنت کش اور ان کے نمائندے عدالتی کارروائی سے براہ راست آگاہ رہ سکیں۔*
*مقدمات کی فوری سماعت: لیبر کیسز میں تاخیر کو ختم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر سماعتوں کا آغاز، جس سے مزدوروں کو بروقت انصاف ملنا ممکن ہوا۔*
*پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف کیسز گزشتہ ساڑھے چار سال سے این آئی آر سی میں زیر التواء تھے ان کیسز کی فوری سماعت کا آغاز*
*مزدوروں کے حقوق کا تحفظ: یونین سازی کے بنیادی حق کو محفوظ بنانے کے لیے واضح احکامات جاری کیے اور صنعتی تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔*
*آزادانہ فیصلے: سرمایہ دار طبقے کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے مزدوروں کے حق میں آزادانہ فیصلے سنائے، جس نے محنت کشوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔*
*"جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں NIRC نے محنت کشوں کی آواز کو بلند کرنے اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے بے مثال کام کیا۔ ان کا استعفیٰ مزدور طبقے پر بجلی بن کر گرا ہے، اور ہم ان سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ وسیع تر قومی اور محنت کشوں کے مفاد میں اپنا استعفیٰ واپس لیں۔"*
*ہم صدر پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کا استعفیٰ منظور نہ کریں اور انہیں اپنی ذمہ داریوں پر برقرار رکھیں تاکہ ملک کے لاکھوں مزدوروں کو انصاف تک بروقت اور شفاف رسائی حاصل رہے۔*
*"ہم NIRC میں جاری اصلاحات کے تسلسل اور محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی قیادت کو ناگزیر سمجھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔"*
منجانب: پاکستان اسٹیل پروگریسیو لیبر یونین رجسٹرڈ