03/06/2026
کراچی: پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبد الرحیم نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قوم کو ایسے بجٹ کی توقع ہے جو محض سرکاری اعداد و شمار اور مالی اہداف تک محدود نہ ہو بلکہ عام آدمی کے مسائل کے حقیقی حل اور قومی معیشت کی بحالی کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مہنگائی، بے روزگاری، غربت، بڑھتے ہوئے قرضوں، توانائی بحران، کاروباری جمود اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، اس لیے آئندہ بجٹ کی اولین ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہونی چاہیے۔
سردار عبد الرحیم نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ، مزدور، کسان اور چھوٹے کاروباری طبقے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی بوجھ کم کرے، ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے اور نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نظام میں اصلاحات لائے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے کسانوں کو سستی بجلی، کھاد، معیاری بیج اور آسان زرعی قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ پانی کی قلت، زرعی لاگت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
سردار عبد الرحیم نے کہا کہ ملک کی بڑی نوجوان آبادی روزگار کے مواقع کی منتظر ہے۔ حکومت کو صنعتوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، آئی ٹی سیکٹر اور برآمدی شعبے کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں اور نوجوانوں کو باعزت روزگار مل سکے۔
انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو قومی ترجیحات میں شامل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں جبکہ سرکاری اسپتالوں کی حالت عوام سے پوشیدہ نہیں۔ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے جائیں اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
سردار عبد الرحیم نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کا سب سے بڑا مرکز اور قومی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والا شہر ہے، لیکن بدقسمتی سے آج بھی پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ، صفائی ستھرائی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار انفراسٹرکچر جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ وفاقی بجٹ میں کراچی کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج، ماس ٹرانزٹ منصوبوں، پانی کی فراہمی اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے دیہی علاقوں، بلوچستان، جنوبی پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور دیگر پسماندہ خطوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے بغیر قومی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ بجٹ میں علاقائی محرومیوں کے خاتمے اور متوازن ترقی کے لیے خصوصی وسائل مختص کیے جائیں۔
سردار عبد الرحیم نے زور دے کر کہا کہ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل ایک ایسے عوام دوست، کسان دوست، مزدور دوست اور کاروبار دوست بجٹ کی حمایت کرتی ہے جو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ عوامی خوشحالی، روزگار کے مواقع، سرمایہ کاری کے فروغ اور قومی یکجہتی کا باعث بنے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجٹ سازی کے عمل میں عوامی مفاد، معاشی انصاف، صوبائی حقوق اور قومی ترقی کو مقدم رکھا جائے تاکہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات سے نکالا جا سکے۔