21/05/2020
📢 *خبردار ہوشیار .........!*
🔥 *لڑکیوں میں ہم جنسیت کا بڑھتا ہوا رجحان..* 🔥
آج کل یورپ کی طرح مسلم دنیا بھی اس فعل بد کی لپیٹ میں ھے ،
وجہ سادہ سی ہے کہ ہم میں سے بعض والدین ، سربراہ اپنے بچوں کی طرح بچیوں کو بھی آزاد ماحول فراہم کرنے کی تگ و دو میں ھیں ،
اور یہ سمجھتے ھیں کہ اس سے انکا 🎗️ *confidence* بحال ھوگا ،
اور انکو انکی زندگی کے فیصلوں میں مکمل آزادی دے کر یہ بھول جاتے ھیں اسلامی رو سے انکے حقوق کیا ھیں جس اسلام نے عورت کو اپنے بند کمرے میں بھی بلند آواز سے تلاوت کرنے سے منع کیا ھو آج اس اسلام کی بیٹی آج اپنی قلبی تسکین کیلئے ہر جائز اور ناجائز کام کو اپنا اخلاقی حق سمجھنے لگی ھے اور ایسے ایسے مقامات کی طرف قدم اٹھانے لگ جاتی ھے جہاں اگر ایک بار پاؤں پھسل جائے تو یہ صرف اس کی ذات یا خاندان نھیں بلکہ پوری قوم کیلئے بدنما داغ بن جاتا ھے ۔
تمام والدین کی یہ خواہش ھے کہ آج اسکی اولاد جدید ٹیکنالوجی سے واقف ھو ،
ایسا سوچنا غلط نھیں ھے انھیں اس میں مہارت ھونی چاھئے مگر اس کی ایک حد ھونی چاھئے جہاں تک علمی ترقی کا حصول ممکن ھو ۔
اور آج کی ٹیکنالوجی مثلاً انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ، ٹی وی وغیرہ اخلاقیات کتنا نقصان پہنچارہی ھے کہ ھم سوچ بھی نھیں سکتے ۔
اور ان تمام چیزوں کا استعمال ھم اپنی اولاد کا بنیادی حق سمجھتے ہیں ،
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ذہنی انحطاط کا ضامن ہے اور ھمارے بچے ، بچیاں اس کو استعمال کرنے کی احتیاط سے ناواقف ھیں اور اپنے متعلق تمام تر معلومات چند سیکنڈز میں یہ جانے بغیر اپلوڈ کردیتے ھیں کہ یہ انکی پرائیویسی کیلئے کس قدر خطرناک ھے اس کے نتیجے میں آئے دن ھماری بچیاں جنسی ہراسانی کا شکار ھوتی رہتی ھیں ،
بعض کے ذہنوں میں یہ سوال بھی آئگا کہ ھم جو ڈیٹا سوشل میڈیا یا نیٹ پہ اپلوڈ کرتے ھیں اس پر پرائیویسی کا خیال رکھتے ہیں کہ اسے ھمارے علاوہ کوئی اور دیکھ بھی نھیں سکتا ،
انکو یہ بات ذہن میں رکھنی چاھئے کہ یہ نیٹ اور سوشل میڈیا کس کے تسلط میں ھے آپ جو بھی پرائیویسی سیٹنگ کرلیں وہ آپکا سارا ریکارڈ اسی پرائیویسی کے ذریعے محفوظ کرلیتے ھیں ،
انکی آپکے اسٹیٹس ، ڈی پی ، اور پوسٹس پر ہر وقت نظر رہتی ھے جس سے آپ کی شخصیت کا پتہ چلتا ھے اور وہ اپنے طریقے سے آپ کے ذہن کو بدلتے ھیں ،
آپ نے غور تو کیا ھوگا کے نیٹ استعمال کرتے ھوئے بعض اوقات کچھ ناپسندیدہ ایڈز آپکی نظروں کے سامنے آجاتے ھیں اس سے آپکے ذہن کو پرکھا جاتا ھے اگر آپ کسی ایسے ایڈ کو اوپن کرتے ھیں تو وہ پھر آپ کیلئے راستے کھولتے جاتے ھیں اور آپ آگے بڑھنے کی لگن میں ایسے مقام تک پہنچ جاتے ھیں جہاں شاید ھی کوئی ( الا ماشاءاللہ ) دامن بچا سکے ۔
پھر آپ اس کے عادی ھوجاتے ھیں اور پھر آپ انکے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن جاتے ھیں ۔
آپ کو یہ جان کر حیرانی ھوگی کہ جدید تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ ویب کی دنیا میں تقریباً 80 ٪ ویب سائٹس پورنو گرافی کو پروموٹ کر رھی ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یورپ میں یہ فقط انٹرٹینمںٹ نھیں بلکہ بزنس بن چکا ھے ،
اور اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم دنیا کو ھے جس کی نوجوان نسل اس گڑھے میں گرتی جارہی ھے ،
اور اب حال یہ ہے کہ ھماری بچیاں بھی دن بدن اس وائرس کا شکار ھوتی جارھی ھیں ،
خدارہ 🙏 اس بارے میں سوچیں اور اپنی بچیوں کی activities پر نظر رکھیں ،
بہتر ھے انہیں اس انٹرنیٹ کے فتنے سے ہی دور رکھیں اگر ایسا ممکن نہ ھو تو پھر ان احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے انکی عزت و آبرو کے محافظ بن جائیں ۔۔۔۔۔👇👇
اپنی بچیوں کو انکی سہیلیوں سے دوستی میں حد سے نہ گزرنے دیں.
انکے گھر رات گزارنے کی اجازت بالکل نہ دیں.
اس قسم کے جملوں پر فوراً متنبہ ہو جائیں:
میں تو اس سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتی ہوں.
میں تو اسکے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی.
اسی طرح سہیلی کے حسن کی حد سے زیادہ تعریف پر بھی کان کھڑے کر لیں.
حتی کہ انکی استانیوں کی ان میں غیر معمولی دلچسپی پر بھی شک کریں. کئی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں استانیوں نے اپنی سٹوڈنٹ لڑکیوں کو ورغلا کر جنسی تعلق قائم کیا.
بالخصوص گرلز ہاسٹلز میں یہ وباء بہت عام ہو چکی ہے.
بات یونیورسٹیوں اور کالجز سے ہوتی ہوئی اب سکولز تک آ چکی ہے.
بچیاں کونسا لٹریچر پڑھ رہی ہیں، ٹی وی، لیپ ٹاپ موبائل وغیرہ پر کیا دیکھ رہی ہیں، اس پر نظر رکھیں. ایسے طریقے موجود ہیں کہ آپ بچوں کے لیپ ٹاپ اور موبائل کی ہر خبر رکھ سکیں اور انہیں پتہ بھی نہ چلے. ان طریقوں کو ماہرین سے سیکھیں. ٹیکنالوجی میں بچوں سے ایک سٹیپ آگے رہنے کی کوشش کریں. لیکن بچوں کو ہرگز علم نہ ہو کہ انکی مانیٹرنگ ہو رہی ہے. بھاڑ میں گیا انگریزوں کا "پرائیویسی" کا درس.
یہ خبیث بچوں کو پرائیویسی کے بہانے والدین سے الگ کرتے ہیں اور پھر اس پرائیویسی کے دوران ان کے ذہنوں میں اپنی کتابوں اور میڈیا کے ذریعے زہر انڈیلتے ہیں اور ہم جنسیت کو ایک نارمل انسانی رویہ باور کرواتے ہیں.
آجکل ہر دوسرے بیسٹ سیلر ناول میں الحاد اور ہم جنسیت کی تعلیم ہے. ان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے.
کوئی بھی مذہب اس قبیح فعل کی اجازت نہیں دیتا. اسی لیے ہم جنسیت سے اگلا پڑاؤ الحاد ہے. ہم جنس پرستی کفر نہیں لیکن کفر کی طرف لے جانے والا راستہ اور شیطان کا ہتھیار ضرور ہے.
اور میرے نزدیک ایک انقلابی تجویز یہ ہے کہ اگر آپ کسی وجہ سے کم عمری میں انکی شادی کرکے ان پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالنا چاہتے تو کم از کم انکے نکاح میں تاخیر نہ کریں.
اپنے بچوں پر توجہ دیں، انکی جان کی ہی نہیں بلکہ انکے ایمان کی اور حیا کی بھی حفاظت کریں.