20/07/2024
#ردُّالالحاد_کورس #قسط:7
"نظریہ ارتقاء ایک فریب" (حصہ اول)
نظریہ ارتقاء کا تعارف:
نظریہ ارتقاء کے مطابق ساری جاندار اشیاء ایک اکیلے خلیے سے وجود میں آئیں،
پہلا خلیہ کیسے وجود میں آیا ؟ اس معمے کا نظریہ ارتقاء کے حامیوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے سوائے اس کے کہ غیر جاندار اجزا نے اتفاقا ایک خلیہ پیدا کر دیا۔ خلیے کے وجود میں آنے سے پانی میں انتہائی چھوٹے جاندار اجسام پھیلنا شروع ہو گئے اسی دور میں پانی میں مچھلیاں نمودار ہوئیں مچھلیاں عمل ارتقا کے زریعے بحری حیوانات میں تبدیل ہو گئیں "جانور" جو پہلے صرف پانی تک محدود تھے ، اب خوارک کی کمی یا محفوظ جائے پناہ کی خاطر پانی سے خشکی کی طرف منتقل ہونے لگے پھر زمین پر آئے اور رینگنے والی مخلوق میں تبدیل ہو گئے ان کی ابتدا چھوٹے جانوروں سے ہوئی۔ ان کے پچھلے پر دو ٹانگیں اور دم نمودار ہو گئی زمین پر رینگتے ہوئے جاندار خوراک کی تلاش میں درختوں پر چڑھنے لگے یہ ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتے پھرتے تھے اور یونہی چھلانگیں لگاتے لگاتے ان کے پر نکل آئے۔ کچھ رینگنے والوں کے جب پاوں نکلے تو انھوں نے مکھیاں پکڑنے کی کوشش میں دوڑتے ہوئے اپنے اگلے بازو لہرانے شروع کیے، آہستہ آہستہ ان کے اگلے بازو پروں میں تبدیل ہو گئے، یوں تمام جانوروں کی نسلیں ایک مشترکہ جدا امجد سے بذریعہ عمل ارتقا وجود میں آئیں۔
(حوالہ: احمد رضا، نظریہ ارتقاء اور اسلامی تعلیمات ، مقالہ : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، ص ۱۰)
انسانی ارتقاء کا منظر نامہ انیسویں صدی سے قبل مندرجہ بالا خیات و نظریات ایک گم نام نظریے کی حیثیت رکھتے تھے ۔ ۱۸۵۹ء میں چارلس ڈارون نے ایک فطری انتخاب کے ذریعے انواع کا ظہور ) نامی کتاب لکھ کر اس نظریے کو باضابطہ طور پر پیش کیا۔ ڈروان کے مطابق انسان اور بندر کا جد امجد ایک ہی ہے، گویا انسان بندر کا چچیر ابھائی ہے۔ ڈارون کے ہم نواؤں نے موجود انسان کا ارتقائی رشتہ چمپینزی جیسے بندروں سے ملایا ہے کچھ انتہا پسندوں نے تو انسان کو بندر کی اولاد تک قرار دے دیا ہے ان کے مطابق اس منزل تک پہنچے پہنچتے انسان کو چالیس لاکھ سال لگے پھر وہ آہستہ آہستہ شعور کی منزلیں طے کرنے لگا، لباس کا استعمال سیکھا، پتھر کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا مزید لاکھوں سالوں بعد آگ کا استعمال اور غاروں میں رہنا شروع کیا۔
نظریہ ارتقاء کی تفصیل:
نظریہ ارتقاء اور جس طرح اس کا دفاع کیا جاتا ہے، اسے پیش کرنے والا ایک انگریز غیر پیشہ ور نیچری یا فطرت پرست چارلس رابرٹ ڈارون تھا۔
ڈارون نے حیاتیات کی رسمی تعلیم کبھی بھی حاصل نہیں کی تھی۔ اسے نیچر یا فطرت اور جاندار چیزوں کے موضوع میں
صرف شوقیہ حد تک دلچسپی تھی۔ اس کی یہ دلچسپی بڑھی تو اس نے رضا کارانہ طور پر ایک مہم میں شامل ہو کر H.M.S.Beagle نامی بحری جہاز کے ذریعے ۱۸۳۲ء میں انگلستان سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور پانچ برس کے عرصے میں دنیا کے مختلف خطے دیکھ ڈالے۔ ڈارون مختلف جانداروں کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوا۔ بالخصوص جزائر Galapagos میں نظر آنے والی سنہری چڑیوں نے اسے بہت متاثر کیا تھا۔ اس کے خیال میں ان کی چونچوں کا مختلف ہونا ان کے وطن یا جائے پیدائش کے مختلف ہونے کی وجہ سے تھا جس کے مطابق یہ مختلف شکلوں
میں ڈھل گئی تھیں۔
اس خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے یہ فرض کر لیا تھا کہ زندگی کا آغاز اور جانداروں کی ابتدا اسی تصور "ماحول و جگہ سے مطابقت پذیری " میں پوشیدہ ہے۔
ڈارون کے خیال میں مختلف جانداروں کو اللہ نے علیحدہ علیحدہ تخلیق نہیں کیا تھا بلکہ ان سب کا ایک ہی مشترکہ مورث اعلیٰ یا جد امجد تھا اور یہ بعد میں قدرتی حالات کے نتیجے میں ایک دوسرے سے مختلف ہو گئے تھے۔
ڈارون کے اس قیاس یا بے دلیل دعوے کی بنیاد کسی سائنسی دریافت یا تجربے پر مبنی نہ تھی۔
تاہم کچھ وقت گزرنے کے بعد اس نے اسے ایک جھوٹے دعوے پر منحصر نظریے کی شکل دے دی تھی جس کے لئے اسے اپنے عہد کے مشہور مادہ پرست حیاتیات دانوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی حاصل تھی۔
اس تصور کے مطابق افراد نے اپنے وطن اور جائے پیدائش کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا تھا اور پھر
بہتر سے بہتر طور پر اپنی خوبیاں بعد میں آنے والی نسلوں کو منتقل کر دی تھیں۔ یہ سود مند اوصاف وقت کے ساتھ ساتھ جمع ہوتے گئے اور انہوں نے ایک فرد کو اس کے آباؤ اجداد سے بالکل مختلف شکل میں ڈھال دیا تھا۔ (ان سود مند خوبیوں کے آغاز کے بارے میں اس وقت کچھ معلوم نہ تھا)۔
ڈارون کی رائے میں اس میکانکی عمل کا نہایت ترقی یافتہ نتیجہ انسانی شکل میں سامنے آیا۔ ڈارون نے اس سارے عمل کو "ارتقاء بذریعہ فطری انتخاب “ کا نام دیا۔ اسے خیال گزرا کہ اس نے جانداروں کی ابتداء کا راز معلوم کر لیا ہے۔ اور یہ کہ ایک جاندار کی ابتدائے آفرینش کسی دوسرے جاندار سے ہوئی۔
اس نے ان خیالات کا اظہار ۱۸۵۹ء میں اپنی
( The Origin of Species by means of Natura Selection)
جانداروں کی ابتداء بذریعہ فطری انتخاب میں کیا تھا۔
(حوالہ: ہارون یحیی، نظریہ ارتقاء ایک فریب، اسلامک ریسرچ سینٹر پاکستان، لاہور ، طبع ۲۰۰۲، ص ۲۱،۲۲۰).
(....... جاری ہے. حصہ دوم قسط نمبر.8 میں ملاحظہ فرمائیں)
(مستفاد از: الحادی نظریات کا تحقیقی مطالعہ)