31/07/2026
*متاثرہ خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لئے دو ارب روپے سے سیسی کا ایک اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس رقم میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے, سعید غنی*
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور ان کے اہلخانہ کے لئے ابتدائی طور پر سیسی کی جانب سے دو ارب روپے سے اینڈومنٹ فنڈز قائم کیا گیا ہے اور ضرورت ہوئی تو اس میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔ ہم نے ان متاثرہ بچوں کے علاج معالجہ کے حوالے سے پاکستان کے نامور ڈاکٹروں اور اسپتالوں جن میں آغا خان اسپتال، انڈس اسپتال، ہیلتھ کمیشن، ڈبلیو ایچ او سمیت اس مرض کے ماہرین پر مشتمل ایک اسٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں ساتھ ہی انڈانمنٹ فنڈز کے لئے بھی ایک آزاد اور خود مختار کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں ۔ ایچ آئی وی کی اسکریننگ سے کیسز میں اضافے کے خوف سے ہم کسی صورت اسکریننگ کے عمل کو نہیں روکیں گے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی اس مرض میں مبتلا ہو اور اس کا علم نہ ہوسکے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز کراچی کی مختلف لیبر فیڈریشن کے رہنمائوں سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں پیپلز لیبر بیورو، پائلز، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، ویرو، انٹرنیشنل یونین فوڈ، ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن، اسٹیٹ بینک ڈیموکریٹک ورکرز فیڈریشن، کراچی یونین آف جرنلسٹس و دیگر شامل تھی۔ اس موقع پر کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، فوکل پرسن ڈاکٹر سعادت میمن، ارکان گورننگ باڈی سیسی محمد خان ابڑو، ناصر منصور، زہرہ خان اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مختلف لیبر فیڈریشن کے عہدیداران نے ولیکا اسپتال اور لانڈھی اسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی مکمل صاف و شفاف تحقیقات کروائی جائے اور اس میں جو بھی ملوث ہوں ان کے خلاف بلا تفریق سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس موقع پر ان محنت کشوں کی مختلف فیڈریشن کی جانب سے صوبائی وزیر سعید غنی پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ صوبائی وزیر سعید غنی ان متاثرین کے علاج معالجہ اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے تمام وسائل اور اقدامات کو بروئے کار لائیں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ یہ اشیو اکتوبر 2025 میں جب سامنے آیا اس دن سے لے کر آج تک وہ نہ صرف خود تمام معاملات کو مانٹر کررہے ہیں بلکہ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ان متاثرہ بچوں کے علاج معالجہ کے حوالے سے پاکستان کے نامور ڈاکٹروں جن میں ڈاکٹر فیصل (آغا خان اسپتال)، ڈاکٹر طارق رفیع، ڈاکٹر فاطمہ میر، انڈس اسپتال کے ڈاکٹر عبد الباری، ڈاکٹر مہا طلعت ، ہیلتھ کمیشن، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر مختار بھٹو، ایچ آئی وی ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی ڈاکٹر کنول سمیت اس مرض کے ماہرین پر مشتمل ایک اسٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے ان متاثرہ خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لئے دو ارب روپے سے سیسی کا ایک اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس رقم میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے اور اس اینڈومنٹ فنڈز کے لئے ایک خودمختار اور آزاد کمیٹی جس میں معززین شہر کو شامل کیا جائے گا تاکہ شفافیت کا عمل ممکن ہوسکے۔ انہوں نے محنت کشوں کی فیڈریشن کے رہنمائوں کو یقین دہانی کروائی کہ محکمہ محنت سندھ اور میں خود تمام صورتحال کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ان متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلخانہ کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کروائی کہ اس تمام معاملات کی صاف و شفاف انکوائری کی جارہی ہے اور جو بھی اس میں ملوث ہوا اس کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کے ساتھ ساتھ کرمنل ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔
*میڈیا کنسلٹنٹ وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ*