25/05/2023
کیا ہی اچھا ہو کہ والدین گھروں میں ہی کچھ ایسے ہلکے پھلکے قانون بنا دیں جن پر عمل کر کے بچوں کے کردار میں پختگی آئے اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔
اس ضمن میں چند لوائح العمل یہ ہیں، والدین کو ان میں جو مناسب لگیں وہ اختیار کرلیں یا ان میں ترمیم و اضافہ کر لیں۔
01: گھر کا ہر فرد نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے گا۔
02: "برائے مہربانی" اور "شکریہ" کے کلمات بنیادی ضوابط ہونگے جن سے کوئی بھی بری نہیں ہوگا۔
03: کوئی "مار پٹائی"، کوئی "گالم گلوچ" یا کوئی بھی "لعن طعن" والی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے بدذوقی کا احساس ہو۔
04: اپنے محسوسات اور خیالات کو ادب و احترام اور وضاحت کے ساتھ بتا دیجیئے۔
05: جو کوئی بھی جس جس چیز کو (دروازہ، کھڑکی، ڈبہ، پلیٹ) کھولے گا اُسے بند بھی کرے گا، کچھ گر جائے تو اُسے اٹھائے گا اور جگہ کو اُس سے زیادہ صاف کر کے رکھے گا جیسے پہلے تھی۔
06: آپ کا کمرہ خالص آپ کی ذمہ داری ہے۔
07: جو کوئی بات کرے گا اُسے ٹوکے بغیر سنی جائے گی اور بات کو درمیان میں سے کوئی نہیں کاٹے گا۔
08: گھر میں داخل اور باہر جا تے ہوئے سلام کرنا ہوگا۔
09: گھر کا ہر فرد روزانہ قرآن مجید سے ایک حزب کی تلاوت کرے گا۔
10: جو ہم سے ملنے آئے وہ ہمارے قوانین کا احترام کرے۔
11: گھر کا کوئی بھی فرد اپنے کمروں میں جا کر کچھ نہیں کھائے گا۔
12: رات کو (XX:00) کے بعد کوئی بھی نہیں جاگے گا۔
13: سمارٹ فون اور ڈیوائسز صرف (00:00) سے لیکر (00:00) کے درمیان میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
14: والدین کیلیئے احتراما کھڑا ہونا، اُن کے سر پر بوسہ دینا یا اُن کے ہاتھ چومنا ضروری شمار ہوگا۔
15: مل کر بیٹھے وقت میں کسی قسم کی مواصلاتی ڈیوائس (فون/پیڈ) کا استعمال منع ہوگا۔
16: کھانے پینے کے وقت میں سب کی حاضری اور شمولیت ضروری ہوگی۔
17: رات کو (00:00) کے بعد کسی قسم کی تعلیمی سرگرمی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
18: گھر کے سارے افراد گھر اور گھر میں موجود ہر شئے کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
19: اپنا کام ہر کوئی خود کرے گا، کوئی کسی دوسرے پر حکم نہیں جھاڑے گا ہاں مگر گھر کے سربراہان اپنا کام کسی کو کہہ سکتے ہیں۔
20: خاندان اور اُس کی ضروریات کسی بھی دوسری ضرورت پر مقدم اور پہلے کی جانے والی شمار ہونگی۔
21: کوئی بھی کسی کے کمرے یا علیحدگی والی جگہ پر درزاہ کھٹکھٹائے یا اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر محمد راتب نابلسی کہتے ہیں کہ میں نے اس مضمون کو بہت ہی مفید پایا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ اسے اہمیت دیں کیونکہ اولاد کی تربیت ایک ایسا مشکل کام ہے جسے ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹے کرنا ہوتا ہے۔